دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 16 | فتاوی رضویہ جلد ۱۶

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۶

اذا مراحدکم فی مسجدنا اوفی سوقنا ومعہ نبل فلیمسك علی نصالھا بکفہ لایعقر مسلما[1]۔رواہ البخاری ومسلم وابوداؤدو ابن ماجۃ عن ابی موسی الاشعری رضی اﷲ تعالٰی  عنہ۔

جب تم ہماری مساجد وبازار سے گزرو تو اپنے نیزوں کے پھالوں کو قابو رکھو اگر پاس نیزے ہوں تا کہ کسی مسلمان کو نہ لگے۔اس کوبخاری،مسلم،ابوداؤد اور ابن ماجہ نے ابوموسی اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت کیا ہے۔(ت)

اور فرماتے ہیں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ:

اذا نمتم فاطفؤ االسراج فان الفارۃ تاخذ الفتیلۃ فتحرق اھل البیت [2]۔ رواہ احمد والطبرانی والحاکم بسند صحیح عن عبداﷲ بن سرجس والحدیث فی الصحیحین من وجوہ۔

جب سونے کا ارادہ ہو تو چراغ کو بجھادو،ممکن ہے کہ چوہیا چراغ کے فتیلہ کو کھینچ کر گھروالوں کو جلادے،اس کو احمد،طبرانی اور حاکم نے صحیح سند کے ساتھ عبداللہ بن سرجس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت کیا ہے اور صحیحین میں یہ روایت کئی طرق سے مروی ہے۔(ت)

(۶)جب ازروئے طب ان کا مضر ہونا ثابت ہوتو یہ ایك اعلٰی وجہ عدم جواز ہے کہ اس میں مسلمانوں کو ضرر رسانی ہے،اور یہ حرام ہے۔رسول اللہ  صَلَّی اللہُ تعالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَفرماتے ہیں:

لاضرر ولاضرار[3]۔رواہ احمد و ابن ماجۃ عن ابن عباس وابن ماجۃ عن عبادۃ رضی اﷲ تعالٰی  عنہم۔

ضرر رسانی ناجائز ہے۔اس کو احمد اور ابن ماجہ نے ابن عباس سے اور ابن ماجہ نے عبادہ رضی اﷲ تعالٰی  عنہم سے روایت کیا ہے۔(ت)

اس میں مسلمانوں کی بدخواہی ہوئی اور یہ خلاف دین ہے۔رسول اللہ صَلَّی اللہُ تعالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَفرماتے ہیں:

ان الدین النصیحۃ ﷲ ولکتابہ ولرسولہ                                                                                         بلا شبہ دین اللہ  تعالٰی ،اسکی کتاب،اس کے

 

 

ولائمۃ المسلمین وعامتھم[4]  ۔رواہ احمد ومسلم وابوداؤد والنسائی عن تمیم الداری رضی اﷲ تعالٰی  عنہ،واﷲتعالٰی  اعلم۔

رسول اور مسلمانوں کے ائمہ اورعوام الناس کے لئے خلوص کانام ہے۔اس کو مسلم،ابوداؤد،نسائی نے تمیم داری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت کیا واﷲ تعالٰی  اعلم(ت)

مسئلہ۱۲۰تا۱۲۱:    ازبہاولپور ریاست سپر نٹنڈنٹ یتیم خانہ وسکریٹری اوقاف          ۹محرم الحرام۱۳۳۴ھ پنجشنبہ

حضور ایك کمیٹی ریاست بہاولپور میں منتظم آمدنی وخرچ اوقاف مساجد کی ہے اس کودو مسئلہ کی اس وقت ضرورت ہے اس پر شرعی فتوے سے روشنی فرماکر باراحسان فرمائیں:

اول: مسجد کی جائداد وقف کی آمدنی کسی دوسری مسجدکے مصارف میں خرچ ہوسکتی ہے یانہ؟

دوم: اگر کوئی شخص سال تمام کے وعدہ پر دکان وقف کوکرایہ پر لے اوردرمیان سال میں بوجہ بیماری وغیرہ چھوڑدے توکیا ممبران اوقاف باقیماندہ کرایہ چھوڑ سکتے ہیں؟فقط۔

الجواب:

(۱)ہرگز جائز نہیں یہاں تك کہ اگر ایك مسجد میں لوٹے حاجت سے زائد ہوں اور دوسری میں نہیں تو اس کے لوٹے اس میں بھیجنے کی اجازت نہیں۔

(۲)اگر اس نے عذر صحیح شرعی سے چھوڑا تو باقیماندہ کرایہ چھوڑا جائے گا ورنہ نہیں۔واﷲ تعالٰی  اعلم

مسئلہ۱۲۲:                              ازانجمن اسلامیہ بریلی                                ۹جمادی الاولٰی۱۳۲۷ھ

بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم،نحمدہ ونصلی علٰی رسولہ الکریم۔

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ یتیم خانہ اسلامیہ بریلی میں وہ یتیم جن کی عمر ۱۶ سال ۲ماہ کی ہے ان کی یہ دریافت طلب ہے کہ اس عمر والوں کوبموجب شرع شریف کے پرورش کرنے اور روٹی کپڑا دینے کا بار یتیم خانہ کے ذمہ ضروری ہے یانہیں؟ان لڑکوں کی حالت یہ ہے کہ سردست یہ اس قابل نہیں ہوئے کہ یتیم خانہ سے نکلتے ہی وہ خود اپنے قوت بازو سے معاش حاصل کرسکیں،اور اندیشہ ہے کہ ان لوگوں کو اگر اس طرح چھوڑ دیا جائےگا تو یہ آوارہ گردی اور بداطواری میں مبتلا ہو جائیں گے،اور امید ہے کہ چھ سات ماہ کوشش کرکے ان کو اس قابل کردیاجائے گا کہ وہ کوئی پیشہ یا صنعت سیکھ کر اپنی معاش وجہ حلال سے پید اکرسکیں گے اور اس عرصہ میں ان کے واسطے کوئی صورت معاش حاصل کرنے کی پیدا کردیجائے گی،پس اس صورت میں اگر ان لڑکوں کو اس عرصہ تك جب تك کہ وہ معاش پیداکرنے کے قابل ہوسکیں یتیم خانہ میں رکھاجائے اور ا ن کے ضروری مصارف خورد نوش کا تکفل یتیم خانہ سے کیاجائے تو عند الشرع یہ مصارف اسلامی چندہ کی امانت سے جو یتیموں ہی کے واسطے وصول کیا گیا ہے جائز ہوں گے یاناجائز ؟اور اس روپیہ کے اس مدت میں صرف کرنے کا مواخذہ عندالشرع مہتممان یتیم خانہ کے ذمہ ہوگا یانہیں؟بینواتوجروا۔

الجواب:

زر چندہ شرعًا ملك چندہ دہندہ پر باقی رہتا ہے کما حققناہ فی فتاوٰنا(جیساکہ ہم نے اپنے فتاوٰی میں اس کی تحقیق کی ہے۔ت)اس میں اجازت چندہ دہند گان پر مدار ہے اگر قدیم سے معمول یتیم خانہ رہا ہو کہ جو یتیم حدیتیم شرعی سےنکل کر بالغ ہو جائیں اور وہ بھی اپنے لئے رزق حلال کسب کرنے کے قابل ہونے تك ان کو یتیم خانہ میں رکھا جاتا اور زرچندہ سے ان کا خرچ کیا جاتا ہو،چندہ دہندگان اس پر آگاہ ہوا کئے اور اس پر راضی رہا کئے تو اب بھی جائز ہے لان المعروف کالمشروط والاجازۃ دلالۃ کالاذن الصریح(کیونکہ معروف چیز مشروط چیز کی طرح ہوتی ہے اور دلالۃً اجازت بھی صریح اجازت کی طرح ہے۔ت)اور اگر پہلے سے یہ معہود اور معروف نہ رہا اور اب تمام چندہ دہندوں سے اجازت لینی ممکن ہوتو اجازت لے کر کرسکتے ہیں،

 



[1]                     صحیح البخاری کتاب الفتن باب قول النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلممن حمل السلاح فلیس منا قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۰۴۷،مسند احمد بن حنبل حدیث ابوموسٰی الاشعری دارالفکر بیروت ۴/ ۳۹۷

[2]                     مسند احمد بن حنبل عبداﷲ بن سرجس دارالفکر بیروت ۵/ ۸۲

[3]                     مسند احمد بن حنبل اخبارعبادۃ بن الصامت دارالفکر بیروت ۵/ ۳۲۷

[4]                     صحیح مسلم کتاب الایمان باب ان الدین النصیحۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۵۴

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن