30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بلکہ صورت یہ ہو کہ مثلًا وہ کہے میں نے تیرے ہاتھ بیچیں،یہ اس نے ایجابًا کہا،اب یہ قبول میں کہے میں نے جماعت کے واسطے خریدیں کہ واسطہ لحاظ وخاطر وتمتع بہت معانی کو محتمل ہے۔عنایہ وفتح میں ہے:
ان قال اشتریت منك ھذاالعین لاجل فلان فقال بعت او قال المالك بعت منك ھذاالعین لاجل فلان فقال اشتریت لایتوقف علی اجازۃ فلان لانہ وجد نفاذاعلی المشتری حیث اضیف الیہ ظاھرافلاحاجۃ الی الایقاف علی رضاالغیر وقولہ لاجل فلان یحتمل لاجل رضاہ وشفاعتہ وغیر ذٰلک[1]۔
اگر فضولی کہے میں نے تجھ سے یہ چیز فلاں کے لئے خریدی اور بائع نے کہا میں نے فروخت کی،یا یوں کہ مالك کہے میں نے یہ چیز تجھے فلاں کے لئے فروخت کی تو یہ جواب میں کہے میں نے خریدی،تو بیع موقوف نہ ہوگی،کیونکہ جب صراحتًا خریدار پر بیع کا نفاذ کیا جارہا ہے تو اب اس کی اجازت اور رضا پر موقوف رکھنے کی ضرورت نہیں،اور بیع میں،فلاں کے لئے،کو فلاں کو سفارش پر محمول کیا جائیگا۔(ت)
اس مسئلہ کی تحقیق بازغ وتنقیح بالغ ہمارے اسی رسالہ"عطیۃ النبی فی الشراء للاجنبی۱۳۳۶ھ"میں ہے اس تقدیر پر قاضی کے دل میں وقت شراء جماعت کےلئے خرید نے کی نیت ہونی یا قیمت مال جماعت سے ادا کرنی کچھ مانع نفاذ علی المشتری نہ ہوگا۔ درمختار میں ہے:
لواشتری لغیرہ نفذ علیہ اذا لم یضفہ الی غیرہ[2]۔
اگرغیر کےلئے خریدی تو اس پر نافذ ہوجائیگی جب بائع نے فروخت کرنے کی غیر کی طرف نسبت نہ کی ہو(ت)
فتاوٰی اما م قاضی خان وخزانۃ المفتین ووجیز امام کردری میں ہے:
یقول المالك بعت ھذا منك بکذافقال الفضولی قبلت اواشتریت ونوٰی الشراء لفلان فان الشراء ینفذ علیہ ولا یتوقف[3]۔
مالك کہے میں نے تجھے یہ چیز فلاں رقم پر فروخت کی اور جواب میں فضولی کہے میں نے قبول کی یاخریدی اور نیت فلاں غیرشخص کےلئے خریداری کی کی،تو یہ خریداری اس فلاں کیلئے نافذ ہوجائیگی اورموقوف نہ ہوگی(ت)
فتاوٰی خیریہ میں ہے:
لایلزم من الشراء من مال الاب ان یکون المبیع للاب[4]۔
والد کے مال سے خریداری ہو تو یہ لازم نہیں کہ خریدی ہوئی چیز والد کی ہوگی(ت)
اس صورت میں اگر کتب خانہ وقف ہے تو قاضی کا کتاب خرید کر اس میں داخل کردینا وقف کرنا ہی سمجھا جائیگا کہ اس کےلئے دلالت کافی ہے تصریحًا زبان سے لفظ وقف کہنا ضرور نہیں جس طرح لوگ مسجد میں لوٹے چٹائیاں رکھ جاتے ہیں اور اگر وقف نہیں اور یہ کتابیں قاضی نے خرید کر جماعت کودے دیں تو اب ملك جماعت ہوگئیں کہ یہ دینا نہ عاریۃً تھا،نہ بالمعاوضہ،تو ہبہ قرارپائے گا اور بعد قبضہ مفید ملك ہوگا،
قال فی ردالمحتار نفذ علی المشتری فان دفع المشتری الیہ واخذ الثمن کان بیعا بالتعاطی بینھما [5] اھ وکتبت علیہ اقول : یعنی اذا کان الدفع علی جھۃ البیع کما قید بہ فی الھدایۃ والدر المختار من الوکالۃ اما اذا دفع الیہ مجانا یکون ھبۃ کمن اشتری ثوباوقطعہ قمیصا لتلمیذہ وسلمہ الیہ مبلکہ التلمیذ کما سیأتی فی الھبۃ[6]۔
ردالمحتار میں فرمایا خریدار پر بیع نافذ ہوجائے گی تو اگر خریدار نے اس کو دے کر قیمت وصول کرلی تو یہ دونوں میں بیع بالتعاطی(عملی لین دین)ہوگی اھاقول :(میں کہتا ہوں)یہ جب ہے کہ دینا بیع کے طور پر ہو جیسا کہ اس قید کاذکر،ہدایہ اور درمختار کے وکالت کے باب میں ہے،لیکن اگر یہ دستی دینا بطور مفت ہوتو ہبہ قرار پائے گا جیسا کہ کوئی کپڑا خریدکر شاگرد کے لئے قمیص بنائے اور پھر شاگرد کے ہاتھ سونپ دے تو شاگرد مالك ہوجائیگا جیسا کہ ہبہ کے باب میں آئے گا۔(ت)
اقول: مگر یہ اس وقت ہے کہ قاضی جانے کہ یہ شراء مجھ پر نافذ اور کتاب کا مالك میں ہواہوں ورنہ غلط فہمی کی حالت میں اس کا اپنی ملك سے اخراج کا قصد متحقق نہیں ہوسکتا کہ اپنے آپ کو مالك ہی نہ سمجھا تھا،
ولاعبرۃ بالظن البین خطؤہ[7] اشباہ ومن رفع شیئا ظانا انہ علیہ ثم بان انہ لم یکن علیہ یستردہ [8] کما افادہ فی الخیریۃ والعقود الدریۃ۔
گمان کاغلط ہونا واضح ہوتو اس کا اعتبار نہیں،اشباہ،اور کسی نے کوئی چیز اس گمان سے دی کہ اس کے ذمہ ادائیگی ضرور تھی،پھر معلوم ہوا کہ ایسا نہیں تھا تواس کو واپس لینے کا حق ہے جیسا کہ خیریہ اورعقوددریہ نے یہ فائدہ بیان کیا۔(ت)
قنیہ وہندیہ میں ہے:
ینبغی ان یحفظ ھذافقد ابتلی بہ العامۃ والخاصۃ یستعینون بالناس فی الاحتطاب والاحتشاش فیثبت الملك للاعوان فیہا ولایعلم الکل بھا فینفقونھا قبل الاستیہاب بطریقہ او الاذن فیجب علیہم مثلھا او قیمتھا وھم لایشعرون[9] اھ وعدم الاذن فیما ذکر وان کان لنا فیہ کلام بیناہ فی رسالتنا”عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ”لکنہ لایجدی ھھنا لان الاذن یطلق التصرف ویسقط الضمان لکن لایسقط ملك المالك وفیہ الکلام ھنا۔
[1] العنایۃ مع فتح القدیر کتاب البیوع فصل فی بیع الفضولی مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۱۹۱،فتح القدیر کتاب البیوع فصل فی بیع الفضولی مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۱۹۰
[6] جدالممتار حاشیۃ ردالمحتار
[7] الاشباہ والنظائر الفن الاول ادارۃ القرآن کراچی ۱ /۱۹۳
[8] العقودالدریۃ کتاب الشرکۃ ۱/ ۱۹ وکتاب المداینات ۲ /۳۴۹
[9] فتاوٰی ہندیۃ،کتاب الاجارۃ،الباب السادس،نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۴۵۱
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع