30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بیشك مال بیجااڑانے والے شیطانوں کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا بڑاناشکرا ہے۔
یہ ان کو فرمایا جو اپنا مال بیجا اڑائیں نہ کہ وقف کا۔ایسے مشاوروں کو معزول کرنا واجب ہے،درمختار میں ہے:
ینزع وجوبا ولو الواقف درر فغیرہ بالاولٰی غیر مأمون [1]۔
لازمی طور پر معزول کیا جائے اگرچہ واقف ہو،درر۔تو دوسرے اگر قابل اعتماد نہ ہوں تو وہ بطریق اولٰی معزول ہوں گے۔(ت)
یعنی اگر خود واقف کی طرف سے مال وقف پر کوئی اندیشہ ہوتو واجب ہے کہ اسے بھی نکال دیاجائےاور وقف اس کے ہاتھ سے لے لیاجائے تو غیر واقف بدرجہ اولٰی واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۲)ایسے اقوال ملعونہ بکنے والا کافر مرتد ہے اس کی عورت اس کے نکاح سے نکل گئی،مسلمانوں پر اس سے میل جول حرام ہے،وقف مسلماناں میں اسے دخل دینا حرام ہے،اس کے پاس اٹھنا بیٹھنا حرام ہے،اس کا جنازہ اٹھانا حرام ہے،جنازہ کے ساتھ جانا حرام ہے،اسے مقابر مسلمین میں دفن کرنا حرام ہے،اسکی قبر پر کھڑا ہونا حرام ہے،اسے کسی قسم کا ایصال ثواب کرنا کفر ہے۔
قال اﷲتعالٰی "وَلَا تُصَلِّ عَلٰۤی اَحَدٍ مِّنْہُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّلَاتَقُمْ عَلٰی قَبْرِہٖ ؕ "[2]۔
ا ﷲ تعالٰی نے فرمایا:ان میں سے فوت ہونیوالے پر نماز جنازہ ہرگز نہ پڑھو اور نہ آپ ان کی قبر پرقیام فرمائیں(ت)
جو اسے اب بھی مسلمان جانے یا اس کے کافر مرتد ہونے میں شك کرے وہ بھی کافر ہے اس کے لئے بھی یہی احکام ہیں۔
شفائے امام قاضی عیاض وبزازیہ وبحرالرائق ومجمع الانہر ودرمختار وغیرہا کتب کثیرہ میں ہے:
من شك فی عذابہ وکفرہ فقدکفر[3]۔
اس کے کفر اور عذاب میں شك کرے تو وہ کافرہے(ت)
نسأل اﷲ العفو و العافیۃ ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔
جو ہم اﷲ تعالٰی سے معافی اور در گزر کرنے کی درخواست کرتے ہیں، لاحول ولاقوۃ ولاباﷲ العلی العظیم۔(ت)
"رَبَّنَا لَا تُزِ غْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ ہَدَیْتَنَا وَہَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْکَ رَحْمَۃًۚ اِنَّکَ اَنْتَ الْوَہَّابُ)۸("[4]۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اے ہمارے رب!ہدایت فرمانے کے بعد ہمارے دلوں کو نہ پھیر اور ا پنے فضل سے ہمیں رحمت عطاکر،بیشك تو بہت عطا کرنے والا ہے۔(ت)واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۸۸تا۹۱: مرسلہ حکیم محمد حیات خاں صاحب آگرہ کوچہ حکیماں حیات منزل ربیع الاول شریف ۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اکثر اوقاف بشمول مسجد جامع وغیر ہ آگرہ میں ایك انجمن کے ماتحت و وزیر نگرانی ہیں جس کے پانچ ممبر ہیں منجملہ ان پانچوں کے ایك ممبر صاحب انجمن ہلال احمر آگرہ کے بھی سکریٹری ہوگئے ہیں،تھوڑا عرصہ ہوا کہ کچھ ترك قسطنطنیہ سے بغرض اظہار شکریہ مسلمانان آگرہ میں تشریف لائے اوربایماء ان ممبر صاحب کے جو ہلال احمر کے سکریٹری ہیں بلادریافت دیگر ممبران کمیٹی ایك جلسہ مسجد جامع آگرہ میں منعقد ہو ا اس جلسہ کے متعلق جملہ انتظامات ممبر صاحب موصوف نے ملازمان مسجد سے کرائے اور جو کچھ روشنی میں خرچ ہوا وہ انجمن اوقاف متذکرہ صدر سے دلوایا اور یہ کہا کہ چونکہ مسجد جامع مسلمان آگرہ کی ہے اور یہ جلسہ مسلمانان آگرہ کا تھا اگر مسجد میں روشنی زائد نہ ہوتی تو باعث بدنامی مسلمانان تھا اس کارروائی پر دو ممبر معترض ہوئے تو ایك چوتھے ممبر صاحب نے وہ جو روشنی میں خرچ کی گئی تھی اپنے پاس سے ادا کردی اور یہ کہا کہ میں رفع نزاع کئے دیتا ہوں پس امورات قابل استفسار یہ ہیں:
(۱)آیا اول ممبر صاحب کا یہ فعل کہ ملازمان وقف سے انجمن ہلال احمر کا کام لیں درست تھا؟
(۲)آیا ایسے ملازم جوذی استعداد علم دین سے بہر ور کہے جاتے ہیں اور انہوں نے خود نیز اپنے ماتحت ملازموں سے بلا ایماء انجمن اوقاف متذکرہ بالاکرائے ان ملازموں کا یہ فعل جائز تھا ؟
(۳)جوصرفہ آمدنی وقف سے روشنی کادلوایا گیا وہ جائز تھا؟
(۴)اگردیگر ممبر نے اس خرچہ کو ادا کردیا تو آمدنی وقف میں شامل کرلئے جانے میں کوئی امر مانع شریعت تو نہیں ہے؟
الجواب:
شرائط اوقاف پر نظرکی جائے اگر معاملہ مذکورہ ان کے تحت میں داخل ہوتا ہوتو حرج نہیں ورنہ اس ممبر کو ایسا کرنا جائز نہ تھا،کام کرنیوالوں نے اگر کار اوقاف کا حرج کرکے کام کیا تو وہ بھی گنہگار ہوئے،ممبر جس نے معاوضہ دے دیا اپنی حسن نیت پر اجر پائے گا اور اس معاوضہ کو قبول کرلینا جائز ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ۹۲: ازسہسرام ضلع گیامرسلہ حکیم سراج الدین احمد صاحب ۳جمادی الآخر۱۳۳۶ھ
اکثر سجادہ نشینان ومتولیان ومینجران وممبران وملازمان وقف آمدنی ہائے جائداد وقف کو اپنی ہی ملك اور اس کی زیادہ تر آمدنی کو بھی اپنے ہی مصارف میں صرف کرنا درست وحق سمجھتے ہیں درانحالیکہ وقف جائداد منقولہ وغیر منقولہ کی آمدنی کا زیادہ ترحصہ مذہبی ثواب کے کاموں میں صرف ہونا چاہئے جیسا کہ کلکتہ،مدراس،بمبئی،الہ آباد کی کونسلوں میں بھی تسلیم کیا ہے،پس ان کا ایسا سمجھنا وکرنا برخلاف شرع کرنا ہے یانہیں؟اگر ہے تو مذکورین کےلئے کوئی وعیدبھی ہے یانہیں؟اگرہے تو عوام مسلمین کوان کے ساتھ کیا برتاؤکرنا چاہئے؟
الجواب:
وقف میں اتباع شرط واقف لازم ہے،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع