دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 16 | فتاوی رضویہ جلد ۱۶

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۶

دیا جائے اور یہ کہا جائے کہ اگر خلو کو استقرار کی شرط پر خریدا ہو تو بائع سے رجوع کرکے رقم واپس لی جائے اور خلو کو واپس کردے ورنہ رقم واپس نہ لے اور دکان کو اکھاڑنے سے جو نقصان ہوا وہ واپس نہ لے،سبحان اﷲ! یہ تو بہتان عظیم ہے،حموی کا کلام ختم ہوا،تو واضح ہوگیا کہ خلو ایك معنوی وصف ہے اور سکنی کی طرح باقی رہنے والی مستقل چیز نہیں جس کو اکھاڑا یا ہٹایا یا ختم کیا جاسکے۔

اقول: لکن فی حاشیۃ السیدین العلامتین ط وش علی الدر عن حواشی الاشباہ للعلامۃ السید ابی السعود رحمھم اﷲ ان الخلو یصدق بالعین المتصل اتصال قرار وبغیرہ والمراد بالمتصل اتصال قرار ماوضع لالیفصل کالبناء،و بالمتصل لاعلی وجہ القرار کالخشب الذی یرکب بالحانوت لوضع عدۃ الحلاق مثلا فان الاتصال وجد لکن لاعلی وجہ القرار وکذایصدقان بمجرد المنفعۃ المقابلۃ بالدراھم اھ[1]  وزاد ط عنہ قبل ھذا اعلم ان الخلو یصدق بما اتصل بالعین قرار اتصال کالبناء بالارض المحتکرۃ ویصدق بالدراہم التی تدفع بمقابلۃ التمکن من استیفاء المنفعۃ اذماذکرہ المصنف یعنی صاحب الاشباہ من ان السلطان الغوری لما بنی حوانیت الجملون اسکنھا التجار بالخلو وجعل لکل حانوت قدرا اخذہ منھم الخ صریح فی ان الخلو فی حادثۃ السلطان الغوری عبارۃ عن المنفعۃ المقابلۃ للقدر الماخوذمن التجار فیرجع الٰی ماذکرہ العلامۃ الاجھوری من ان الخلو اسم لما یمبلکہ دافع الدراھم من المنفعۃ التی دفع الدراھم بمقابلتھا وعلی ھذافلایکون الخلو خاصا بالمتصل بالعین اتصال قرار بل یصدق بہ وبغیرہ [2] الخ فھذایفید ان من الخلو ماھو عین قائمۃ کالبناء والخشب المرکب الاان نقول السید الازھری لم یقل الخلو یصدق علی العین المتصل وانما قال یصدق بالعین وذٰلك ان یدفع صاحب الخلو دراہم للواقف مثلا لیبنی فی الوقف و یکون لہ بازائہ منفعۃ استبقاء الاجارۃ فالخلو ھو ھذا المعنی لاالعین،نعم صدقہ بسبب العین وبھذا یفسر مافسر بہ الاجھوری الخلو فالمنفعۃ ھی حق الاستبقاء کما افادہ السید ابوالسعود بقولہ تدفع بمقابلۃ التمکن من استیفاء المنفعۃ فھذاالتمکن ھوالمراد بالمنفعۃ فی تفسیر الاجھوری لکن نقل السید الحموی فی الغمز عن فاضل متأخر مالکی انہ قال بعد نقل کلام العلامۃ نورالدین علی الاجھوری المذکور ظاھرہ سواء کانت تلك المنفعۃ عمارۃ کأن یکون فی الوقف اماکن آئلۃ الی الخراب فیکریھا ناظر الوقف لمن یعمرھا،ویکون ما صرفہ خلوالہ ویصیر شریکا للواقف بمازادتہ عمارتہ اوکانت المنفعۃ غیر عمارۃ کوقید مصباح مثلا ولوازمہ لاخصوص العمارۃ خلافا لمن خص المنفعۃ بھادون غیرھا اذ المعتبر انما ھو عود الدراہم لمنفعۃ فی الوقف عمارۃ کانت او غیرہا اھ[3]۔

اقول:(میں کہتا ہوں)لیکن علامہ طحطاوی اور علامہ شامی دونوں قابل احترام حضرات نے در پر اپنے حواشی میں علامہ سید ابوسعود(رحمہم اﷲ تعالٰی )سے نقل کرتے ہوئے فرمایا، کہ،خلو کااطلاق متصل استقراری عین چیز اور غیر استقراری دونوں پر ہوتا ہے اور متصل استقراری سے مراد وہ چیز ہے جو عمارت میں باقی رکھنے کیلئے لگائی ہو اور متصل غیر استقراری سے مراد مثلًا لکڑی جیسی کوئی چیز جس کو دکان میں لگا کر حجام کے سامان رکھنے کیلئے خانے بنائے جائیں یہ بھی اتصال ہے لیکن یہ علٰی وجہ الاستقرار نہیں ہوگا اور یوں ہی قراری اورغیر قراری کا مصداق وہ منفعت بھی بنتی ہے جو دراہم کے عوض حاصل کی جاتی ہے اھ،اور علامہ طحطاوی نے اس سے قبل علامہ ابوسعود سے یہ زائد نقل کیا ہے کہ واضح رہے کہ خلو کا اطلاق کسی عین چیز کے ساتھ متصل ہونے والی چیز پر ہوتا ہے جیسے عمارت کسی کرایہ کی زمین پر ہو،اور کسی منفعت کودارہم کے بدلے حاصل کرنے کی قدرت پر بھی اسکا اطلاق ہوتا ہے،اور مصنف یعنی صاحب اشباہ نے جو یہ ذکر کیا ہے کہ سلطان غوری نے جب جملون کی دکانیں تعمیر کرائیں تو انہوں نے وہاں تجار کو خلو کے طورپر سکنٰی دیا اور ہر دکان کا کچھ بدل مقرر کرکے ان سے وصول کیا الخ،سلطان غور ی کا یہ واقعہ صریح ہے کہ خلو اس منفعت کا نام ہے جو تجار حضرات سے وصول کردہ کا بدل ہے،تو یہ علامہ الاجہوری کے اس بیان کی طرف راجع ہے کہ خلواس منفعت کا نام ہے جس کا دراہم دینے والا دراہم کے بدلے مالك بنتا ہے اور اس بناء پر خلو،استقراری اتصال والی عین چیز سے خاص نہیں ہے بلکہ اس پر اور غیر استقراری پر بھی صادق آتا ہے الخ،تو یہ بیان اس بات کو مفید ہے کہ خلو،قائم رہنے والی عین چیز مثلًا عمارت اور عمارت پر لگی ہوئی لکڑی دونوں کا نام ہے،الایہ کہ ہم سید ازہری کے متعلق یہ کہیں کہ انہوں نے خلو کا صدق متصل عین پر نہیں کیا بلکہ عین چیزکے عوض پر کیا ہے،یہ یوں کہ خلو والا شخص واقف کو کچھ دراہم دے کرکہے کہ ان سے وقف میں وقف کے اضافہ کے لئے کچھ تعمیر کرے اور اس کے عوض اس کے لئے اجارہ کی منفعت کو باقی رکھنا ہوگا تو خلو اس معنی کا نام ہوگا خاص عین چیز کا نام نہ ہوگا،ہاں اس معنٰی پر اس کا صدق عین چیز کے سبب سے ہوا،خلو کی جو تفسیر علامہ اجہوری نے کی اس کو اسی تفسیر پر محمول کیا جائیگا تو منفعت سے مراد وہاں یہی اجارہ کے حق کی بقاء کا مطالبہ ہے جیسا کہ علامہ ابوسعود نے اپنے قول" دراہم، منعت کو پوراکرنے کی قدرت کے مقابلہ میں دئے جائیں" سے افادہ فرمایا،علامہ اجہوری کی تفسیر میں منفعت سے یہی تمکن مراد ہے،لیکن سید حموی نے غمز میں ایك مالکی متاخر فاضل سے نقل کرتے ہوئے فرمایا کہ انہوں نے علامہ اجہوری کے مذکور کلام پر علامہ نورالدین کے حاشیہ کو نقل کرنے کے بعد فرمایا اجہوری کے کلام سے ظاہر ہے کہ منفعت عمارت ہو کہ وقف کی عمارت کا کوئی حصہ خراب ہورہا ہو تو اسے وقف کا ناظم کسی ایسے شخص کو کرایہ پر دے دے جو اس کی تعمیر کرکے خرچہ کے بدلے اپنے لئے خلوبنالے اور زائد عمارت میں وہ حصہ دار بن جائے یا وہ منفعت غیر عمارت ہو مثلًا چراغ کےلئے کوئی خانہ اور اس کے لوازمات بنالے جو عمارت سے متعلق ہوں نہ کہ خاص وہ عمارت،یہ عام معنٰی اس شخص کے برخلاف ہے جو خلو کو صرف منفعت سے مختص کرتا ہے،یہ اس لئے کہ خلو دراہم کا بدل ہے خواہ وہ عمارت ہو یا کوئی اور چیز ہو۔

اقول: فھذا نص فی ان نفس العمارۃ خلو ولایمکن تاویلہ بماذکرنا فی کلام السید الازھری ان المراد ان یعمرھا للوقف لالنفسہ کیف وانہ فسربہ المنفعۃ الواقعۃ فی تفسیر العلامۃ الاجھوری وھو یقول اسم لما یمبلکہ دافع الدراہم من المنفعۃ [4] الخ الا ان یجعل من ھذہ للتعلیل والمنفعۃ المنفعۃ الآئلۃ الی الوقف وتنقسم الی عمارۃ وغیرہا فیکون مایمبلکہ ھو التمکن من استبقاء الاجارۃ لاجل تلك المنفعۃ التی اوصلھا الی الوقف لکن یکد رد قول الاجھوری فی مقابلتھا فان دفعہ الدراہم انما ھو بمقابلۃ ذٰلك التمکن  لابدل تلك المنفعۃ الآئلۃ الی الوقف وانما ھی حاصلۃ للوقف لالہ بتلك الدراہم فلامخلص الاان یقال ان ھذا کلام متاخر من المالکیۃ فیکون الخلو عندھم شاملا للعین والمعنی وعند نالیس الا المعنی والعین تسمی باسم اٰخر کالسکنی کیف وقد قال ھذاالمالکی بعدہ اما کونہ اجارۃلازمۃ فھذالا نزاع فیہ (ای عند ھم) و وجہہ ان الواقف لما یریدان یبنی محلا للوقف فیأتی لہ اناس یدفعون لہ دراہم علی ان یکون لکل شخص محل من تلك المواضع التی یرید الواقف بناءھا فاذا قبل منھم تلك الدراہم



[1]     ردالمحتار کتاب البیوع داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۱۷

[2]     حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب البیوع دارالمعرفۃ بیروت ۳ /۱۰

[3]     غمز العیون البصائر مع الاشباہ والنظائر الفن الاول ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۱۳۷

[4]     حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب البیوع دارالمعرفۃ بیروت ۳/ ۱۰

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن