دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 16 | فتاوی رضویہ جلد ۱۶

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۶

(۱۰)وقف کے لئے قوانین کے وضع کرنے کا حال اوپر گزرا کہ خلاف شرط واقف ہرگز جائز نہیں،اور جہاں جواز ہو وہاں قطعًا احکام شرعیہ ہی کا لحاظ فرض ہوگا،ان کے خلاف جس کسی کا بھی کہنا ہو مردود ہوگا،یہاں نہ کثرت رائے دیکھی جاتی ہے نہ اتفاق رائے۔اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  فرماتا ہے: " اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِؕ- "[1] (حکم صرف

اﷲ تعالٰی  کا ہے۔ت)نبی صَلَّی اللہُ تعالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَفرماتے ہیں:

لاطاعۃ لاحدفی معصیۃ اﷲ تعالٰی [2]۔

اﷲ تعالٰی  کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت جائزنہیں۔(ت)

واقف جس کے لئے تصریح ہے کہ دربارہ وقف اس کی شرط مثل نص شارع عَلَيْهِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام واجب العمل ہے اس کا تو یہ حال ہے کہ اگر خلاف شرع شرط کرے مردود ہے ہرگز نہ مانی جائے گی،پھر زید وعمرووکمیٹی کیا چیز ہے،نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَفرماتے ہیں:

مابال اقوام یشترطون شروطا لیست فی کتاب اﷲ فھو رد وان کانت مائۃ شرط شرط اﷲ احق واوثق۔[3] واﷲ تعالٰی  اعلم۔

ایسی قوموں کا کیا حال ہے جو ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو کتاب اللہ  میں(جائز)نہیں،اور جو کتاب اللہ کے خلاف شرطیں لگائے تو وہ مردود ہونگی اگرچہ ایسی سو شرطیں ہوں صرف اﷲ تعالٰی  کی(مقبول)شرطیں ہی حق ہیں اور ثقہ ہیں۔واﷲ تعالٰی  اعلم۔(ت)

مسئلہ۱۰۳تا۱۰۵:  ازشہر بمبئی کا مبیکر اسٹریٹ چھاج محلہ مرسلہ بدرالدین عبداللہ     ۹جمادی الاولٰی ۱۳۳۷ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ:

(۱)شہر بمبئی کی جامع مسجد کے اکثر متولیوں نے یہ رائے قائم کی کہ ایك کرایہ کی زمین لے کر اس پر ایك مکان وقف کے سرمایہ سے بنایا جائے،جس مکان کی لاگت ایك لاکھ چودہ ہزار روپیہ تك ہو اس حالت میں کہ شہر میں سیکڑوں مکانات دوامی بیعنامہ پر مل سکتے ہیں وقف کی اس قدر بڑی رقم ایك کرایہ کی زمین پر صرف کردینا شرعًا جائز ہے یانہیں؟

(۲)مذکورہ بالا زمین کے مالك نے کرایہ زمین کی یہ صورت قائم کی ہے کہ زمین مذکور کی ایك خاص رقم قرار دی جائے اور قیمت پرسالانہ فیصدی للعہ ۸ روپیہ کے حساب سے جو سود ہے اس حساب سے زمین مذکور کا ماہواری کرایہ قرار دیا جائے،آیا کرایہ کا یہ طریقہ شرعًا جائز ہے یانہیں؟

(۳)چونکہ فی الحال بوجہ جنگ مزدوری لکڑی اور دیگر عمارتی اشیاء کی قیمت تین گنی بلکہ چار گنی ہوگئی ایسے وقت میں وقف مسجد کے سرمایہ کو کرایہ کی زمین پر عمارت بنانے میں صرف کرنا اور تیار شدہ عمارتیں جو کثرت سے ملتی ہیں انہیں نہ خریدنا شرعًا جائز ہے یانہیں؟

الجواب:

سائل نے کچھ بیان نہ کیا کہ یہ عمارت زر مسجد سے کیوں بنائی جاتی ہے اور وہ غرض اغراض وقف مسجد میں داخل ہے یانہیں، اگر ان اغراض سے خارج ہے تو نہ خریدنا جائز نہ کرایہ پر لینا،اور اگر داخل ہے تو اس غرض کا حصول خاص اس زمین سے تعلق رکھتا ہے جسے متولی کرایہ پر لے کر عمارت بنانا چاہتے ہیں یا اور مکانوں سے بھی حاصل ہوسکتا ہے اگر اور مکانوں سے بھی حاصل ہے اور وہ مول مل سکتے ہیں اور جدید عمارت بنانے اور کثیر کرایہ دینے سے خریداری میں نفع ہے تومتولیوں کو ہرگز جائزنہیں کہ یہ صورت کرایہ اختیارکرکے وقف کو نقصان پہنچائیں،

فان الولایۃ مشروطۃ بالنظر ولانظر فی الضرر۔                                                                         ولایت مشروط بشفقت ہے اور ضرر میں شفقت نہیں ہے۔ (ت)

سود ملحوظ کرکے مقدار کرایہ معین کرنا ایك ناپاك بات اور گندہ لحاظ ہے لیکن اگر معین ہوجائے تو اس کرایہ میں حرج نہیں، مثلًا ہزارروپیہ کی قیمت ہے تو وہ نجس حساب لگاکر پونے چار روپیہ مہینہ کرایہ قرار دیا تو وہ نجاست اس لحاظ ہی میں رہی کرایہ میں نہ آئی،یہ ایسا ہوا کہ ابتداء کہتا کہ یہ زمین اتنی مدت کو پونے چار روپیہ کرایہ پر کردی،تیسری بات کا جواب مضمون بالا میں آ گیا۔واﷲ تعالٰی  اعلم۔

مسئلہ۱۰۶:                              ازسہسوان ضلع بدایوں قاضی محلہ مرسلہ سید پرورش علی صاحب                                 ۱۴رجب ۱۳۳۷ھ

حضور نے تنخواہ ماہوار متولی وقف کو اجیر مثل کا فتوی لکھا ہے،لہذا عرض ہے کہ مدرسہ اسلامیہ حنفیہ سہسوان کی زمین موقوفہ سہسوان سے تین کوس ہے متولی کو سواری وخوراك مع سپاہی فصل ہنگام تحصیل وقت سے ملے گی،نذر،بھیٹ روپیہ،پٹہ وقبولیت بھی حسب رواج ہنگام ماہوار اس کی تنخواہ کا روپیہ مناسب ہے کاشتکاروں سے وصول کرکے مدرسہ پر صرف کرنا، مدرسوں کو ماہوار دینا،تعمیر ومرمت وغیرہ میں خرچ کرنا مالگذاری گورنمنٹی ادا کرنا اس کا کام ہے اتنے کام کی کتنی اجرت ہوگی۔

الجواب:

وقف سے سواری اور ایام کارگزاری کی تنخواہ ملے گی اور ضرورت ہوتو ان ایام میں سپاہی کی تنخواہ بھی،تنخواہ کا تعین کام کی کمی بیشی اور ہر جگہ کے عرف پر ہے،پٹہ اور قبولیت کانذرانہ اور اس قسم کے زائد اور بے اصل رقوم کہ رائج ہورہی ہیں شرعًا باطل ہیں،واﷲ تعالٰی  اعلم

 

مسئلہ۱۰۷:   ازشہر بریلی محلہ فراشی مسئولہ مولوی عبدالعزیز قدر ت اللہ  خاں صاحب              ۲۱رجب المرجب ۱۳۳۷ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ کسی نے دو یاتین مسجدوں کے واسطے نام بنام الگ الگ روپیہ وصیت نامہ سے وقف کیا کہ فلاں مسجد کو اتنا اور فلاں کو اتنا ماہوار دیا جائے،اب خود اس نے ایك مسجد کے نام کا روپیہ دوسری مسجد میں لگا دیا اور اس دوسری مسجد کے نام کا روپیہ بھی اسی دوسری مسجد میں لگادیا،دونوں مسجدوں کے نام ماہوار وقف کیاہے،سوال یہ ہے کہ دوسری مسجد کے ماہوار میں سے پہلی مسجد کا روپیہ اداکرنا چاہئے یانہیں؟



[1]                     القرآن الکریم۱۲/ ۴۰

[2]                     المستدرك للحاکم کتاب معرفۃ الصحابہ دارالفکر بیروت ۳/ ۱۲۳

[3]                    صحیح البخاری کتاب الشروط باب الشروط فی الولاء قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۷۷،صحیح مسلم کتاب العتق باب بیان ان الولاء من اعتق قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۹۴

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن