دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 16 | فتاوی رضویہ جلد ۱۶

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۶

جب مخالف نہ ہو،تاکہ دھوکا کا احتمال نہ ہو،درمختار،اور مخالفت کو بحر میں بیان کیا،اور اس لئے کہ اس میں اپنے آپ کو معزول ہونا ہے جس کا وہ اپنے موکل کی حاضری کے بغیر مالك نہیں،ردالمحتار نے باقانی سے بحوالہ ہدایہ نقل کیا۔

ثانیًا: عقد ایجاب میں جماعت کی طرف مضاف نہ ہو مثلًا اس نے بائع سے کہا یہ کتاب میں نے تجھ سے جماعت کی طرف سے خریدی اس نے کہا میں نے بیچی یا اس نے کہا میں نے یہ کتاب جماعت کے ہاتھ بیع کی اس نے کہا میں نے خریدی کہ اس صورت میں نفس عقد جماعت ہی کے لئے ہوگا اور مشتری پر نافذ نہیں ہوسکتا۔

علی ماحققنا صورۃ بتفا صیلھا فی کتاب البیوع من فتاوٰنا فی تحریر حافل کامل سمیناہ"عطیۃ النبی فی الاشتراء للاجنبی"بمالایوجد فی غیرہ وباﷲ التوفیق۔

جو ہم نے اپنے فتاوٰی کی کتاب البیوع میں اس کی تفصیلی صورتوں کی تحقیق کی ہے وہ جامع کامل تحریر ہے ہم نے اس کا نام"عطیۃ النبی فی الاشتراء للاجنبی"رکھا ہے،یہ تحقیق اس کے غیر میں نہیں ملے گی،اور توفیق اﷲ تعالٰی  سے ہے۔ (ت)

ثالثًا:عقد کو مال جماعت کی طرف بھی مضاف نہ کرے فقط جماعت کا روپیہ دکھا کر کہا اس روپے کی فلاں فلاں کتاب تجھ سے خریدی۔

رابعًا:خریداری میں جماعت کےلئے خرید نے کی نیت نہ کرے ورنہ وہ دیانۃً علی الاطلاق جماعت ہی کےلئے ہے۔

خامسًا: قیمت میں مال جماعت نہ دے ورنہ وہ جماعت ہی کےلئے ٹھہریں گی اگرچہ اپنے لئے خریداری کی نیت بتائے،

وتفصیلہ ذٰلك فی البحر ولخصناہ فی جدالممتار بقولی وبالجملۃ اذاکان وکیلًا بشراء شیئ لابعینہ فالاضافۃ قاضیۃ فان لم توجد فالنیۃ فان لم توجد فللعاقد عند محمد ان سلم الاٰمر ایضا عدم النیۃ وان قابل بل نوی لی حکّم النفقد کما لوتخالفا فیہا وعند ابی یوسف یحکم النقد فی الوجھین وھو الراجح قدمہ قاضیخان واٰخر دلیلہ فی الھدایۃ فتحصل ان الحکم للاضافۃ فان لم توجد فللنیۃ فان لم توجد اوتکاذبا فیہا فللنقد[1]،واﷲ تعالٰی  اعلم۔

اس کی تفصیل بحر میں ہے،ہم نے جدالممتار میں اپنے اس قول کے ساتھ اس کی تلخیص کی ہے کہ خلاصہ یہ ہے کہ اگر کسی غیر معین چیز کی خریداری کا وکیل ہوتو وہاں نسبت فیصل بنے گی اگر نسبت نہ ہوتوپھر نیت پر فیصلہ ہو گا اگر نیت بھی نہ ہو تو پھر خریدار کی نیت معتبر ہے جب آمر تسلیم کرلے کہ میرے لئے نیت نہ تھی اور اگر کہے خریدا ر وکیل نے میرے لئے نیت کرکے خریدا ہے تو صرف ایسی صورت میں امام محمد کے ہاں مروج سکے پر فیصلہ ہوگااور امام ابویوسف رحمہمااللہ تعالٰی  کے ہاں دونوں صورتوں میں سکے کو فیصل قرار دیا جائے گا اور یہی راجح ہے،قاضی خاں نے اسے پہلے ذکر کیا اور ہدایہ میں اسکی دلیل کو بعدمیں ذکر فرمایا۔تو حاصل یہ ہوا کہ اضافت پر حکم ہوگا ورنہ نیت پر،اگر نیت نہ ہو یا

دونوں اختلاف کریں تو پھرنقد پر فیصلہ ہوگا۔واﷲتعالٰی  اعلم۔(ت)

یہاں اگرچہ نفاذعلی المشتری سے تین مانع اول کثیر الوقوع نہیں مگر خامس ہی غالب ہے اور کتابیں لاکر سپردجماعت یا داخل کتب خانہ افتاء وقضاء کرنا رابع پر شاہد۔یونہی وہ کتابیں کہ قاضی نے قومی پیسے یاآمدنی دار القضاء سے خریدیں یہاں بھی ظاہر عبارت سوال یہ ہے کہ قاضی نے اپنے مال سے نہ خریدیں اگرچہ اس کی تنخواہ بھی اسی پیسے یا آمدنی سے ہوتی ہومگر عبارت اس سے ساکت ہے کہ قاضی کا شراء بھی بامرجماعت تھایا بطور خود۔اگر صورت اولٰی ہے کہ قاضی نے اس مال سے کتابیں بامرجماعت خرید کر داخل کتب خانہ مذکورہ کیں تو ان کا بھی یہی حکم ہے کہ وہ وقف یا ملك جماعت ہوئیں کہ اب قاضی وہ مشتری ہے جس میں وجہ رابع وخامس مانع تملك ہیں،اور اگر صورت ثانیہ ہے تو اب مانع نفاذ صرف وقت ایجاب بیع میں اضافت بجماعت ہونا ہے وبس۔اگر یہ اضافت نہ ہو تو ایجاب میں مشتری کی طرف اضافت صراحۃً دلالۃً سے چارہ نہیں ورنہ بیع ہی نہ ہوگی،تجنیس ناصری وتاتارخانیہ وہندیہ میں ہے:

لوقال من فر وختم ایں بندہ بہزاردرم توخریدی فقال مجیبا لہ خریدم تم البیع،اما لوقال من فروختم ایں بندہ را بہز ار درم فقال المشتری خریدم ولم یزد علی ھذا لایکون بیعا لعدم الاضافۃ [2]       اھاقول : ای اذا لم تجربینہما المساومۃ والاکفی بھادلالۃ کقولہ ھٰھنا توخریدی فانہ ایضالیس باضافۃ فی الایجاب انما فیہ دلالۃ علیہا وذٰلك اعنی الاکتفاء بدلالۃ الاستیام کما فی تجنیس الامام صاحب الھدایۃ ثم الفتح لو قال لاٰخر بعد ماجری بینھما مقدمات البیع بعت ھذا بالف ولم یقل منك وقال الاٰخر اشتریت صح ولزم اھ[3]۔

اگر کہا میں یہ غلام ہزار درم میں فروخت کرتا ہوں تو خرید یگا تو دوسرے نے جواب میں کہا میں نے خریدا تو بیع تام ہوجائے گی۔لیکن اگر یوں کہا میں یہ غلام ہزار درم میں فروخت کرتا ہوں تو دوسرے نے کہا میں نے خرید ا،اور اس پر کوئی زائد بات نہ کی تو بیع نہ ہو گی کیونکہ اس صورت میں خرید نے کی نسبت اس غلام کی طرف نہ ہوئی اھاقول :(میں کہتا ہوں)یہ اس صورت میں ہے کہ جب پہلے اس غلام کے متعلق سودے کا ذکر نہ ہو،ورنہ یہی نسبت کافی ہے جو دلالۃً موجود ہے جیسا کہ یہاں بھی ایجاب یعنی"توخریدی"میں نسبت مذکور نہیں اس میں صرف دلالۃً نسبت ہے،اور یہ یعنی بھاؤلگانا نسبت کےلئے کافی ہے جیساکہ صاحب ہدایہ سے تجنیس میں پھر فتح میں ہے کہ ایك نے دوسرے کو کہا میں نے یہ ہزار میں فروخت کیا اور"تجھ سے"نہ کہا،اور دوسرے نے کہا میں نے خریدا،جبکہ دونوں میں پہلے بیع کے مقدمات(بھاؤ وغیرہ)ہوچکے ہوں تو بیع صحیح اور لازم ہوجائے گی اھ(ت)

او رجب ایجاب میں مشتری غیر مامور کی طرف اضافت ہے اگرچہ اسی قدرکہ اول قول اسی نےکیا تو بیع اسی کے حق میں نافذ ہوگئی لان الشراء متی وجد نفاذ ًاعلی المشتری نفذ(کیونکہ جب خریداری شیئ پر نافذ کرتے پائی جائے تو وہ مشتری پر نافذ ہوجاتی ہے۔ت) عام ازیں کہ قبول میں بھی اسی مشتری کی طرف اضافت ہو مثلًا بائع کہے میں نے تیرے ہاتھ بیع کیں یا یہ کہے میں نے اپنے لئے خریدیں یا پہلے یہ کہے پھر وہ خواہ قبول میں کسی طرف اضافت نہ ہو،مثلًا بائع کہے میں نے تیرے ہاتھ بیچیں یہ کہے میں نے لیں یا قبول کیں،یا کہے میں نے اپنے لئے خریدیں وہ کہے میں نے دیں یا بیچیں خواہ قبول میں جماعت کی طرف اضافت محتملہ قابل تاویل ہو جوعقد کو جماعت کے حق میں متعین نہ کردے کہ اس صورت میں بوجہ اختلاف ایجاب وقبول بیع ہی باطل ہوگی جیسے وہ کہے میں نے تیرے ہاتھ بیع کیں یہ کہے میں نے جماعت کی طرف سے قبول کیں،خانیہ میں ہے:

لوقال الفضولی اشتریت ھذالفلان بکذا اوقال البائع بعت منك الصحیح انہ باطل[4]۔

اگر فضولی نے کہا یہ میں نے فلاں کے لئے خریدا،اوربائع نے کہا میں نے تجھے فروخت کیا،تو صحیح یہ ہے کہ بیع باطل ہوگی۔(ت)

 



[1]     جدالممتار حاشیہ ردالمحتار

[2]     فتاوٰی ہندیہ کتاب البیوع الباب الثانی نورانی کتب خانہ کراچی ۳ /۵

    [3] فتح القدیر کتاب البیوع مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵ /۴۵۹

    [4] فتاوٰی قاضی خاں کتاب البیوع فصل فی البیع الموقوف نولکشور لکھنؤ ۲ /۳۵۱

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن