دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 16 | فتاوی رضویہ جلد ۱۶

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۶

ظاہر ہے کہ زرمذکور فی السوال نہ ضرورت وقف کے لئے لیا گیا نہ وقف میں صرف ہوا بلکہ ایك شخص کی اپنی ذاتی غرض میں اگرچہ وہ متولی بھی ہے نہ وہ روپیہ حق استبقائے اجارہ کے بدلے ہے،نہ اجرت مثل اس سے جدا ہے بلکہ اسی میں محسوب ہوا کرے گا تو کسی طر ح خلو سے کچھ علاقہ نہیں رکھتا بلکہ یقینًا وہ ایك قرض ہےکہ اس موقوف علیہ نے لیا اور اس کے بدلے وقف کو رہن کیا اور منافع حرام کو مقرض پر مباح کردیا وقف کا رہن خود ہی باطل ہے،تنویر الابصار میں ہے:

فاذاتم ولزم لایملك ولایملك ولایعار ولایرھن[1]۔

جب وقف لازم وتام ہوجائے تو وہ کسی کا مملوکہ نہ کسی کو تملیك نہ عاریۃً اور نہ ہی بطور رہن دیا جاسکتاہے۔(ت)

نہ کہ رہن دخلی کہ ملك کا بھی حرام ہے،تو یہ عقد حرام درحرام،ظلم درظلم،ظلمات بر ظلمات ہے،واجب الرد ہے گیرندہ پر جب تك نہ چھوڑے وقف کے لئے اجر مثل تو خود ہی لازم ہوگافان منافع الوقف مضمونۃ مطلقًا(کیونکہ وقف کے منافع مطلقًا قابل ضمان ہوتے ہیں۔ت)اور جو کچھ اس سے زائد حاصل کرے گا وہ بھی اسے حلال نہیں وقف کردے یا تصدق کرے،اور اول اولٰی ہے کمافی الخیریۃ والعقود الدریۃ وغیرھما(جیسا کہ خیریہ اور عقود الدریہ وغیرہ میں ہے۔ت)یہاں تك چار سوالوں کا جواب شافی ہوگیا اور پنجم کا بھی کہ اس معاملہ کو خلو سے علاقہ نہیں اگرچہ روپیہ ضروریات وقف ہی کےلئے لیا اور انہیں میں صرف کیا کہ یہ روپیہ بمقابلہ استبقائے اجارہ علاوہ اجر مثل نہیں بلکہ اتنا زر اجر پیشگی لیا ہے وقتًا فوقتًا اجرت میں محسوب ہوگا اس سے عدم وقف خواہ اب انعدام وقف پر استدلال صریح جہل وضلال،وقف ثابت کسی کی ناجائز کارروائی سے نہ غیر ثابت ہوسکتاہے نہ زائل ورنہ ابطال اوقاف ظالموں کے اختیار میں ہوجائے جب چاہیں کوئی ناجائز کام کردیں اور وقف باطل وزائل ہوجائے۔ہاں تفتیش طلب اس کارروائی کا جواز وعدم جواز ہے اس میں مسئلہ شرعیہ یہ ہے کہ

 

دیہات کاٹھیکہ جس طرح ہندوستان میں رائج ہے کہ زمین مزار عوں کے اجارہ میں رہے اور توفیر ٹھیکے میں دی جائے بلا شبہہ حرام ومردود وباطل ہے کما حققناہ لامزید علیہ فی کتاب الاجارۃ من فتاوٰنا(جیسا کہ ہم نے اس کی آخری تحقیق اپنے فتاوٰی کی کتاب الاجارہ میں کردی ہے۔ت)فتاوٰی خیریہ لنفع البریہ میں ہے:

قریۃ وقف آجر المتکلم علیہا ثلثھا لرجل سنۃ بمال لیتناول مایتحصل من الثلث المذکور من الغلال صیفیھا وشتویھا ھذہ الاجارۃ باطلۃ غیرمنعقدۃ لما صرح بہ علماؤنا قاطبۃ من ان الاجرۃ اذا وقعت علی اتلاف الاعیان قصدا لاتنعقد ولاتفید شیئا من احکام الاجارۃ فلیس للمستأجر ان یتناول شیئا من الغلال بل ذٰلك للوقف یصرف فی وجوھہ المعینۃ [2]۔ (ملتقطًا)

 وقف گاؤں ہو اور موقوف علیہ شخص گاؤں کے تہائی حصہ کی آمدنی کو ایك سال کے لئے کسی مال کے بدلے اجارہ پر دے دے تاکہ اجارہ پر لینے والا شخص اس مال کے بدلے موسم گرما اور سرماکی آمدن کا تہائی حصہ حاصل کرلیا کرے تو یہ اجارہ باطل ہوگا اور منعقد ہی نہ ہوگا کیونکہ تمام علماء نے تصریح کی ہے کہ وہ اجارہ جوعین چیز کوقصدا تلف کرنے پر ہو وہ منعقد نہ ہوگا اور اجارہ کے احکام کے لئے مفید نہ ہوگا،اس لئے مذکورہ صورت میں اجارہ پر لینے والے کو اس آمدن کو لینے کا حق نہ ہوگا بلکہ یہ تمام آمدن وقف کے معینہ مصارف پر خرچ ہوگی۔ (ملتقطا)۔(ت)

اسی میں ہے:

الاجارۃ اذا وقعت علی اتلاف الاعیان قصداکانت باطلۃ فلایملك المستأجر ماوجد من تلك الاعیان بل ھی علی ماکانت علیہ قبل الاجارۃ فتؤخذ من یدہ اذاتناولھا ویضمنھا بالا ستھلاك لان الباطل لایؤثر شیئا فیحرم علیہ التصرف فیہا لعدم مبلکہ وذٰلك کاستئجار بقرۃ لیشرب لبنھا وبستان لیاکل ثمرتہ ومثلہ استئجارمافی ید المزارعین لاکل خراجہ[3]۔

جب اعیان کو تلف کرنے پر قصدًا اجارہ کیا جائے تو باطل ہوگا لہذا اجارہ پر لینے والے کو ان اعیان کو حاصل کرنے کا حق نہ ہوگا بلکہ یہ اعیان یعنی غلہ وغیرہ وہیں خرچ ہوگا جہاں وہ اجارہ سے قبل خرچ ہوتے تھے اس لئے مستاجر(اجارہ لینے والے)کے قبضہ سے واپس لے لئے جائیں گے اگر اس نے وصول کرکے خرچ کرلئے اس سے ضمان وصول کیا جائے گا کیونکہ باطل معاملہ کوئی اثر نہیں رکھتا لہذا ان میں اس کا تصرف حرام ہوگا اس لئے کہ وہ اس چیز کا مالك نہ تھا،اس کی مثال جیسے کہ گائے وبھینس کو دودھ کے لئے اجارہ پر لے اور مثلًا باغ کو پھل کھانے کیلئے اور وقف کے مزار عین کے زیر قبضہ زمین کو غلہ کرنے کے لئے اجارہ پر لے۔(ت)

اسی میں ہے:

الالتزام والمقاطعۃ علی ما یتحصل من قریۃ الوقف من خراج بمال معلوم من احد النقدین یدفعہ الملتزم ویکون لہ مایتحصل منہا قلیلا کان اوکثیرا لاتجوز اذلاوجہ لہا شرعالکونہا لاتتصور شرعًا ان تکون بیعا اذبعض المقاطع علیہ معدوم وبعضہ مجہول ولاان تکون اجارۃ لانھا بیع المنافع والواقع علیہ فی المقاطعۃ المشروحۃ اعیان لامنافع فھی باطلۃ بالاجماع[4]  (ملتقطا)۔

 کسی گاؤں کی آمدنی(حصہ بٹائی)حاصل کرنے کے لئے مقررہ نقد مال پر اجارہ کا فیصلہ اور التزام کرنا کہ جو قلیل یا کثیر حصہ بٹائی گاؤں سے حاصل ہواس کو مستاجر حاصل کرے گا،تو یہ جائز نہیں،کیونکہ شرعًا اس کے جوازکی کوئی صورت نہیں،بیع اس لئے متصور نہیں ہوسکتی کہ معقود علیہ ابھی معدوم ہے اور کچھ حصہ مجہول ہے،اور اجارہ اس لئے متصور نہیں ہوسکتا کہ اجارہ منافع کی بیع کا نام ہے جبکہ  ذکورہ صورت میں منافع کی بجائے اعیان(غلہ)پرسوداہوا ہے،لہذا یہ بالاجماع باطل ہے۔ (ملتقطًا)۔(ت)

اسی میں ہے:

اذا استأجر القری والمزارع لتناول خراج المقاسمۃ اوخراج الوظیفۃ فالاجارۃ باطلۃ باجماع علمائنا[5]  (ملتقطا)

 جب گاؤں یا زراعت جن پر سرکاری وظیفہ یا حصہ بٹائی حاصل ہوتاہے کو اجارہ پر لینا تاکہ ان سے حاصل وظیفہ یا حصہ کو بدلے میں وصول کیا کرے تو ہمارے علماء کے ہاں بالاجماع یہ اجارہ باطل ہے۔(ملتقطا)(ت)

اسی میں ہے:

قریۃ ضمنھا من لہ ولایتھا لرجل بمال معلوم لیکون لہ خراجہا فالتضمین باطل اذلایصح اجارۃ لوقوعہ علی اتلاف الاعیان قصدا ولابیعالانہ معدوم[6]  (ملتقطا)

 



   [1] درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۷۹

   [2] فتاوٰی خیریہ کتاب الاجارۃ دارالمعرفۃ بیروت ۲/ ۱۱۷

[3]    فتاوٰی خیریہ کتاب الاجارۃ دارالمعرفۃ بیروت ۲/ ۱۱۹

[4]    فتاوٰی خیریہ کتاب الاجارۃ دارالمعرفۃ بیروت ۲/ ۱۲۶

[5]    فتاوٰی خیریہ کتاب الاجارۃ دارالمعرفۃ بیروت ۲/ ۱۲۷

[6]    فتاوٰی خیریۃ کتاب الاجارۃ دارالمعرفۃ بیروت ۲/ ۱۲۷

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن