30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
یہ نہ وقف ہے نہ وصیت،نہ کوئی شئے،نہ اسکی پابندی اصلًا کسی طرح وارث خواہ غیر پر کچھ لازم،یہ ایك وقفنامہ نامکمل کاخاکہ ہے جو نہ قلم مورث سے ہے نہ دستاویزوں کے عنوان معروف(میں کہ فلاں بن فلاں الخ)سے اس کی ابتدا،نہ اس پر کوئی شہادت،ایسا کاغذ ایك ردی پرچے سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا،خصوصًا اس کا ختم اس پر ہے کہ لہذا وقفنامہ ہذا کو تکمیل ورجسٹری کرائے دیتا ہوں تاکہ سند رہے اور وقت پر کام آئے،فقط۔زیادہ سے زیادہ یہ گمان ہوسکتا ہے کہ مورث نے وقف کا قصد کیا اور کسی شخص سے اس کا مسودہ کرایا اور اس میں خودترمیم کی پھر،رائے نہ ہوئی اور اسے موقوف رکھا ولہذا تکمیل نہ کی،نہ رجسٹری کرائی۔یہ اگر ہو بھی تو اس قدر سے کچھ نہیں ہوتا کہ ایك ارادہ تھا جو ہوکر رہ گیا،یہ بھی بفرض تسلیم ہے ورنہ ثابت اس قدر بھی نہیں کہ یہ کاغذ مورث نے لکھوایا یا مورث کی رائے سے لکھا گیا،حواشی پر قلم مورث سے کچھ لکھا معلوم ہونا کوئی دلیل نہیں خط خط کے مشابہ ہوتا ہے،بہرحال وہ ایك مہمل کاغذ ہے جس کا کچھ اثر نہیں،اشباہ والنظائر میں ہے:
لایعتمدعلی الخط ولایعمل بمکتوب الوقف الذی علیہ خطوط القضاۃ الماضین[1]۔
خط پر اعتماد نہ کیاجائے اور وقف نامہ جو گزشتہ قاضی حضرات کے اس پر خطوط لکھے ہوئے ہیں ان پر عمل نہ کیا جائے گا۔(ت)
عقودالدریہ میں ہے:
کتاب الوقف انما ھو کاغذبہ خط وھو لایعتمد علیہ ولایعمل بہ کما صرح بہ کثیر من علمائنا[2]۔
وقف کی کتاب،وہ ایك کاغذ ہے اس پر خط ہے جو قابل اعتماد نہیں اور نہ اس پر عمل جائز ہے جیسا کہ ہمارے اکثرعلماء نے اس پر تصریح کی ہے(ت)
ردالمحتار میں ہے:
اذاکان مصدرامعنونًا فکالنطق اذااعترف ان الخط خطہ بخلاف مااذا لم یکن مصدرا معنونا وھذا ذکروہ فی الاخرس وذکر فی الکفایۃ اٰخر الکتاب عن الشامی ان الصحیح مثل الاخرس فاذاکان مستبینا مرسوما وثبت ذٰلك باقرارہ او ببینۃ فھو کالخطاب اھ والمعنون لحاضر اذاکتب علی وجہ الصکوك یقول فلان الفلانی [3] الخ اھ ملتقطا واﷲتعالٰی اعلم۔
جب ابتداء میں عنوان قائم کیا گیا ہوتو پھر زبانی گفتگو کی طرح ہوگا جب یہ اعتراف بھی ہو کہ یہ میر اخط ہے بخلاف اس کے کہ وہ عنوان سے شروع نہ کیا ہو،اس کو انہوں نے گونگے کے متعلق ذکرکیا ہے،اور کفایہ میں کتاب الوقف کے آخر میں علامہ شامی سے نقل کرتے ہوئے ذکر کیا کہ صحیح بھی گونگے کی طرح ہے کہ جب اس کی تحریر واضح ہواور معنون لکھی گئی ہو اور اسکے اقرار یا گواہی سے ثابت ہوتو وہ خطاب کی طرح ہے اھ،معنون کسی مخاطب کے نام ہو اور چیك کی لکھائی ہو اور یوں لکھے فلاں جوفلاں ہے،الخ اھ ملتقطا، واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم(ت)
مسئلہ۶۸: ازبمبئی مرسلہ قاضی شریف عبداللطیف صاحب قاضی بمبئی ۶ربیع الاول شریف ۱۳۳۷ھ
بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم حامد اومصلیا
ماقولکم ایھا العلماء الکرام(اے علمائے کرام! آپ کا کیافرمان ہے کہ۔ت)قاضی شریف عبداللطیف صاحب مرحوم مغفور ۱۸۵۰ء میں بمقام شولاپور منجانب حکومت مفتی مقرر کئے گئے ۱۸۵۶ء میں بمقام رتنا گری اسی عہدہ پر منتقل ہوگئے اسی عرصہ میں محکمہ افتا ءکے لئے کتابوں کا ذخیرہ جماعت المسلمین کی جانب سے مہیا کردیا گیا من بعد ۱۸۶۴ء میں گورنمنٹ نے عہدہ مفتی موقوف کرکے صاحب موصوف کی پنشن مقرر کردی جوان کے حین حیات تك جاری رہی۱۸۶۶ء میں بمبئی کے جماعت المسلمین کے اہل حل وعقد ورؤسا نے بالاتفاق ان ذات ستو دہ صفات کو عہدہ قضا سپردکیا،کتب خانہ محکمہ افتاء رتنا گری بھی وہاں کے اکابر واصاغر مسلمین کی اجازت سے بمبئی منتقل ہوگیا بلکہ یہاں کے بزرگان اسلام نے اس کی مزید تکمیل فرمائی،آج تك وہ کتب خانہ عطیہ قوم دار القضا کے متعلق سمجھا جاتا ہے اس صورت سے کہ جو شخص مسند قضا پر متمکن ہوتا ہے اس کے قبض وتصرف اور نگرانی میں بطور امانت رہتا ہے،قاضی کو اس میں کسی قسم کی کمی کرنے یا کسی کتاب کے فروخت کرنے کا اختیار نہیں ہے،البتہ حسب ضرورت قومی پیسہ سے یا محکمہ قضاء کی آمد سے اضافہ کرسکتے بلکہ کرتے رہتے ہیں،قاضی شریف عبداللطیف مرحوم ومغفور کے رحلت فرمانے کے بعد ان کا تمام ترکہ ورثہ میں تقسیم ہوا مگر کتب خانہ منجملہ عطا یائے قوم مخصوص برائے مسند قضا ناقابل التقسیم قرار دیا گیا قاضی صاحب مرحوم کے بعد ان کے چھوٹے صاحبزادے جناب شریف محمد صالح صاحب حسب استرضائے ارباب حل وعقد جماعت المسلمین بمبئی قضاء پر متمکن ہوئے اور کتب خانہ ان کی نگرانی میں رہا،۱۳۳۶ھ میں انہوں نے بھی رحلت فرمائی اور بجائے ان کے جناب شریف عبداللطیف صاحب(ان کے فرزنداکبر)کے سپرد محکمہ قضا اور اس کے متعلق کتب خانہ کیا گیا،پس دریافت طلب صرف یہ امر ہے کہ یہ کتب خانہ جو دارالقضاکے متعلق ہے اور عطیہ قوم وہ بھی مثل دیگر مال متروکہ کے ورثہ میں تقسیم ہوگا یا حسب دستور سابق محفوظ ومامون ان قاضی صاحب کے پاس رہے گا جو فی الحال خدمت قضاانجام دے رہے ہیں۔
الجواب:
جبکہ وہ کتابیں جماعت مسلمین محکمہ افتاء یا دارالقضا کے لئے جمع کیں قاضی کو ان کا مالك نہ کیا جیسا کہ تعامل مذکور سوال سے واضح ہے تو ورثہ قاضی کے ان میں کوئی حق وراثت نہیں اگر جماعت نے وقف کیں توظاہراور نہ کیں تو ملك جماعت ہیں یا نفاذ شراء علی المشتری کی صورت میں ملك مشتری اور وہ زرجماعت کاضامن ہے بہر حال ملك قاضی نہیں،غیر قاضی نے جو کتابیں جماعت کے لئے خریدیں ان میں نفاذ علی المشتری کی صورت یہاں نادر ہے ہم نے اپنے فتاوٰی کتاب الوقف میں مبین کیا ہے کہ زرِ چندہ چندہ دہندوں کی ملك پر رہتا ہے اور ان کی اجازت سے صرف ہوتا ہے خریداری کتب اگر اہل جماعت نے خود نہ کی تو معہودیہ ہے کہ دوسرا ان کے امر سے کرتا ہے ثمن ان کے روپے سے ادا کیاجا تا ہے جو انہوں نے خریداری کے لئے پہلے دے دیا بعد خریداری اداکیااس صورت میں اس مشتری کے مالك کتب ہونے کےلئے یہ درکار کہ:
اولًا: جماعت نے اسے کسی کتاب معین مشخص کے شراء کاوکیل نہ کیا ہو،یعنی کسی جلد خاص کی نسبت کہ بعینہ یہ جلد خرید دے(یہ کہنا کہ ہدایہ یا فلاں مطبع کی ہدایہ یا فلان دکان سے مصری چھاپے کی ہدایہ یہ شے معین کے لئے توکیل نہیں جبکہ اس دکان پر مصری طبع کے متعدد نسخے ہدایہ ہوں)کہ اس صورت میں وہ غیبت جماعت میں اسے اپنے لئے خرید ہی نہیں سکتا،
حیث لم یکن مخالفا دفعا للغرر درمختار[4] ،وبین المخالفۃ فی البحر،ولان فیہ عزل نفسہ فلایمبلکہ علی ما قیل الابمحضرمن الموکل [5] ردالمحتار عن الباقانی عن الھدایۃ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع