دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 16 | فتاوی رضویہ جلد ۱۶

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۶

الجواب:

(۱)مسجد کے لئے ہندو کا وقف ناممکن نامقبول ہے،وہ مسجد نہ ہوگی۔واﷲ تعالٰی  اعلم۔

(۲)وہ مسجد ہی نہیں،مسلمان دوسری جگہ اپنی مسجد بنائیں۔واﷲ تعالٰی  اعلم۔

___________________

 

مصارف وقف

(وقف کے مصارف کا بیان)

مسئلہ۷۶:               ازاحمد آباد گجرات محلہ کالوپور پنچ پولی دھنکوٹ مرسلہ شیخ محمد زین الحق عرف چھٹومیاں                ۴محرم ۲۳ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین مبین و مفتیان شرع متین اس بارہ میں کہ زید کے پاس ایك رقم زرِ نقد وقف یا ﷲ کسی کارِ خیر کے لئے موجود ہے مثلًا مسجد کی تعمیر وغیرہ مصارف کی یا کسی بزرگ کے روضہ یا مقبرہ یا عرس وغیرہ کی آمدنی اس کے مصارف پورے طور سے ہوکر اضافہ جمع رہتی ہے،یا مسجد یا مدرسہ یا یتیم خانہ تعمیر کرنے کو وہ چندہ جمع کیا گیا ہے اور اس کا خرچ پورے طور سے تمام ہوکر باقی رقم اضافہ رہی ہے وغیرہ وغیرہ،اس قسم کا پیسہ نقد یامِلك مانند مکان و زمین وغیرہ کے ایك کارِ خیر کےلئے فراہم ہوا ہے یا کیا گیا ہے اس کو دوسرے کارِخیر میں ﷲ یعنی مسجد کا چندہ کیا ہوا یا اس کی آمدنی میں سے بچتا رہا ہوا مقبرہ یا مدرسہ یا یتیم خانہ کے کام میں یا مقبرہ و مدرسہ ویتیم خانہ کا پیسہ مسجدکے کام میں لے سکتے ہیں یانہیں وہ ازروئے شرع شریف مع حوالہ کتب مذہب اہل سنت وجماعت کے خلاصہ بیان فرماکے اپنی مہر ودستخط فرمادیں۔بینواتوجروا۔

الجواب:

وقف جس غرض کےلئے ہے اسکی آمدنی اگرچہ اس کے صرف سے فاضل ہو دوسری غرض میں صرف کرنی حرام ہے وقف مسجد کی آمدنی مدرسہ میں صرف ہونی درکنار دوسری مسجد میں بھی صرف نہیں ہوسکتی،نہ ایک

مدرسہ کی آمدنی مسجد یا دوسرے مدرسہ میں۔درمختارمیں ہے:

اتحدالواقف والجہۃ وقل مرسوم بعض الموقوف علیہ،جاز للحاکم ان یصرف من فاضل الوقف الاٰخر الیہ لانھما حینئذکشیئ واحد وان اختلف احدھما بان بنی رجلان مسجدین او رجل مسجد او مدرسۃ ووقف علیہما اوقافا لایجوزلہ ذٰلک[1]۔

جب واقف ایك ہواور جہت وقف بھی ایك ہو اور آمدن کی تقسیم بعض موقوف علیہ حضرات پر کم پڑجائے توحاکم کو اختیار ہے کہ وہ دوسرے فاضل وقف سے ان پر خرچ کردے کیونکہ یہ دونوں وقف ایك جیسے ہیں،اور اگر واقف یا جہت وقف دونوں کی مختلف ہو مثلًا دو حضرات نے علیحدہ علیحدہ مسجد بنائی یا ایك نے مسجد اور دوسرے نے مدرسہ بنایا اور ہر ایك نے ان کے لئے علیحدہ وقف مقرر کئے تو پھر ایك کی آمدن سے دوسرے کے مصارف کے لئے خرچ کرنا جائز نہیں۔ (ت)

چندہ کا جوروپیہ کام ختم ہوکر بچے لازم ہے کہ چندہ دینے والوں کو حصہ رسد واپس دیاجائے یا وہ جس کام کے لئے اب اجازت دیں اس میں صرف ہو،بے ان کی اجازت کے صرف کرنا حرام ہے،ہاں جب ان کا پتا نہ چل سکے تو اب یہ چاہئے کہ جس طرح کے کام کےلئے چندہ لیا تھا اسی طرح کے دوسرے کام میں اٹھائیں،مثلًا تعمیر مسجد کا چندہ تھا مسجد تعمیر ہوچکی تو باقی بھی کسی مسجد کی تعمیر میں اٹھائیں،غیر کام مثلًا تعمیر مدرسہ میں صرف نہ کریں،اور اگر اس طرح کا دوسرا کام نہ پائیں تو وہ باقی روپیہ فقیروں کو تقسیم کردیں۔درمختار میں ہے:

ان فضل شیئ ردللمتصدق ان علم والاکفن بہ مثلہ والا تصدق بہ[2]

اگر چندہ سے کچھ بچ جائے تو دینے والا اگر معلوم ہو تو اسے واپس کیا جائےگا ورنہ اس جیسے فقیر کے کفن پر صرف کیا جائے یا صدقہ کردیاجائے(ت)

اسی طرح فتاوٰی قاضی خاں وعالمگیری وغیرہما میں ہے۔واﷲ تعالٰی  اعلم۔

مسئلہ۷۷:                               مسئولہ ظہور حسین ساکن بریلی محلہ کٹلہے نالہ                                ۲۴ شعبان المعظم ۱۳۲۳ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے ایك وقف نامہ غیر مستقل آمدنی کا بنام خدائے برتر لکھا اور وقف نامہ مذکور میں نسلًا بعد نسل تولیت کا تذکرہ نسبت ورثاء متولیان کے اور کسی

 

کمیٹی یا انجمن کادست انداز نہ ہونا تحریر ہے آمدنی مذکور بہ تعین تعداد واسطے نذرونیاز وکارخیر جاریہ کی مقرر کردی مگر جائداد موقوفہ کی آمدنی اخراجات معینہ واقف سے زائد ہو تو وہ زائد آمدنی کیا ہوگی اور وقف پر کیا اثر ہوگا اور اس پر وراثت جاری ہوسکتی ہے یانہیں؟بینواتوجروا۔

الجواب:

وقف پر وراثت جاری نہیں ہوسکتی زائد آمدنی امانۃً جمع رہے گی جیسے زیادت ممکن ہے اور برسوں میں کمی بھی محتمل ہے وہ کمی اس سرمایہ جمع شدہ سے وقتًا فوقتًا پوری کی جائے گی،متولیان وورثہ بحال تولیت اگر صالح تولیت رہے تو بہتر،ورنہ بحال جرم وخیانت وعدم لیاقت ضرور مسلمانوں کو دست اندازی پہنچے گی اور واقفہ کی اس شرط پر کچھ نظر نہ کی جائے گی نص علیہ فی الدر المختار وغیرہ من معتمدات الاسفار(درمختار وغیرہ معتمد کتب میں اس پر نص کی گئی ہے۔ت)درمختار جلد ۳صفحہ ۵۵۴پر ہے:

فیلزم فلا یجوز لہ ابطالہ ولا یورث عنہ وعلیہ الفتوی ابن الکمال وابن الشحنہ[3]۔

تو وہ لازم ہوجائے گا اب اس کا ابطال یاوراثت بنانا جائز نہیں،اسی پر فتوی ہے،ابن کما ل وابن شحنہ۔(ت)

وعلیہ الفتوی کے تحت میں علامہ شامی رحمہ اللہ  علیہ فرماتے ہیں:

 



   [1] درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۰

   [2] درمختار باب صلوٰۃ الجنائز مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۲۱

   [3] درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۷۷

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن