دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 16 | فتاوی رضویہ جلد ۱۶

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۶

ا س فائدہ کو یادرکھنا چاہئے،لوگ عام وخاص اس میں مبتلا ہیں کہ لوگوں سے لکڑی اور گھاس وغیرہ کاٹنے میں مددلیتے ہیں حالانکہ مدد کرنے والوں کی ان چیزوں میں ملکیت ثابت ہوجاتی ہے اور لوگوں کو علم نہ ہونے کی بناپر وہ مدد گار کی ان چیزوں کا ہبہ اور اجازت حاصل کئے بغیر صرف کرلیتے ہیں تو ان پر ان چیزوں یا ان کی قیمت کا واپس کرنا لازم ہوتا ہے حالانکہ ان کو اس کا علم تك نہیں ہوتا اھ،متذکرہ صورت میں اجازت نہ ہونا،اگرچہ ہمیں اس میں 

کلام ہے جس کو ہم نے اپنے رسالہ"عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی"میں بیان کیا ہے لیکن یہاں اس کا فائدہ نہیں، کیونکہ اجازت تصرف کو جائز اور ضمان کو ساقط کرتا ہے لیکن مالك کی ملکیت کو ختم نہیں کرتی جبکہ یہاں کلام اسی میں ہے(ت)

 اسی طرح اگر قاضی نے جماعت کو نہ دیں بلکہ کتب خانہ غیر وقفی میں آپ داخل کردیں اگرچہ اپنی ملك بھی جانتا ہو جب بھی اس کی ملك سے خارج نہ ہوں گی پرائے مال میں اپنا مال رکھ دینا ملك زائل نہیں کرتا،بالجملہ صرف یہ دو صورتیں ایسی نکلیں گی جن میں بعض کتب خریدہ قاضی ملك قاضی میں رہیں مگر ازانجا کہ ثمن دوسرے کے مال سے دیا ہے اس کا تاوان ذمہ قاضی رہا جن کتابوں کی نسبت یہ صورت ثابت ہو وارثان قاضی انہیں لیں اور جو قیمت ان کی قاضی نے قومی پیسے یادار القضا کی آمد سے ادا کی وہ واپس دیں ھذا ماظہرلی والعلم بالحق عندربی(مجھے یہ معلوم ہوا ہے جبکہ حقیقی علم میرے رب کے ہاں ہے۔ت) واﷲ تعالٰی  اعلم۔

__________________

رسالہ

جوالُ العلوّ لتبیّن الخلو ۱۳۳۶ھ

(مسئلہ خلو کی وضاحت کے لئے بُلندی کی گردش)

 

مسئلہ۶۹تا۷۳: ازقصبہ لاہر پور ضلع سیتاپور بمکان سید شاہ ولایت احمد صاحب مرسلہ وجد الحسن صاحب ۲۰ذی الحجہ ۱۳۳۶ھ

(۱)اوقاف میں کسی شخص کو کچھ اراضی بطور خلو جس کا ذکر شامی ج ۴کتاب البیوع بحث خلوالحوانیت میں ہے زرپیشگی لے کر اس شرط پر دینا کہ وہ اجر مثل سال بسال اپنے زر پیشگی میں محسوب کرتارہے جائز ہے یاناجائز،اور واضح رہے کہ اس حصہ اراضی موقوفہ کا لگان سالانہ جس موقوف علیہ کے واسطے مخصوص ہے اس نےا پنی ضرورت کے واسطے زر پیشگی لیا ہے اور اسی نے زر پیشگی لینے والے سے معاملت خلو کی ہے اور اس موقوف علیہ کو اس حصہ موقوفہ پر حق متولیانہ بھی حاصل ہے۔

(۲)صاحب خلو کو یعنی جس کو ایسی اراضی دی گئی ہو اراضی کالگان یعنی اجر مثل ادا کرکے جو منافع اس اجر مثل سے زائد ہو،لینا درست ہے یانہیں؟

(۳)اگرصاحب خلو خود اپنی کاشت کرکے یا اپنی کوشش سے اجر مثل کی آمدنی سے زائد آمدنی اراضی مذکور کےاپنے مقابضت خلو کے زمانہ میں بڑھادے تو اس اضافہ کا صاحب خلو مستحق ہے یانہیں؟

(۴)نمبر۲ونمبر۳کی صورت بظاہر رہن دخلی کی سی ہے اور رہن دخلی کا منافع سود ہے،پس خلو اور رہن دخلی میں کیافرق ہوا اور جواز خلو کی کیاصورت ہے اور نفس خلوکون سامعاملہ ہے اور اس کی کیا تعریف ہے؟

(۵)ایك وقف قدیمہ مشہور ہ خاندانی میں اہل خاندان موقوف علیہم ومتولیان نے ضرورت مصارف ضروریہ وقفی پر آمدنی وقف موجود نہ ہونے کی حالت میں اور مہاجنان سے بوجہ وقف قرضہ نہ ملنے کی وجہ سے اکثر اوقات یہ کیا کہ بعض حصص اراضیا ت وقف کو زر پیشگی لے کر زر مذکو ر دینے و الے کے قبضہ میں دے دی اور دستا ویز ٹھیکہ نامہ لکھ دی کہ اس قدر سالانہ لگان اس اراضی کاٹھیکہ دار اپنے زر پیشگی میں مجرا اور بعد وصول کل زر پیشگی مذکور ایك حصہ میعاد پر وہ اراضی صاحب خلو سے واپس ہوکر متولیان وموقوف علیہم کے قبضہ میں آگئی،اس کارروائی سے منکرین وقف عدم وقف کا استدلال کرتے ہیں،یہ استدلال صحیح ہے یانہیں اور معاملت ٹھیکہ داری مذکور معاملت خلو سے سمجھی جائے گی یا اس کے علاوہ ناجائز سمجھی جائے گی اور ان واقعات اور ارتکاب سے وقف کالعدم ہوجائےگا یا باقی رہے گا اور ایسے فعل کا مرتکب قابل تولیت رہے گا یا نہیں،اگرکسی کے مورث نے یہ فعل کیا ہو تو اس کا وارث تولیت پائے گایانہیں؟

الجواب:

بسم اﷲالرحمٰن الرحیم،الحمد ﷲ الذی لاخلو لشیئ من کرمہ،والصلٰوۃ والسلام علی من وقف علی الکون موائد کرمہ وعلٰی اٰلہ واصحابہ المتولین اجراء حکمہ وحکمہ۔

اولًا: خلوخود باطل و بے اصل ہے،مذہب حنفی بلکہ نوسوبرس تك مذاہب اربعہ میں کہیں اس کا پتا نہیں،دسویں صدی میں ایك عالم مالکی المذہب امام ناصر الدین لقانی قدس سرہ نے اسے جائز کیا،اسی صدی کے نصف آخرمیں صاحب اشباہ رحمہ اﷲ تعالٰی  نے اسے برخلاف مذہب اعتبار عرف خاص پر مبنی قرار دیا،اسی صدی اور اس کے بعد کے محققین مثل شیخ الاسلام علی مقدسی وعلامہ حسن شرنبلالی وعلامہ محمد آفندی زیرك زادہ وعلامہ خیرالملۃ والدین رملی وعلامہ سید احمد حموی وغیرہم رَحِمَہُمُ اللہُ تعالٰی  نے اسے رد فرمادیا۔حاشیۃ الرملی علی الاشباہ میں ہے:

قولہ ویصیر الخلوفی الحانوت حقالہ الخاقول : والفتوی علی خلاف ذٰلک،مقدسی[1]۔

اس کا قول کہ اور دکانوں میں خلو اس کا حق بن جاتا ہے الخ اقول:(میں کہتا ہوں)فتوٰی اس کے خلاف ہے،مقدسی۔ (ت)

اسی میں ہے:

قدعلمت ان الصحیح خلافہ بقولہ ان المذھب عدم اعتبار العرف الخاص[2]۔

تو معلوم کرچکا ہے کہ صحیح اس کے خلاف ہے اس کے قول سے کہ عرف خاص کا اعتبار نہ ہونا مذہب ہے(ت)

شرح الاشباہ لزیرك زادہ میں ہے:

العرف لایجوز ماکان محظورافی الشرع واما بیع الخلو اذا لم یکن ملاصقا بالحانوت فجائز شرعا فانہ حق لمالکہ وما وضعہ فی الحانوت بالاجارۃ مشروع لکن الحانوت اذاکان ملکا یملك صاحبھا خراجہ منہ اذاانقضی مدتہ المعروف وان لم تکن لہ مدۃ معلومۃ تکون الاجارۃ فاسدۃ وکذااذاکان الحانوت وقفا قد نص الفقہاء علی انہ لاتجوز الاجارۃ فیہ فوق ثلاث سنین کما فی الوقایۃ فلااعتبار للعرف سواء کان خاصا او عاما حین وجد النص فی الشرع علٰی خلافہ وقد مرمنا تحقیقہ فتذکر[3]۔

 



[1]     نزہۃ النواظر علی الاشباہ والنظائر مع الاشباہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۲ /۱۴

    [2] نزہۃ النواظر علی الاشباہ والنظائر مع الاشباہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی(۲)۲ /۱۵

    [3] شرح الاشباہ لزیرك زادہ

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن