30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لان المال لھم فیصرف باذنھم ولیس ھذاخلاف سبیل البرحتی یکرہ لھم الرجوع عنہ بل ربما یؤیدہ ویرغب الیتامٰی فی دخول ھذہ الجمیعۃ۔
کیونکہ مال ان کا ہے اس لئے ان کی اجازت سے خرچ کیاجائے اور یہ راہ نیکی کے خلاف نہیں ہے حتی کہ واپس لینا مکرو ہ ہے بلکہ اس میں نیکی کےلئے رغبت ہے اور یتیموں کو اس اجتماعیت میں شرکت کی رغبت ہوسکتی ہے(ت)
اور اگرسب سے اجازت نہ لے کر تو آئندہ مہینے کے چندے میں بقدر کفایت چند اشخاص سے اجازت لے لیجائے کہ تمہارا یہ چندہ جس حالت کے انقضا تك اس کام میں صرف ہوگا جو اجازت دیں ان کا چندہ باقی زرچندہ سے جدا رکھ کر خاص اس کام میں صرف کریں یہاں تك کہ پورا ہواور اگر کوئی اجازت نہ دے یا جس قدر پر اجازت پائی اس سے زیادہ اس کام میں اٹھایا جائے تو ضرور حرام ہوگا اور اس کا مواخذہ مہتمموں پر رہیگا اور جن جن کا وہ چندہ تھا ان سب کا تاوان ان پر لازم آئے گا لانھم تعدوا علی اموالھم والمتعدی غاصب والغصب مضمون(کیونکہ انہوں نے دوسرے کے مال پر تعدی کی ہے اور تعدی غصب ہے اور غاصب سے ضمان لیاجاتا ہے۔ت)اوراگر وہ یتیم حالت یتم سے یتیم خانہ میں تھے اور بعد ظہور بلوغ یا پندرہ سال کی عمر پوری ہونے کے یتیم خانہ سے ان پر صرف کیاگیا اور اجازت مذکورہ نصًا یاعرفًا ثابت نہ تھی تو سال بھر سے زائد یہ مواخذہ ذمہ مہتممان لازم اور تاوان ادا کرنا واجب ہوچکا صرف آئندہ سے سوال کیوں واﷲ الھادی بر دران اسلام کو احکام اسلام سے اطلاع دینی خیر خواہی ہے اورمسلمانوں کی خیرخواہی ہرمسلمان کا حق ہے والدین النصح لکل مسلم[1] (دین تمام مسلمانوں کیلئے خلوص اوربھلائی کانام ہے۔ت)واﷲسبحانہ وتعالٰی اعلم۔
مسئلہ۱۲۳: ازاکبر آباد جامع مسجد مسئولہ جناب مولوی محمد رمضان صاحب ۲۴صفر المظفر ۱۳۳۱ھ
حضرت مولانا بالفضل والمعرفۃ اولانامجدد مائۃ حاضرہ دام مجدکم،السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،ایك استفتا ارسال خدمت اقدس ہے،امید ہے کہ جواب باصواب سے جلد سرفراز فرمایا جاؤں،یہاں یہ مسئلہ درپیش ہے اور میری نظر سے ابھی کوئی نظیر ایسی نہیں گزری جس سے تشفی بخش جواب دیاجاسکتا،خیال ہوتا ہے کہ زید وکیل بالقبض ہے مگر ساراباب وکالت کا دیکھ ڈالا یہ صورت ایسی انوکھی ہے کہ صاف جواب نہیں ملتا،لہذا تصدیعہ وہ خدمت اقدس عالیہ ہو ا زیادہ والتسلیم بہزارتفخیم،عاجز محمد رمضان عفی عنہ واعظ جامع مسجد آگرہ۔
سوال:کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك مسجد کی تعمیر کے لئے چندہ کیا گیا عمرو نے پانچسو روپے کا ایك چك دیا جو نوٹ نہیں تھا بلکہ کتاب کا ورق تھا جس کے ذریعہ سے بنك سے روپیہ وصول کیا جاسکتا ہے کہ بنك سے روپیہ وصول کرکے اس رقم میں شامل کرلی جائے وہ چندہ زید کے پاس جمع ہوا جو اس مسجد کے متولیوں میں سے ایك متولی تھا اس نے چك کا روپیہ وصول نہیں کیا خواہ غفلت سے خواہ اس چك میں بنك کی جانب سے کوئی اعتراض ہو ازاں بعد زید کا انتقال ہوگیا اور ورثائے زیدنے بھی روپیہ وصول نہیں کیا ازاں بعد عمرو کا بھی انتقال ہوگیا باقی متولیان مسجد مذکورہ نے ورثائے زید پر اس جمع شدہ چندہ کی نالش کرکے ڈگری بھی حاصل کرلی ورثائے زید سے اس چك کا روپیہ وصول کرنا کہ ان کے مورث کی غفلت یا بنك کے کسی اعتراض کی وجہ سے وصول نہیں ہوا تھا شرعًا جائز ہے یانہیں؟اور ایسا روپیہ مسجد کی تعمیر میں لگانا درست ہے یانا درست؟یہ ملحوظ رہے کہ وہ چك اب کسی کام کا نہیں رہا،بینوابالکتاب تؤجروا عنداﷲ احسن ثواب(کتاب سے بیان کرو اور اللہ تعالٰی سے اجر وثواب پاؤ۔ت)فقط۔
الجواب:
صورت مسئولہ میں متولیان مسجد کی وہ نالش محض باطل تھی اور ڈگری سراسر خلاف شرع ہوئی،وہ روپیہ مسجد میں لینا نرا حرام ہے،اور اگر لے لیا ہے تو ورثائے زید کو واپس دینا فرض ہے،ظاہر ہے کہ روپیہ جو کوئی شخص بنك میں جمع کرتا ہے وہ بنك پر دین ہوتا ہے،عمرو نے جو وہ روپیہ تعمیر مسجد کو دیا اگرمسجد موجود تھی اور اس کی تعمیر کو دیا تو یہ مسجد کے لئے ہبہ ہوا،عالمگیریہ میں ہے:
رجل اعطی درھما فی عمارۃ المسجد او نفقۃ المسجد اومصالح المسجد صح لانہ ان کان لایمکن تصحیحہ وقفا یمکن تصحیحہ تملیکا بالھبۃ للمسجد فاثبات الملك للمسجد علٰی ھذاالوجہ صحیح ویتم بالقبض کذافی الواقعات الحسامیۃ[2]۔
اگر کسی شخص نے مسجد کی عمارت یا اس کے اخراجات یا مصالح کے لئے بطور چندہ ایك درہم دیا تو جائز ہے کیونکہ اگر وقف کے طور پر صحیح نہ ہوتو ہبہ کے طور پر اس کی صحت ہوسکتی ہے کہ مسجد کے لئے یہ تملیك ہوجائیگی جبکہ اس طرح مسجد کے لئے تملیك صحیح ہے اور قبضہ ہوجانے پر ہبہ تمام ہوجائے گا۔حسامیہ کے واقعات میں یونہی ہے(ت)
اسی طرح خزانۃ المفتین وغیرہا میں ہے اس تقدیر پر یہ ھبۃ الدین عمن غیر من علیہ الدین مع تسلیطہ علی القبض (غیر مدیون کو قبضہ پر اختیار دے کر دین کا ہبہ کیا گیا ہے۔ت)ہوا،متولیان مسجد موہوب لہ کے نائب اور عمرو کی طرف سے وکیل بقبض الدین ہوئے اور اگر ہنوز مسجد موجود نہ تھی بلکہ بنانا چاہتے تھے اسکے چندہ میں دیا تو ہبہ نہیں ٹھہراسکتے کہ معدوم کےلئے ہبہ ممکن نہیں متولی صرف وکیل بالقبض ہوئے،دونوں صورتوں میں جب تك قبضہ نہ ہوا روپیہ ملك عمروپر تھا،صورت ثانیہ میں توظاہر ہے کہ سرے سے ہبہ ہی نہ ہوا تو ملك مالك سے خروج کیا معنے،
وقد حققنا فی فتاوٰنا ان مایجمع من الناس لمصرف خیر بقی علی ملك المعطیین۔
ہم نے اپنے فتاوٰی میں یہ تحقیق کردی ہے کہ لوگوں سے کسی اچھے مصرف کےلئے جو چندہ جمع کیاجاتاہے وہ چندہ دینے والے لوگوں کی ملکیت ہی رہتا ہے۔(ت)
عالمگیری میں ذخیرہ سے ہے:
رجل جمع مالامن الناس لینفقہ کسی شخص نے لوگوں سے مسجد کی تعمیر کے لئے چندہ
فی بناء المسجد فانفق من تلك الدراہم فی حاجتہ ثم ردبدلہا فی نفقۃ المسجد لایسعہ ان یفعل ذٰلك فان فعل فان عرف صاحب ذٰلك المال رد علیہ اوسألہ تجدید الاذن فیہ [3] الخ۔
جمع کیا اور ان دراہم کو اس نے اپنی ذاتی ضرورت پر خرچ کرلیا پھر اس کے بدلے مسجد کی ضرورت میں اپنامال خرچ کیا تو ایسا کرنے کا اس کو اختیار نہیں ہے اگر کرلیا تو چندہ دینے والوں کوچندہ واپس کرے یا ان سے نئی اجازت طلب کرے اگر چندہ دینے والوں کا علم ہو۔(ت)
او رصورت اولٰی میں اس لئے کہ ہبہ بے قبضہ تمام ومفید ملك موہوب لہ نہیں ہوتا،ابھی واقعات حسامیہ وہندیہ سے ہبہ مسجد میں گزرا کہ یتم بالقبض(قبضہ ہوجانے سے ہبہ تام ہوجاتا ہے۔ت)اسعاف پھر بحرالرائق پھر عالمگیریہ میں ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع