دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 16 | فتاوی رضویہ جلد ۱۶

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۶

برباد کرنا،یہ تمام افعال حرام تھے اور ہیں،متولیوں پر ان لاکھوں روپوں کاتاوان لازم ہے کہ اپنی گرہ سے ادا کریں،اور واجب ہے کہ ایسے مسرف متولی معزول کئے جائیں اور ان کی جگہ مسلمان متدین ہوشیار کار گزار خداترس دیانتدار مقرر کئے جائیں۔عالمگیریہ میں ہے:

لووقف علی دھن السراج للمسجد لایجوز وضعہ جمیع اللیل بل بقدر حاجۃ المصلین ویجوز الی ثلث اللیل ونصفہ اذااحتیج الیہ للصلٰوۃ فیہ کذا فی السراج الوھاج ولایجوز ان یترك فیہ کل اللیل الافی موضع جرت العادۃ فیہ بذٰلك کمسجد بیت المقدس ومسجد النبی صَلَّی اللہُ تعالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَو المسجد الحرام

اگر مسجد کے چراغ کے تیل کے لئے کوئی وقف کیا توتمام رات چراغ روشن رکھنا جائز نہ ہوگا بلکہ صرف نمازیوں کی ضرورت کے مطابق اور تہائی رات تک،اگر ضرورت ہوتو نصف رات تك روشن رکھاجائے،تاکہ نمازی عبادت کرسکیں،یونہی السراج الوہاج میں ہے۔اور تمام رات چراغ روشن رکھنا جائز نہیں،ہاں ایسے مقامات جہاں ایسی عادت جاری چلی آرہی ہے،جیسا کہ مسجد بیت المقدس او مسجد نبوی اور مسجد حرام میں ہے،یاواقف نے تمام

اوشرط الواقف ترکہ فیہ کل اللیل کماجرت بہ العادۃ فی زماننا کذافی البحرالرائق[1]۔

رات روشن رکھنے کی شرط لگار کھی ہو جیسا کہ ہمارے زمانہ میں یہ عادت بن چکی ہے،بحرالرائق میں یونہی ہے(ت)

فتاوٰی قاضیخاں میں ہے:

لیس للقیم ان یتخذ من الوقف علی عمارۃ المسجد شرفا من ذٰلك ولو فعل یکون ضامنا[2]۔

منتظم کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ مسجدکی عمارت پر وقف مال سے کوئی بالاخانہ بنائے،اگر اس نے ایساکیا تو وہ اس مال کا ضامن ہوگا۔(ت)

خزانۃ المفتین میں ہے:

یجوز ان یبنی منارۃ من غلۃ وقف المسجدان احتاج الیھا لیکون اسمع للجیران وان کانوایسمعون الاذان بدون المنارۃ فلا[3]۔

ارد گرد کے لوگوں کو آواز پہنچانے کے لئے مسجد کے وقف کی آمدنی سے مینار بنانا جائز ہے بشرط ضرورت،اور اگر منارہ کے بغیر اذان کی آواز لوگ سن لیتے ہوں تو پھر جائز نہیں(ت)

عقودا لدریہ میں ہے:

القاضی لیس لہ الاحداث بدون مسوغ شرعی فکیف المتولی وقد صرح فی الذخیرۃ والولوالجیۃ وغیرھما بان القاضی اذا قرر فراشا للمسجد بغیر شرط الواقف لم یحل للقاضی ذلك ولم یحل للفراش تناول المعلوم قال فی البحر فان قلت فی تقریر الفراش مصلحۃ قلت یمکن خدمۃ المسجد بدون تقریرہ بان یستاجر المتولی فراشا                                                                                                                                                                                                                                                                               

قاضی کو وقف میں نئی عمارت بنانا ضرورت شرعی کے بغیر جائز نہیں تو متولی کیسے کرسکتا ہے جبکہ ذخیرہ اور ولوالجیہ وغیرہما میں تصریح ہے کہ اگر قاضی نے واقف کی شرط کے بغیر مسجد کے لئے صفائی والا مقرر کیا تو اسے جائز نہیں اور اس صفائی والے کو مقرر وظیفہ لینا جائزنہیں ہے اور بحر میں فرمایا اگر تیرااعتراض ہو کہ صفائی والے کی تقرری میں اصلاح کی صورت ہے،تومیں کہتا ہوں کہ اس تقرری کے بغیر بھی مسجدکی

لہ والممنوع تقریرہ فی وظیفۃ تکون حقالہ[4]۔

خدمت ممکن ہے کہ متولی کسی کو اجرت دے کر کرالے جبکہ مستقل تقرری جس پروظیفہ مقرر ہو منع ہے۔(ت)

ہندیہ پھر طحطاوی پھر شامی میں ہے:

مسجد مبنی اراد رجل ان ینقضہ ویبنیہ ثانیا احکم من البناء الاول لیس لہ ذلك لانہ لاولایۃ لہ،مضمرات،الاان یخاف ان ینھدم،تاتارخانیۃ، وتاویلہ ان لم یکن البانی من اھل تلك المحلۃ اما اھلھا فلھم ان یھد موا ویجددوا بنائہ لکن من مالھم لامن مال المسجد الابامر القاضی[5]۔

تعمیر شدہ مسجد کو گراکر کوئی شخص نئی مضبوط عمارت بنانا چاہے تو اسے یہ اختیارات نہیں کیونکہ اس کو یہ ولایت حاصل نہیں ہے،مضمرات۔مگر اس صور ت میں جب عمارت منہدم ہونے کا خطرہ ہو،تاتارخانیہ۔اس کی تاویل یہ ہے کہ وہ تعمیر کرنے والا محلہ دارنہ ہو،اگر وہاں کا محلہ دار ہوتو محلے والوں کو اختیار ہے گراکر دوبارہ تعمیر کریں لیکن اپنے مال سے،نہ کہ مسجد کے مال سے،ہاں اگر قاضی کی اجازت ہوتو مسجد کا مال خرچ کرسکتے ہیں۔(ت)

خلاصہ وتنویر الابصار میں ہے:

لاباس بنقشہ خلامحرابہ بجص وماء ذھب بمالہ لامن مال الوقف وضمن متولیہ لوفعل[6]۔

جص اور سونے کے پانی سے مسجد میں نقش ونگار محراب کو چھوڑ کر کرنا جائز ہے بشرطیکہ کوئی ذاتی مال سے کرے، وقف کے مال سے جائز نہیں،اگر متولی نے ایسا کیا تو ضامن ہوگا۔(ت)

بحرالرائق پھر ردالمحتار میں ہے:

امامن مال الوقف فلاشك انہ لایجوز للمتولی فعلہ مطلقًا لعدم الفائدۃ فیہ[7]۔

 



[1]                     فتاوٰی ہندیہ کتاب الوقف الباب الحادی عشر فی المسجد نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۵۹

[2]                     فتاوٰی قاضی خاں کتاب الوقف باب جعل دارہ مسجدًا نولکشور لکھنؤ ۴/ ۷۱۲

[3]                     خزانۃ المفتین کتاب الوقف قلمی نسخہ ۱/ ۲۱۴

[4]                     العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ کتاب الوقف الباب الثانی ارگ بازار قندھار افغانستان ۱/ ۲۲۰

[5]                     فتاوی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الحادی عشر فی المسجد نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۵۷

[6]                     درمختار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۹۳

[7]                     ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۴۴۳

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن