30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وقد اطبقو ا لایاخذ السھم مطلقًا لماقد مضی و الحکم فی الشرع یسفر قلت وھذاکلہ فی سکان المدرسۃ وفی غیر فرض الحج وصلۃ الرحم،امافیھما فلایستحق العزل والمعلوم کما فی شرح الوھبانیۃ للشرنبلالی[1]۔
غیر حاضری کا وظیفہ مطلقًا نہ لے گا اورشرع میں حکم واضح ہے۔میں کہتا ہوں یہ تمام بیان مدرسہ کےرہائشیوں کےلئے ہے اور فرض حج اور صلہ رحمی کے عذر کے علاوہ کے لئے ہے اگر دو مذکور عذر ہوں معزولی اور وظیفہ کا مستحق نہ ہوگا جیسا کہ شرنبلالی کی شرح وہبانیہ میں ہے(ت)
ردالمحتار میں ہے:
قولہ نظم ابن الشحنۃ،حاصل مافی شرحہ تبعا للبزازیۃ انہ لایسقط معلومہ ولایعزل اذاکان فی المصر مشتغلا بعلم شرعی اوخرج لغیر سفر واقام دون خمسۃ عشر یوما بلا عذر علی احد قولین(ای والقول الاخر انہ یسقط معلومہ اذا خرج لرستاق بلاعذر ولواقل من اسبوعین) او خمسۃ عشرفاکثر لعذر شرعی کطلب المعاش ولم یزد علٰی ثلٰثۃ اشھر وانہ یسقط ولایعزل لوسافر لحج ونحوہ اوخرج للرستاق لغیرعذر مالم یزد علی ثلثۃ اشھر وانہ یسقط ویعزل لوخرج واقام اکثر من ثلثۃ اشھر ولو لعذر قال الخیر الرملی وکل ھذااذا لم ینصب نائبا عنہ والا فلیس لغیرہ اخذ وٖظیفتہ اھ وفی القنیۃ من باب الامامۃ امام یترك الامامۃ لزیادۃ اقربائہ فی الرساتیق اسبوعا او نحوہ او لمصیبۃ او لاستراحۃ لا باس بہ ومثلہ عفو فی العادۃ والشرع،وقد ذکر فی الاشباہ عبارۃ القنیۃ ھذہ وحملھا علی انہ یسامح اسبوعا والاظہر مافی اٰخر شرح منیۃ المصلی للحلبی ان الظاہر ان المراد فی کل سنۃ ذکر الخصاف انہ لو اصاب القیم فالج او نحوہ فان امکنہ الکلام والاخذ و الاعطاء فلہ اخذ الاجر،والّافلاقال الطرطوسی ومقتضاہ ان المدرس ونحوہ اذااصابہ عذرمن مرض او حج بحیث لایمکنہ المباشرۃ لایستحق المعلوم لانہ ادارالحکم فی المعلوم علی نفس المباشرۃ فان وجدت استحق المعلوم والافلاوھذا ھو الفقہ اھ،ولاینافی مامر من المسامحۃ باسبوع ونحوہ لان القلیل مغتفر کما سومح بالبطالۃ المعتادۃ [2] اھ ملخصا، واﷲ تعالٰی اعلم۔
قولہ ابن شحنہ کی نظم،اس کی شرح کا ماحاصل یہ ہے جو بزازیہ کی اتباع میں بیان کیاکہ اگر غیر حاضر ہونے والاشہر میں ہی شرعی علم یا حد سفر سے کم مسافت کےلئے شہر سے باہر گیااور بلاعذر پندرہ دن سے زیادہ باہر قیام کیا تو ایك قول کے مطابق معزول نہ کیا جائے گا اور نہ ہی مقررہ وظیفہ ساقط ہوگا یعنی دوسرا قول یہ ہے کہ جب وہ بلاعذر شہر سے متعلقہ سراؤں میں پندرہ دن سے کم غائب رہا ہو،یاکسی شرعی عذر کی بناء پر مثلًا طلبِ معاش کے لئے پندرہ دن سے زائد اور تین ماہ سے کم غائب رہا ہو،تو وظیفہ ساقط ہوگا اور معزول نہ ہوگا یونہی اگر فرض حج کیلئے سفر پر رہا ہو یا بغیر عذر تین ماہ سے زائد شہری سراؤں میں غائب رہا ہو،اور اگرشہر سے باہر تین ماہ سے زائد اگرچہ عذر کی بناء پر غائب ہوکر وہاں مقیم رہا ہو تو وظیفہ ساقط اور معزول بھی ہوگا،ا ور خیررملی نے فرمایا یہ تمام صورتیں تب ہوں گی جب وہ اپنا نائب مقرر نہ کرگیا ہو ورنہ اس کا وظیفہ کوئی دوسرا وصول نہیں کرسکتا اھ،اور قنیہ کے امامت کے باب میں ہے کہ اگر امام نے ہفتہ بھر امامت کا ترك سراؤں میں رہائش پذیر اپنے اقرباء کی زیارت یا کسی مصیبت کی بناء پر یا آرام کرنے کےلئے کیا تو کوئی حرج نہیں شرعًا اور عادۃً یہ معاف ہے،اور اشباہ میں قنیہ کی مذکورہ عبارت ذکر کرکے فرمایا کہ ہفتہ کی مقدار میں چشم پوشی سے کام لیاجائے،ا ورزیادہ ظاہر وہ قول ہے جو منیۃالمصلی کی شرح حلبی کے آخر میں مذکور ہے کہ ہفتہ بھر پورے ایك سال میں مراد ہے،خصاف نے ذکر فرمایا کہ اگر منتظم کو فالج یا کوئی مرض لاحق ہوگیا تو اس میں گفتگو اور لین دین کرنا ممکن ہو تو وہ اپنے اجر کامستحق ہوگا ورنہ نہیں،اس پر طرطوسی نے فرمایا کہ اس عبارت کا تقاضا یہ ہے کہ مدرس وغیرہ کو جب کوئی عذر مثلًا مرض یا فرض حج پیش آئے جس کی وجہ سے وہ فرض منصبی ادا نہ کرسکے تو مقررہ وظیفہ کا مستحق نہ ہوگا کیونکہ معاملہ فرض منصبی کی ادائیگی پر طے ہوا ہے اگر یہ پایا گیا تووظیفہ کا استحقاق ہوگا ورنہ نہیں،فقہ یہی ہے اھ،یہ بیان ہفتہ تك کی چشم پوشی کے مذکور حکم کے منافی نہیں ہے کیونکہ قلیل معاف ہوتا ہے جیسا کہ عادت میں مقررہ تعطیلات میں چشم پوشی ہوتی ہے اھ ملخصًا،واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
مسئلہ ۷۹:ازسورت عید روس منزل خانقاہ عید روسیہ مرسلہ حضرت سید علی بن زین بن حسن عید روس سجادہ نشین خانقاہ مذکور ۲۳ذیقعدہ ۱۳۲۹ھ
کیافر ماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین حسب ذیل مسئلہ میں کہ زید محض اس خیال سے کہ متولیان وقف کا مال غفلت وبے پرواہی سے خرد بر د کرجاتے ہیں گورنمنٹ کے سامنے بغیر مشورہ قرآن وحدیث کے اپنی ذاتی رائے پیش کرتا ہے کہ اوقاف رجسٹرڈ کرائے جائیں اور حساب کی جانچ پڑتال کی جائے حالانکہ گورنمنٹ نے ایڈووکیٹ جنرل کو اوقاف کے لئے محض اس غرض کے واسطے مقررکیا ہوا ہے کہ اگر متولی کے متعلق کسی شخص کو اس قسم کی کوئی خرابی معلوم ہو تو وہ ایڈوکیٹ جنرل کو اس کی اطلاع دے کر اس کی منظوری سے متولی پر دعوٰی کرسکتا ہے باوجود اس قاعدہ کے وہ یہ چاہتا ہے کہ اوقاف رجسٹرڈ ہوں اور محکمہ کے کثیر اخراجات مثل رجسٹرڈ کرانے کی فیس اور کلرکوں وغیرہ کی تنخواہ وغیرہ وغیرہ جس قدر اخراجات ہوں وہ تمام او قاف سے دئے جائیں حالانکہ واقف کی ان کے لئے وصیت نہیں کیا زید کا یہ بل ازروئے شریعت حقہ جائز ہے یاناجائز ؟بینوا توجروا(بیان کیجئے اجر حاصل کیجئے۔ت)
الجواب:
زید کا وہ بل محض جائز و باطل ہے،وہ نئے خرچ کہ زید نے بے حکم شرع وبے شرط واقف اپنے دل سے ایجاد کرکے کسی وقف پر ڈلوانے چاہے ہرگز وقف پر نہ پڑیں گے،نہ کوئی وقف ان کا ذمہ دار ہوگا،زید تو زید حاکم وقاضی کو بھی وقف میں ایسے ایجاد کا شرعًا اختیار نہیں۔عقودالدریہ مطبع مصر جلد اول صفحہ ۱۹۲:
اذا ثبت الاحداث لایعمل بتقریرہ لان القاضی لیس لہ الاحداث بدون مسوغ شرعی فکیف المتولی وقد صرح فی الذخیرۃ والولوالجیۃ وغیرہما بان القاضی اذا قررفراشًا للمسجد بغیر شرط الواقف لم یحل للقاضی ذٰلك ولم یحل للفراش تناول المعلوم[3]۔
جب وقف میں نئے مصارف ثابت کئے جائیں تو ان کی تقرری پر عمل نہ کیا جائے گا کیونکہ قاضی کو شرعی جواز کے بغیر نئے امور نافذ کرنے کا اختیار نہیں تو متولی کیسے کرسکتا ہے، ذخیرہ،ولوالجیہ وغیرہما میں تصریح ہے کہ اگر قاضی نے واقف کی شرط کے بغیر مسجد کے لئے فرش کی صفائی کرنے والا مقرر کردیا تو قاضی کو یہ اختیار نہیں ہے اور اس مقرر شدہ کو بھی مقررہ وظیفہ وصول کرنا جائز نہیں ہے۔(ت)
ایضًا ص۱۸۸(ص۱۸۸پر بھی ہے۔ت):
واخذ القاضی واعوانہ المال کاخذ قاضی اور اس کے عملہ کا وقف مال کولینا ایسا ہی ہے
اللصوص۔[4] جیسے چوروں کا لینا ہے۔(ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع