30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رب متخوض فیما شاءت نفسہ من مال اﷲ ورسولہ لیس لہ یوم القٰیمۃ الا النار[1]۔رواہ احمد والترمذی وقال حسن صحیح عن خولۃ بنت قیس والبیھقی فی الشعب عن عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہم۔
بہت وہ کہ اﷲ و رسول کے مال میں اپنی خواہش نفس کے مطابق دھنستے ہیں ان کے لئے قیامت میں نہیں مگر آگ(اس کو احمد نے اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اس کو خولہ بنت قیس سے صحیح اور حسن قرار دیا ہے اور بیہقی نے اس کو اپنی شعب میں عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت کیا ہے۔ت)
اور فرماتے ہیں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ:
لوکان لابن اٰدم واد من ذھب لابتغی الیہ ثانیا ولوکان لہ وادیان لابتغی الیہما ثالثا ولا یملأجوف ابن اٰدم الا التراب ویتوب اﷲ علی من تاب[2]۔رواہ
اگر ابن آدم کے لئے ایك جنگل بھر سونا ہوتو دوسرا جنگل اور مانگے اور دو جنگل ہوں تو تیسرا اور چاہے،اور ابن آدم کا پیٹ نہیں بھرتی مگر خاك اور تائب کی توبہ اللہ قبول کرتا ہے(اس کو احمد والشیخان عن ابن عباس والترمذی عن انس والبخاری عن ابن الزبیر وابن ماجۃ عن ابی ھریرۃ و احمد عن ابی واقد والبخاری فی التاریخ والبزار عن بریدۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہم۔
شیخین نے ابن عباس اور ترمذی نے انس سے اور بخاری نے ابن زبیر سے اور ابن ماجہ نے ابوہریرہ سے اور احمد نے ابو واقد سے اور بخاری نے تاریخ میں اور بزار نے بریدہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے روایت کیا ہے۔ت)
وقف سے رجوع ناممکن،پھر جو ماہوار مقرر ہوا اگر اس کے صدق سعی وحسن خدمت کے لحاظ سے بقدر اجر مثل کے نہیں تو ضرور اجر مثل کی تکمیل کردی جائے گی،اور اگر واقعی اجر مثل بھی اسکے واجبی صرف کو کفایت نہ کرے تو وقف کی فاضلات سے تاحد کفایت ماہوار میں اضافہ بھی ممکن،مگر نہ یوں کہ بطور خود کہ خود ہی مدعی اور خود ہی حاکم ہونا ٹھیك نہیں،بلکہ وہاں کے افقہ اہل بلد عالم سنی دیندار کی طرف رجوع کرے یا متعدد معزز متدین ذی رائے مسلمانان شہر کے سپردکردے وہ بعد تحقیقات کامل اجر مثل تك حکم دیں یا بشرط صدق حاجت وعدم کفایت تاقدر کفایت اضافہ کریں،اس تقدیر پر ان کو یہ بھی ملحوظ رہے کہ جب واقف خود ہی متولی ہوا اور خود ہی وقت وقف یہ ماہوار تجویز کیا تو اب کون سی بات حادث ہوئی کہ وہ ماہوار ناکافی ہوگیا،
ردالمحتارمیں ہے:
الناظر بشرط الواقف فلہ ماعینہ لہ الواقف ولو اکثر من اجر المثل کمافی البحر ولوعین لہ اقل فللقاضی ان یکمل لہ اجر المثل بطلبہ کما بحثہ فی انفع الوسائل،ویأتی قریبا مایؤیدہ،وھذا مقید لقولہ الاٰتی لیس للمتولی اخذ زیادۃ علی ماقررلہ الواقف اصلا[3]۔
نگران کو واقف کی شرط کے مطابق مقررہ وظیفہ ملے گا اگرچہ یہ مروج سے زائد ہو،اور اگر واقف کا مقرر کردہ مروج سے کم ہو تو اس کے مطالبہ پر مروج تك مکمل کرنے کا اختیار ہے جیسا کہ اس کو انفع الوسائل نے بحث کے طور پر ذکر کیا ہے، اور اس کی مزید تائید عنقریب آئے گی اور یہ اس کے آئندہ قول کے "متولی کو مقررہ پر زیادتی کا ہرگز اختیار نہیں ہے" سے مقید ہے۔(ت)
درمختار میں ہے:
تجوز الزیادۃ من القاضی علی معلوم جب امام کے لئے مقررہ وظیفہ کفایت نہ کرے تو
الامام اذا کان لایکفیہ[4]۔ قاضی کو زائد کرنے کا اختیار ہے۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
الظاھر انہ یلحق بہ کل من فی قطعہ ضرر اذا کان المعین لایکفیہ کالناظر والمؤذن ومدرس المدرسۃ والبواب ونحوھم اذا لم یعملوا بدون الزیادۃ،یؤیدہ مافی البزازیۃ اذا کان الامام والمؤذن لایستقرلقلۃ المرسوم للحاکم الدین ان یصرف الیہ من فاضل وقف المصالح والعمارۃ باستصواب اھل الصلاح من اھل المحلۃ لو اتحد الواقف والجھۃ[5]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
ظاہر ہے کہ جس کومعزول کرنے میں نقصان ہوکہ مقررہ اس کو کفایت نہ کرتا ہو تو اس کے معاملہ کو بھی اس سے لاحق کیاجائے گا، مثلًا نگران،مؤذن،مدرس،چوکیدار وغیرہ حضرات جب یہ لوگ وظیفہ زائد کئے بغیر کام نہ کریں،اس کی تائید بزازیہ کی اس عبارت سے بھی ہوتی ہے کہ جب امام اور مؤذن وظیفہ کی قلت کی وجہ سے استقرار نہ کریں تو حاکم دین کو محلہ کے اہل لوگوں کے مشورہ سے وقف کے مصالح اور عمارت سے فاضل آمدنی میں سے ان کےلئے صرف کرنے کااختیار ہے بشرطیکہ فاضل آمدنی والے اوقاف کا واقف اور ان کی جہت ایك ہو۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
مسئلہ۸۱: از رام پور محلہ چاہ شور،محمود الظفر خان عرف چھمن خان ۹ربیع الثانی۱۳۳۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی جائداد بایں الفاظ وقف کی کہ تاحیات اپنی آمدنی جائداد موقوفہ کی اپنے مصارف میں لاتا رہوں،بعد میرے اولاد اپنی ضروریات میں صرف کرتی رہے،جب میرے اولاد میں سے کوئی شخص باقی نہ رہے تو علمائے صالحین محل مشروع میں صرف کرتے رہیں،اب دریافت طلب یہ امر ہے کہ عمرو دائن زید مدیون کی اس آمدنی پر جو تاحیات اس کو جائداد موقوفہ سے اپنے مصارف میں لارہا ہے اجرائے ڈگری چاہتا ہے تو وہ شرعًا کراسکتا ہے یانہیں؟ بینوا توجروا۔
الجواب:
ہاں جائداد پر نہیں کرسکتا آمدنی جو زید کو ملتی ہے اس پر کرسکتا ہے کہ جائداد وقف ہے اور آمدنی زید کی ملک۔ردالمحتار میں ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع