30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فقد قال علماؤنا ان شرط الواقف کنص الشارع فی وجوب العمل بہ[1]۔
ہمارے علماء نے فرمایا کہ واقف کی شرط پر عمل شارع کی نص پر عمل کی طرح ضروری ہے۔(ت)
اگر واقف نے یہی شرط کردی ہے کہ اکثر حصہ اس کا سجادہ نشینوں متولیوں کے صرف میں آئے تو ان کا ایسا کرنا بجا ہے اور ان پر کچھ الزام نہیں،اور اگر شرائط واقف کے خلاف وہ براہ تعدی مال وقف کوظلمًا اپنے مصارف میں لاتے ہیں تو ظالم ہیں غاصب ہیں واجب الاخراج ہیں،لازم ہے کہ وقف ان کے ہاتھ سے نکال لیا جائے۔درمختارمیں ہے:
ینزع وجوبا،بزازیۃ،ولو الواقف،درر،فغیرہ بالاولی لو غیرمامون[2]۔
لازمی طور پر معزول ہوگا،بزازیہ۔اگرچہ واقف ہو،درر۔ توغیربطریق اولٰی اگر وہ ناقابل اعتماد ہو(ت)
مال وقف مثل مال یتیم ہے جس کی نسبت ارشادہوا کہ جواسے ظلمًا کھاتاہے اپنے پیٹ میں آگ بھرتا ہے اور عنقریب جہنم میں جائے گا،"اِنَّ الَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتٰمٰى ظُلْمًا اِنَّمَا یَاْكُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِهِمْ نَارًاؕ-وَ سَیَصْلَوْنَ سَعِیْرًا۠(۱۰)"[3]۔اگر وہ لوگ اس حرکت سے باز نہ آئیں ان سے میل جول چھوڑدیں،ا ن کے پاس بیٹھنا روا نہ رکھیں۔
قال اﷲ تعالٰی "وَ اِمَّا یُنْسِیَنَّکَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّکْرٰی مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ (۶۸)"[4]۔واﷲتعالٰی اعلم۔
اللہ تعالٰی نے فرمایا:جب کبھی شیطان تجھے بھلادے تو پھر یاد آنے پر ظالموں کے ساتھ مت بیٹھ۔واﷲتعالٰی اعلم(ت)
مسئلہ۹۳تا۱۰۲: ازبہرائچ سید واڑہ بدولتکدہ حاجی احمد اللہ شاہ صاحب مرسلہ نواب علی مورخہ ۹جمادی الاولٰی ۱۳۳۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اور مفتیان شرع متین مسائل مندرجہ ذیل میں:
کسی مقام پر ایك بزرگ کا مزارہے اور اس کے متعلق وقف کی معقول آمدنی ہے خادمان وقف کی بدنظمی سے عدالت نے اس وقف کو خادموں کے ہاتھ سے نکال کر ایك کمیٹی کے سپرد کیا جو وقف کمیٹی کے نام سے موسوم ہے،عدالت نے اس کمیٹی کے ممبران کےلئے جو اس میں شریك ہوں سنی المذہب ہونا ضروری رکھا ہے اور عدالت نے اس وقف کی نگرانی کے لئے قواعد وقف بھی مرتب کئے اور ان قواعد میں اخراجات کے مدات قائم کئے اور یہ شرط کردی کہ بجز ان مدات کے جو قواعد میں درج ہیں کسی دوسرے مدات غیر مندرجہ قواعد میں یہ رقم نہ صرف کی جائے۔
(۱)ان اخراجات کے مدات میں ایك مدخیرات کی بھی ہے جن کے الفا ظ وقف قواعد میں یہ ہیں دو خیراتی(الاؤنس)یعنی وظائف وخیرات وتقسیم کھانا کپڑا بغرض پرورش غربا،اگر ایسے خیراتی(الاؤنس)یعنی وظائف سے ان مساجد میں مؤذنوں کو تنخواہ دینا جن کا کوئی تعلق اس وقف سے نہیں ہے یا ایسے ہی دوسرے مصارف مثلًا مدارس اردو انگریزی یا کسی انجمن کے اس مدرسہ کو جس کا کوئی تعلق وقف سے نہیں ہے ان کے مدرسین کو تنخواہ دینا شرعًا جائز ہے؟
(۲)اگرممبران کمیٹی آمدنی وقف سے ایك مد کی رقم کسی دوسرے مد مندرجہ یا غیر مندرجہ مدات میں صرف کریں اس وقت مسلمانوں کو ان سے باز پرس کا حق ہے یانہیں؟ اور وہ لوگ اس رقم صرف شدہ کے اداکرنے پر شرع شریف سے مجبور ہیں یانہیں؟
(۳)ایسے ممبران جو ہر کارروائی وقف کمیٹی کو عام مسلمانوں سے پوشیدہ کریں یا پوشیدہ رکھنے کی کوشش کریں یا اپنی خود رائی سے اس وقف کا روپیہ کسی بیجاطورپر صرف کریں تو ایسے لوگوں کااس وقف کاممبر رہنا شرعًا جائز ہے یانہیں اور عام مسلمانوں کو اوقاف کی جانچ کا اختیار ہے یانہیں؟
(۴)اگر وقف کمیٹی کے اکثر ممبران صدر انجمن وقف کے ہمخیال ہوں اور بوجہ اپنی کثرت رائے کے احکام شرعیہ و نیز قواعد وقف کمیٹی کے خلاف عملدرآمد کریں یا کرتے ہوں اور اسی کمیٹی کا ایك ممبر زید جو ان کا ہمخیال نہیں ہے محض اپنی ذاتی معلومات و واقفیت واطمینان کے لئے متعلق وقف کاغذات وقف کو دیکھنا چاہے اور اس کی اصلاح کرنا چاہے اس وقت وہ ممبران جو ہمخیال صدر انجمن ہیں زید کو اس کے ارادہ سے باز رکھیں یا جس کاغذ کو وہ دیکھنا چاہتا ہے اس کو ان کاغذات کے دیکھنے کی اجازت نہ دیں یا اس کو اس کے فرض منصبی ادا کرنے سے باز رکھیں تو ان کا یہ فعل شرعًا جائز ہے؟(بحوالہ کتب فقہ)
(۵)قواعد وقف مرتبہ عدالت نے کمیٹی وقف کو اختیار دیا ہے کہ کمیٹی حسب ضرورت دوسر ے قواعد علاوہ قواعد مرتبہ عدالت مرتب کرے۔قواعد وقف مرتبہ عدالت میں کسی ممبر کمیٹی کو جانچ پڑتال کاغذات عام نگرانی کی ممانعت نہیں ہے ایسی صورت میں کیا ممبران وقف وصدر وقف کو یہ اختیار شرعًا حاصل ہے کہ وہ جدید قواعد وقف ایسے مرتب کرلے کہ جس سے زید مذکور کاغذات وقف دیکھنے سے مجبور ہوجائے یا یہ کہ ممبران جو ہمخیال صدر انجمن ہیں اپنی کثرت رائے سے یہ قاعدہ پاس کردیں کہ کوئی ممبر وقف کمیٹی بغیر اجازت صدر انجمن وقف کوئی کاغذ نہیں دیکھ سکتا ان کی یہ کارروائی شرعی اعتبار سے جائز ہے یانہیں؟(بحوالہ کتب فقہ)
(۶)سامان روشنی،فرش فروش،خیمہ وقنات ودیگر فرنچی مثلًا شامیانہ ومیز وکرسی وغیرہ جو وقف کی ملك ہیں اہالیان شہر کو ان کی مشروع وغیر مشروع جلسوں میں دینا یا کسی رئیس کی رہائش کے سامان اسی وقف سے دینا شرعًا جائز ہے یانہیں؟(بحوالہ کتب فقہ)
(۷)مذہبی تقریبات میں جو شیرینی بغرض تقسیم آتی ہے وہ اس محفل کے حاضرین کے لئے مخصوص ہے یامسلم اور غیر مسلم جو اس تقریب میں شریك نہیں ہے ان کے گھروں میں وہ شیرینی بطور تبرك بھیجنا یا اہالیان شہر کی اس اوقاف کے روپیہ سے دعوت کرنا شرعًا جائز ہے یانہیں؟(بحوالہ کتب فقہ)
(۸)اگر کوئی شے یا کتاب جو وقف کی ملك ہے کسی ملازم وقف یا ممبر وقف کمیٹی سے یا کسی غیر شخص سے تلف ہوجائے تواس وقت اس کا معاوضہ لینا شرعًا جائزہے یانہیں؟اور معاوضہ کی کیا صورت ہوسکتی ہے؟
(۹)اگر ممبران وقف کمیٹی یا صدر انجمن وقف کمیٹی ملك وقف شدہ سے کوئی چیز کسی انجمن یا کسی مسجد میں جو غیر متعلق
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع