دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 16 | فتاوی رضویہ جلد ۱۶

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۶

یصدق المملك لانہ اعرف فقول العالم اولٰی بان یقبل من قول الجاہل الافیما یکذب عرفا[1]۔

مالك بنانے والے کی تصدیق کی جائے گی کیونکہ وہ بہتر جانتا ہے تو جاننے والے کی بات کو ماننا اولٰی ہے بجائے اس کے کہ جاہل کی بات مانی جائے الّایہ کہ عرف اس کو جھوٹا قرار دے(ت)

ہدایہ میں ہے:

(من بعث الٰی امرأتہ شیئا فقالت ھوھدیۃ وقال الزوج ھو من المھر فالقول قولہ)لانہ ھوالمملك فکان اعرف بجہۃ التملیك کیف وان الظاھر انہ یسعی فی اسقاط الواجب(الٰی فی الطعام الذی یؤکل)فان القول قولھا او المراد منہ مایکون مھیأ للاکل لانہ یتعارف ھدیۃ[2]   الخ۔

جس نے بیوی کو کوئی چیز بھیجی تو بیوی نے کہا یہ ہدیہ ہے اور خاوند نے کہا یہ مہر میں شمار ہے،توخاوند کی بات معتبر ہے کیونکہ وہ مالك بنانے والا ہے تو وہی تملیك کی وجہ کو بہتر جانتا ہے اس کے خلاف کیسے ہوسکتا ہے جبکہ ظاہریہ ہے کہ خاوند اپنے ذمہ واجب کی ادائیگی میں کوشاں ہے ہاں کھائی جانیوالی چیز میں یہ بات ظاہر نہیں کیونکہ اس میں بیوی کی بات معتبر ہے اس سے مراد یہ ہے کہ وہ چیز کھانے کے لئے مہیا کی گئی ہو کیونکہ عرفًا ایسی چیز ہدیہ قرار پاتی ہے الخ(ت)

فتح القدیر میں ہے:

والذی یجب اعتبارہ فی دیارنا ان جمیعہ ماذکر من الحنطۃ واللوز والدقیق والسکر والشاۃ الحیۃ وباقیھا یکون القول فیہا قول المرأۃ لان المتعارف فی ذٰلك کلہ ارسالہ ھدیۃ فالظاھر مع المرأۃ لامعہ ولایکون القول لہ الافی نحوالثیاب والجاریۃ[3]۔

ہمارے دیار میں گندم،بادام،آٹا،شکر،زندہ بکری،اس کا گوشت وغیرہ مذکور ہ تمام اشیاء میں بیوی کی بات معتبر ہوگی کیونکہ عرف میں ان تمام چیزوں کو ہدیہ کے طور پر ارسال کیا جاتا ہے اس لئے ظاہر عورت کی تائید کرتا ہے نہ کہ مرد کی،خاوند کی بات صرف کپڑوں اور لونڈی وغیرہ جیسی چیزوں میں معتبر ہوتی ہے(ت)

نہر الفائق میں ہے:

وینبغی ان لایقبل قولہ ایضافی الثیاب المحمولۃ مع السکرونحوہ للعرف[4]

مناسب ہے کہ خاوند کی بات شکر وغیرہ کے ساتھ ارسال کئے گئے کپڑوں میں معتبرنہ ہوکیونکہ عرف یہی ہے(ت)

حاشیہ ابی السعود الازھری علی الکنز میں ہے:

ینبغی ان یکون القول لھا فی غیرالنقود للعرف المستمر[5]۔

مناسب ہے کہ نقود کے غیر میں بیوی کی بات معتبر ہو کیونکہ عرف میں یہی جاری ہے(ت)

ردالمحتار میں ہے:

کذامایعطیھا من ذٰلك اومن دراھم

یونہی شب زفاف کی صبح کو جو درہم یا دینار دئے جاتے ہیں

اودنا نیر صبیحۃ لیلۃ العرس ویسمی فی العرف صبیحۃ فان کل ذٰلك تعورف فی زمانھا کونہ ھدیۃ[6]۔

ان کو عرف میں صبحہ کہا جاتا ہے کیونکہ ہمارے زمانہ میں یہ ہدیہ ہونے پر عرف بن چکا ہے۔(ت)

پس صورت مستفسرہ میں اگر صراحۃً  ثابت ہے کہ زید وعمرووبکر نے یہ روپیہ اپنے باپ کو قرضًا دیا تھا تو ضرور واپس ہوگا، یاصراحۃً ثابت ہوکہ بطور حسن سلوك وخدمت پدر ہبۃً دیا تھا تو ہر گز واپس نہیں ہوسکتا  لتحقق موانع عدیدۃ للرجوع (رجوع کرنے میں متعدد موانع پائے جانے کی وجہ سے۔ت)یا ان کے یہاں معمول قدیم رہا ہوکہ جب کبھی ایسے صرف کی باپ کو ضرورت ہوئی ہے بیٹے اس کے شریك ہوئے ہیں اور وہ شرکت ہمیشہ بے قصد واپسی رہی ہے تو قول بقیہ ورثہ کا معتبر ہوگا کہ یہ دینا بھی اسی طرح تھاقرض نہ تھا دینے والے اگر مدعی ہوں کہ اس بارہم نے قرضًا دیا تھا تو ازانجا کہ ان کا وہ عرف باہمی اس دعوے کے خلاف ہے بارِ ثبوت ان کے ذمہ ہے۔فتاوٰی خیریہ میں ہے:

قدقال العلامۃ فی الاسرار امر رجلابان یعمل لہ عمل کذاولم ینطقا شیئا فی الاجر وعدمہ ان کان العامل من قبل ممن یعمل لہ او للناس مثل ھذاالعمل بغیر اجر کان متبرعا[7]۔

علامہ نے اسرار میں فرمایا ایك شخص نے دوسرے کو کوئی کام کرنے کو کہا اور اس پر انہوں نے معاوضہ ہونے نہ ہونے کا کوئی ذکر نہ کیا تو اگر کام کرنے والا قبل ازیں اس شخص کا کام بغیر اجرت کرتا رہتا ہے یادوسرے لوگوں کا کام بلااجرت کرتا رہتا ہے تو مفت شمار ہوگا۔(ت)

اور اگر سب کچھ نہ ہوتو عمرو بکر خود اور زید کے وارثوں کا قول قسم کے ساتھ معتبر ہوگا کہ یہ دینا بطور ہبہ نہ تھا مگر عمرو بکر کہ زندہ ہیں قطعی قسم کھائیں گے اور وارثان زید اپنے علم پر یعنی واللہ  ہمیں نہیں معلوم کہ ہمارے مورث زید نے یہ روپیہ اپنے باپ خالد کو ہبۃً دیاتھا،

 



[1]    جامع الفصولین فصل ۳۴ اسلامی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۱۷

   [2] الہدایۃ کتاب النکاح باب المہر المکتبۃ العربیۃ کراچی ۲/ ۳۱۷

[3]    فتح القدیر باب المہر مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳/ ۲۵۶

[4]    ردالمحتار بحوالہ النہر الفائق کتاب النکاح باب المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۳۶۴

[5]    فتح المعین علٰی شرح الکنز لملا مسکین کتاب النکاح باب المہر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲/ ۷۰

[6]   ردالمحتار کتاب النکاح باب المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۳۶۴

[7]   الفتاوی الخیریۃ کتاب الاجارہ دارالمعرفۃ بیروت ۲/ ۱۳۳

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن