دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 16 | فتاوی رضویہ جلد ۱۶

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۶

اوقاف ہے ہمیشہ کے لئے دے دیں تو ان کا یہ فعل شرعًاجائز ہ یانہیں؟(بحوالہ کتب فقہ)

(۱۰)اگرجدید قواعد وقف مرتب کرنے کی ضرورت پیش آئے تو اس وقت احکام شرعیہ کا لحاظ کرکے قواعد وقف مرتب ہوسکتے ہیں یا ممبران وقف کمیٹی کی کثرت رائے پر،شرع شریف کس کے حق میں فیصلہ کرتی ہے؟(بحوالہ کتب فقہ)

الجواب

(۱)وقف میں شرائط واقف کا اتباع واجب ہے،اشباہ والنظائر میں ہے:

شرط الواقف کنص الشارع فی وجوب العمل بہ[1]۔                                                      واجب العمل ہونے میں واقف کی شرط شارع کی نص کی طرح ہے(ت)

اگران مواقع میں صرف کرنا شرط واقف سے جدا ہے جیسا کہ ظاہر یہی ہے تو یہ صرف محض ناجائز ہے اور اگر واقف نے ہی ان مواقع میں صرف کی اجازت دی ہے جو ان میں مصرف خیر ہو اس میں صرف کرنا جائز ہے اور اگر شرائط واقف معلوم نہ ہوں تو متولیوں کے عملدرآمد قدیم پرنظر ہوگی کما فی الخیریۃ وغیرہا(جیسا کہ خیریہ وغیرہ میں ہے۔ت)

(۲)اس کا وہی جواب ہے جو اوپر گزرا جہاں انہوں نے صرف کیا اگر وہ موافق شرط واقف یا اس کے معلوم نہ ہونے کی حالت میں موافق عملدرآمد قدیم متولیان ہے تو وہ صرف جائز ہوا اور ان سے مطالبہ و باز پرس کی کوئی وجہ نہیں ورنہ ناجائز ہوا اور ضرور باز پرس ہے اور ان پر لازم ہوگا کہ اس کا تاوان وقف کےلئے ادا کریں۔

(۳)اگر روپیہ بیجا صرف کریں تو ضرور ان کا معزول کرنا واجب ہے،درمختار میں ہے:

ینزع وجوبا ولوالواقف،بزازیہ،فغیرہ بالاولٰی،درر، لوغیر مامون[2]۔

لازمی طور پر معزول کیا جائے اگرچہ واقف ہو،بزازیہ تو غیر کو بطریق اولٰی،درر،اگر وہ قابل اعتماد نہ ہو۔(ت)

اور متولیوں کا وقف کی کارروائی پوشیدہ کرنا کوئی جرم نہیں،نہ ہر شخص ان سے حساب کا مطالبہ کرسکتا ہے جب تك خیانت ظاہر نہ ہو کہ وہ منجانب امین ہیں اور امین پر اعتراض نہیں،واﷲ تعالٰی  اعلم،یونہی جن کی تولیت بشروط واقف نہ ہو،نہ شرط واقف کے خلاف ہو،اور عام مسلمانوں نے ان کو متولی کیا ہو یا ان کی تولیت پر راضی ہوئے ہوں۔

(۴)ان کا یہ فعل شرعًا جائز نہیں اور ان پرصریح الزام ہے جبکہ وہ دربارہ وقف مخالفت شرع کریں اور دوسرے کو اس کی جانچ سے بھی باز رکھیں۔حدیث میں ہے:

من استرعی الذئب فقد ظلم۔[3]                                                                                                                                  جس نے بھیڑئیے کو راعی بنایا تو اس نے ظلم کیا(ت)

(۵)یہ کارروائی محض ناجائز ہے کہ اس سے دفع ظلم کا سد باب مقصود ہے۔متعلق وقف نئے قوانین احداث کرنے کا کسی کواختیار نہیں جبکہ وہ شرع مطہر یا شرط واقف کے خلاف ہو نہ کہ ایسی صورت کہ مخالفت احکام شرعیہ کی جائےاور اس کی ممانعت کا دروازہ بند کرنے کو یہ قوانین وضع ہوں ایسا قانون اگر خود شرط واقف میں ہوتا مردود ہوتا وہ ہرگز نہ مانا جاتا،علماء تصریح فرماتے ہیں کہ مثلًا واقف نے کسی کو متولی مقرر کیا اور یہ شرط لگادی کہ اسے کوئی معزول نہ کرسکے اور جو اسے معزول کرے اس پر اللہ  اور فرشتوں اور آدمیوں سب کی لعنت ہو اور حالت یہ ہو کہ متولی شرعا رکھنے کے قابل نہیں تو فورًا نکال دیاجائے گا اور واقف کی ایك نہ سنی جائے گی اور اس کی وہ لعنت اسی پر واپس جائیگی کما فی الدرالمختار۔

(۶)حرام ہے،یہاں تك کہ ایك مسجد کا سامان دوسری مسجد کو عاریۃً بھی دینا جائز نہیں کما فی العلمگیریۃ عن القنیۃ (جیسا کہ قنیہ سے عالمگیریہ میں ہے۔ت)نہ کہ زید وعمرو کو نہ کہ نامشروع جلسوں کو۔یہ سراسر وقف پرظلم ہے جو ایسا کریں وقف سے ان کا اخراج واجب ہے،کمامر عن الوجیز والدرر والدر(جیسا کہ وجیز،درر اور در سے گزرا۔ت)

(۷)غیر مسلم کو مال وقف سے بھیجنا تو کسی طرح جائز نہیں کہ وقف کارخیر کے لئے ہوتا ہے اور غیر مسلم کو دینا کچھ ثواب نہیں کما فی البحرائق وغیرہ(جیسا کہ بحرالرائق وغیرہ میں ہے۔ت)،رہا غیرحاضرین مسلمانوں کے گھروں پر بھیجنا،اس میں وہی شرط واقف یا عملدرآمد قدیم کا لحاظ ہو گا بعض مسلمانوں کی دعوت اگرکسی مصلحت وقف کے لیے ہے تو جائز ہے جبکہ شرط واقف یا عملدرآمد کے موافق ہو یاکسی ضرورتِ خاصہ کےلئے ہو کما ذکرواللوصی فی مال الیتیم(جیسا کہ علماء نے یتیم کے مال میں وصی کیلئے فرمایا۔ت)اور اگر بعض مہتمم اپنی بارات میں کسی کو کھلانا چاہیں جوان صورتوں سے جدا ہو تو کھانا بھی حرام ہے اور کھلانا بھی حرام اور کھلانے والوں پر اس کا تاوان واجب۔

(۸)متولی وقف امین وقف ہے جبکہ اس طرح کا متولی ہو جو اوپر مذکور ہوا اگر اس سے اتفاقیہ طور پر بے اپنے تقصیر وبے احتیاطی کے وقف کی کتاب یا کوئی مال تلف ہوجائے اس کا معاوضہ نہیں،اور اگر قصدًا تلف کردے یا اگر اپنی بےاحتیاطی سے ضائع کرے تو ضرورمعاوضہ ہے،یہی حکم ملازمان وقف کا ہے جبکہ وہ تصرف جو اس نے کتاب میں کیا اس کی ملازمت میں داخل،اور اسے جائز تھا،ورنہ اگر وقف کے کسی اور صیغہ کا ملازم ہے کتب خانہ پر اس کو اختیار نہیں،اور اس نے مثلًا کتاب کسی کو عاریۃً دے دی اور ضائع ہوگئی توضرور اس پرمعاوضہ ہے،غیر شخص نے اگر وہ تصرف کیا تو منجانب وقف جس کی اسے اجازت تھی اور بے اس کی تقصیر کے کتاب ضائع ہو گئی مثلا کتب خانہ وقف میں جا کر کتابیں دیکھنے کی اجازت ہو اور عام طور پر معمول ہو کہ کتابیں دیکھ کر اسی مکان میں رکھ آتے ہیں یا فلاں ملازم کو سپرد کردیتے ہیں اور یہ اس قاعدہ کو بجالایا اور کتاب گم ہوگئی تو اس پر بھی معاوضہ نہیں،ورنہ اگر وہ تصرف کیا جس کی اسے اجازت نہ تھی یا تھی مگر اس کی تقصیر وبے احتیاطی سے کتاب گئی تو ضرور تاوان دے گا،اور بہر حال معاوضہ اس کتاب کی قیمت یعنی بازار کے بھاؤ سے جو اس کے دام ہوں،کتاب کو علماء نے قیمتی ٹھہرایا ہے نہ مثلی مگر اس وقت تك چھاپے نہ تھے،اور کہہ سکتے ہیں کہ اگر اسی چھاپے کی ہویعنی اسی بار کی چھپی ہواور کاغذ بھی ایك ہو اور جلد نہ بندھی ہو تو عجب نہیں کہ مثلی ہو سکے،یعنی کتاب کے معاوضہ میں ایسی ہی کتاب دینی آئے مگرتحقیق یہ ہے کہ چھاپے اور کاغذ کی وحدت بھی مستلزم مثلیت نہیں،ایك کاپی ایك پتھر پر جمی ہوئی اس کے ہزار کاغذ اٹھائے جاتے ہیں،کوئی ہلکا ہے کوئی بھرا ہوا،کوئی بہا ہوا ہے کوئی صاف ہے،تو بات وہی ہے جو علماء نے فرمائی کہ کتاب قیمتی ہے۔

(۹)حرام ہے،اور وہ چیز وہاں سے لی جائے گی اور نہ مل سکے تو ان سے تاوان لیاجائے گا ہم بحوالہ عالمگیری کہہ آئے کہ ایك مسجد کی چیز دوسری مسجد کو عاریۃً دینا بھی ناجائز،نہ کہ غیر جگہ دے ڈالنا،جو ایسا کرے واجب العزل ہے۔

 



[1]              الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب الوقف ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۳۰۵

[2]              درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۳

[3]

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن