30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فکانہ باعھم تلك الحصۃ بمادفعوہ لہ وکانہ لم یقف جزء من تلك الحصۃ التی لکل،وغایتہ انہ وظف علیہم کل شھر کذافلیس للواقف فیہ بعد ذٰلك تصرف الا بقبض الحصۃ الموظفۃ فقط ولیس لہ ان یوجھہ لغیرہ وکان رب الخلو صار شریکاللواقف فی تلك الحصۃ [1] اھ
اقول:(میں کہتا ہوں)یہ مذکورہ کلام اس بات میں صریح نص ہے کہ خلو صرف عمارت کا نام ہے،اس کی وہ تاویل جو ہم نے سید ازہری کے کلام میں کی ہے ممکن نہیں کہ وہ وقف کا اضافہ ہو،ذاتی ملکیت نہ ہو،یہ تاویل کیونکر ممکن ہوگی جبکہ وہ یہ بات علامہ اجہوری کی اس کلام کی تفسیر میں کہہ رہے ہیں جس میں اس نے کہا ہے کہ خلو اس منفعت کا نام ہے جس کا وہ دراہم کے عوض میں مالك بنتا ہے الخ الایہ کہ ہم"من المنفعۃ"کے"من"کو تعلیل کے لئے قرار دیں اور منفعت سے مراد وہ منفعت ہو جو وقف کے حق میں ہو،تو خلو عمارت اور غیر عمارت دونوں پر منقسم ہوجائے تو اجارہ کی بقا کے حق کا وہ مالك اس منفعت کے عوض ہوگا جس کو اس نے وقف میں شامل کیا ہے،لیکن اجہوری کا یہ قول کہ"دراہم منفعت کے مقابل ہیں"رد ہوجائیگا کیونکہ اس کے دراہم اجارہ کے دوام کے مقابل ہیں نہ کہ وقف کےلئے منافع کے مقابل ہونگے وقف کے منافع تو صرف وقف کے لئے ہیں،دراہم دینے والے کےلئے دراہم کا بدل نہیں تو اس عبارت کا کوئی مخلص نہیں سوائے اس کے کہ یہ کہا جائے کہ مالکی حضرات کا آخری کلام ہے تو ان کے ہاں خلو،عین اور معنٰی دونوں کو شامل ہے اور ہمارے ہاں خلو صرف معنٰی کا نام ہے اور عین چیز کاہمارے ہاں کوئی اور نام ہے مثلًا اسے سکنٰی کہا جائے گا اس حقیقت کا انکار کیسے ہوسکتا ہے جبکہ خود اس مالکی فاضل نے اس کے بعد کہا اس خلو کا اجارہ لازمہ ہونے میں نزاع نہیں(یعنی مالکیوں کے ہاں)اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جب واقف نے کوئی تعمیر وقف میں کرنے کا ارادہ کیا تو اس کے پاس لوگ آکر دراہم پیش کریں اور کہیں کہ ہم اس حصہ میں اپنے اپنے لئے مخصوص خطہ تعمیر کرینگے توجب واقف ان سے دراہم اس شرط پر قبول کرلے گا تو گویا اس نے یہ حصہ ان لوگوں کو معاوضہ پر فروخت کردیا اور گویا اس نے ہر ایك کا مخصوص خطہ وقف سے مستثنٰی کردیا اور نتیجتًا اس نے ہر ایك پر ماہانہ شرح سے کچھ وظیفہ مقرر کردیا تو ا سکے بعد اب واقف کو اس حصہ میں کسی تصرف کا حق نہ رہا ماسوائے اس کے کہ وہ فقط مقررہ وظیفہ وصول کرتا رہے اور اب وہ حصہ کسی دوسرے کو دینے کا،مجاز نہ ہوگا گویا کہ خلو والا ہر شخص اس حصہ میں واقف کے ساتھ شریك قرار پائے گا اھ،
فقد جعل الخلوعقاراو جزء من تلك الارض مبیعا من ھٰؤلاء مستثنٰی من الوقف،ولذا قال وفائدۃ الخلو انہ کالملك فتجری علیہ احکامہ من بیع واجارۃ وھبۃ ورھن ووفاء دین وارث ووقف [2] الخ۔
تو یوں اس فاضل نے خلو کو مکانیت سے تعبیر کیا اور وقف شدہ زمین کا ایك حصہ ان لوگوں کے ہاتھ فروخت کرکے وقف سے خارج قرار دیا اور اس لئے اس نے کہا کہ خلو کا فائدہ یہ ہوگا کہ وہ مملوکہ جگہ کی طرح ہوگا اور اس میں ملکیت کے احکام، بیع،اجارہ،ہبہ،رہن،قرض میں منہا کرنا،وراثت اور وقف جاری ہوں گے الخ،
اقول: ثم فی کلام ذٰلك الفاضل المالکی خدشۃ اخری فانہ جعل العمارۃ خلوا وقال فی بیانہ یکون ماصرفہ خلوا لہ وانماالمصروف الدراہم ھذاوبقی مااسلفناہ عن اٰفندی زیرك زادہ من بیع الخلو اذالم یکن ملاصقا بالحانوت وان وضعہ فی الحانوت بالاجارۃ مشروع۔
اقو ل:(میں کہتا ہوں)اس مالکی فاضل کے کلام میں ایك اور خرابی ہے کہ یہاں اس نے عمارت کو خلو کہا ہے جبکہ پہلے وہ اپنے بیان میں کہہ چکا ہے کہ مال صرف کیا ہے وہ خلو ہوگا،حالانکہ جو صرف کیا ہے وہ دراہم ہیں عمارت نہیں ہے،یہ قابل توجہ ہے۔زیر ك زادہ آفندی سے جو ہم پہلے ذکر کر آئے ہیں اس میں ایك امرباقی ہے کہ انہوں نے کہا ہے جب خلو دکان سے ملصق نہ ہواور ویسے کرایہ کی دکان میں رکھا ہو تو اس کی بیع جائز ہے۔
اقول: احسن مایعتذرعنہ انہ اطلق علیہ اسم الخلو تجوزاوان الخلو یطلق علیہما وان ماکان منہ عینا مملوکۃ لصاحب الخلو فلا کلام فی جواز بیعہ بل ووقفہ ان تعورف وکانت الارض موقوفۃ او محتکرۃ والذی حدث وانکرہ المحققون ھوالخلو بمعنی المعنی واﷲتعالٰی اعلم وبہ یحصل التوفیق بین کلامی ابن ہلال والرادین علیہ بان کلامہ فی العین القائمۃ ولاشك ان الاستشہاد علیہ بفرع السکنی صحیح اذن لایرد علیہ شیئ مماذکروا و کلامھم فی المعنی المعروف فلاخلف ان ساعدہ کلام ابن ہلال فی رسالتہ والعلم بالحق عند علام الغیوب،ثم من العجب قول العلامۃ المنقح فی العقود الدریۃ الخلو عبارۃ عن القدیمۃ ووضع الید [3] اھ اقول: سبحٰن اﷲ مجرد کونہ واضع یدہ منذ زمان وھو المعبر عنہ فی المبتدعات قانون النصاری بحق موروثی کیف یصیر حقا وکیف یسوغ ان یقول بہ وبجواز بیعہ احد وقد قدم المنقح نفسہ قبیل ھذا مانصہ، واما ما فی القنیۃ یثبت حق القرار فی ثلاثین سنۃ فی الارض السلطانیۃ والملك وفی الوقف فی ثلاث سنین ولو باع حق قرارہ فیہا جاز،وفی الھبۃ اختلاف،ولو ترکھا بالاختیار تسقط قد میتہ،حاوی الزاھدی اھ فالمراد بہ الاعیان المتقومۃ لامجرد الامر المعنوی لما علمت من عدم صحۃ بیعہ ویدل علی ذٰلك قولہ فی البزازیۃ ولاشفعۃ فی الکردار ای البناء ویسمی بخوار زم حق القرار لانہ نقلی اھ[4] ثم ستسمع الآن نصہ الصریح علی انکارہ فسبحٰن من لاینسی ھذا،وقال فی ردالمحتار قد یقال ان الدراہم التی دفعھا صاحب الخلو للواقف واستعان (ای الواقف) بھا علی بناء الوقف شبیہۃ بکبس الارض بالتراب فیصیرلہ حق القرار فلا یخرج من یدہ اذاکان یدفع اجرالمثل ومثلہ ما لو کان یرم دکان الوقف ویقوم بلوازمھا من مالہ باذن الناظر،امامجرد وضع الید علی الدکان ونحوھا وکونہ یستاجرھا عدۃ سنین بدون شیئ مماذکر فھو غیر معتبر (الٰی ان قال) وممن افتی بلزوم الخلو الذی یکون بمقابلۃ دراہم یدفعھاللمتولی او المالك العلامۃ المحقق عبد الرحمٰن افندی العمادی صاحب ھدیۃ ابن العماد وقال فلایملك صاحب الحانوت اخراجہ ولااجارتھالغیرہ مالم یدفع لہ المبلغ المرقوم فیفتی بجواز ذٰلك للضرورۃ قیاسا علی بیع الوفاء الذی تعارفہ المتأخرون احتیالا علی الربا الخ، قلت وھو مقید ایضا بماقلنا بما اذاکان یدفع اجر المثل والا کانت سکناہ بمقابلۃ مادفعہ من الدراہم عین الرباکما قالوافیمن دفع للمقرض دارالیسکنھا اوحمارالیرکبہ الی ان یستوفی قرضہ انہ یلزمہ اجرۃ مثل الداراو الحمار علی ان مایأخذہ المتولی من الدراہم ینتفع بہ لنفسہ فلو لم یلزم صاحب الخلواجرۃ المثل للمستحقین یلزم ضیاع حقھم، اللھم الا ان یکون ماقبضہ المتولی صرفہ فی عمارۃ الوقف حیث تعین ذٰلك طریقا الٰی عمارتہ ولم یوجد من یستأجر باجرۃ المثل مع دفع ذٰلك المبلغ اللازم للعمارۃ،فحینئذقد یقال بجواز سکناہ بدون اجرۃ المثل الضرورۃ ومثل ذٰلك یسمی فی زماننا مرصدا کما قد مناہ فی الوقف واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم[5] اھ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع