30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جوشئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کےلئے وقف ہوگئی اس میں کسی کو دعوی نہیں پہنچتا، یہاں سوال سے ظاہر یہ ہے کہ عورت نے اپنی حالت صحت میں یہ وقف کیا تو اب کسی رشتہ دار کا اس میں مزاحمت کرنا محض ظلم ونامسموع ہے اور یہاں کوئی کسی کو تعزیر نہیں دے سکتا، بڑی تعزیر یہ ہے کہ جس سے بات واقع ہومسلمان اسے چھوڑدیں۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۶۴: ازشہر جیت پور ملك کاٹھیاوار چھوٹی چوك مسئولہ حاجی امداداحمد حامد متولی جمعہ مسجدکیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ یہاں کا طریقہ ہے کہ جب کوئی شخص بیمار ہوتا ہے یا فوت ہوتا ہے تو اس کی جانب سے اس کے عزیز ایك یا چند قرآن پاك مسجد میں بھیجتے ہیں اس نیت سے کہ لوگ پڑھیں تاکہ ہم کو ثواب ملے،اب چونکہ جامع مسجد میں وہ بکثرت جمع ہوگئے اور بیکار رکھے ہیں جن کا انجام سوائے گلنے اور بوسیدہ ہونے کے کچھ نہیں ہے کیونکہ پڑھنے والے چند اور قرآن بکثرت جمع،تو ان کو ہدیہ کرکے وہ پیسہ مسجد کے صرف میں لاسکتے ہیں یانہیں،مسجد سے ملحق ایك مدرسہ قرآن ہے اور نیز شہر میں بھی قرآن کے مدرسے ہیں ان میں
ان قرآنوں کو متولی بھیج سکتاہے یانہیں نیز اگر اس شہر کے مدارس سے بچ رہیں تو دوسرے شہر کے مدارس میں بھیجے جاسکتے ہیں یانہیں؟
الجواب:
اگر اس بھیجنے سے مصحف شریف اس مسجد پر وقف کرنا مقصود نہیں ہوتا جب تو بھیجنے والوں کو اختیار ہے وہ مصاحف ان کی ملك میں باقی ہیں جو وہ چاہیں کریں اور اگر مسجد پر وقف مقصود ہے تو اس میں اختلاف ہے کہ ایسی صورت میں اسے دوسری مسجد بھیج سکتے ہیں یانہیں،جب حالت وہ ہو جوسوال مذکور میں ہے اور تقسیم کی ضرورت سمجھی جائے تو قولِ جواز پرعمل کرکے دوسری مساجد ومدارس پر تقسیم کرسکتے ہیں اس شہر کی حاجت سے زائد ہو تودوسرے شہر کو بھی بھیج سکتے ہیں مگر انہیں ہدیہ کرکے،ان کی قیمت مسجد میں نہیں صرف کرسکتے۔درمختار میں ہے:
وقف مصحفا علی المسجد جاز ویقرأ فیہ ولایکون محصورا علی ھذاالمسجد[1]۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسجد کے نام قرآن کاوقف جائز ہے وہاں اس کی تلاوت کی جائے لیکن وہ اس مسجد کے لئے پابند نہیں ہوگا۔واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)
مسئلہ۶۵: مسئولہ عبداللہ لوہار مقام چندوسی ضلع مراد آباد محلہ سنبھل دروازہ ۱۹جمادی الآخر ۱۳۳۹ھ
چہ می فرمایند علمائے دین دریں مسئلہ،ایك باغ(اعگہ)کے دو بھائی مسمیان خواجہ بخش وعظیم مالك تھے اور دونوں کی کوئی اولاد نہیں تھی،عظیم بخش نے ایك بھتیجا لے لیا تھا مسمی حسین،اور اس نے نصف باغ کا داخل خارج کاغذات سرکاری میں کرادیا عرصہ تیس سال کا ہوااور اب تك اسی کے نام داخل خارج چلاآتا ہے اب دوسرے بھائی خواجہ بخش نے بھی باغ بیت اللہ شریف کے جاتے وقت فی سبیل اللہ وقف کردیاتھا جبکہ عظیم بخش کا انتقال ہوگیا تھا ایسی صورت میں حصہ بھتیجا حسین کو پہنچ سکتا ہے یا بھائی مالك ہے؟بینواتوجروا
الجواب:
بیان سائل سے معلوم ہوا کہ وہ نصف باغ بلاتقسیم عظیم بخش نے بھتیجے کے نام ہبہ کردیا تھا اور عظیم بخش نے اپنے انتقال کے بعد بھائی کے سوا کوئی وارث نہ چھوڑا تو وہ ہبہ جو بھتیجے کے نام تھا عظیم بخش کی موت سے باطل ہوگیا۔درمختار موانع رجوع میں ہے:
المیم موت احد المتعاقدین بعد التسلیم فلوقبلہ بطل[2]۔
قبضہ دے دینے کے بعد عاقدین میں سے کسی کا فوت ہوجانا، تو اگر قبضہ دینے سے پہلے فوت ہوتو عقد باطل ہوگا۔(ت)
تو کل باغ کا مالك خواجہ بخش ہوا جب اس نے وقف کردیا وقف ہوگیا اب نہ اس کا ہے نہ بھتیجے کا،خالص مِلك الٰہی ہے عَزَّ وَجَلَّ ۔واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ۶۶: از علی گڑھ محلہ دہلی دروازہ تکیہ بخشی کریم اللہ صاحب مسئولہ عبدالکریم وعبدالعزیز وغیرہ ۲۱رجب ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں عالمان دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك تکیہ اور کچھ اراضی باڑہ کے نام سے کہ جو قدیم الایام سے واسطے فاتحہ حضرت فیض اللہ شاہ صاحب اور حضرت بانام شاہ صاحب کے وقف چلی آتی ہے اور اس کے متولی اور متصرف ہمارے اجداد سے تھے اور اس کی آمدنی سے فاتحہ اور عرس ہمیشہ ہوتا رہتا ہے اس میں پہلے یہ تصرف ہوا کہ اس زمین میں کچھ دکانیں بنوادیں گئیں اور پھر تکیہ کی زمین سے کچھ حصہ اشخاص کے ہاتھ بیع کردیا گیا اور باڑہ کی زمین میں ایك گنج آباد کراکے اس کو رہن کردیا اب استفسار طلب یہ امر ہے کہ آیایہ بیع اور رہن اس اراضی موقوفہ کا شرعًاجائز ہے یانہیں؟اور یہ تصرف کیا حکم رکھتا ہے؟اس کا جواب بحوالہ کتب بیان فرمایا جائے۔بینواتوجروا(بیان کیجئے اجرپائیے۔ت)
الجواب:
وقف کے رہن وبیع ناجائز ہیں،درمختار میں ہے:
فاذا تم ولزم لایملك ولایملك ولایعار ولایرھن[3]۔
جب وقف تام اور لازم ہوجائے تو کوئی نہ اس کا مالك بنے نہ کسی کو مالك بناسکے،نہ عاریۃً دیاجائے اورنہ رہن رکھاجاسکے گا(ت)
دکانیں اگر تکیہ میں بنائی گئیں تو قطعًاناجائز ہیں اور باڑے میں متولی نے منفعت وقف کےلئے بنوائیں اور ان میں کوئی مخالفت شرط وواقف وتغییر ہیئات وقف نہ تھی تو حرج نہیں ورنہ وہ بھی ناجائز ہیں کمانص علیہ فی فتح القدیر والفتاوی الھندیۃ وغیرھما(جیسا کہ اس پر فتح القدیر اور فتاوی ہندیہ وغیرہما میں تصریح کردی ہے۔ت)واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۶۷: مرسلہ چودھری رشید الدین صاحب اشرف صاحب تعلقدار وآنریری مجسٹریٹ ازبیار ضلع بارہ بنکی
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ قاضی امیر اشرف صاحب مرحوم نے وفات پائی ان کے کاغذات سے ایك تحریر برآمد ہوئی جس کی نقل مطابق اصل شامل استفتاء ہذا ہے جو ان کے ہاتھ کی لکھی ہوئی نہیں ہے مگر جا بجا اس کے حواشی وغیرہ پر عبارت ان کے قلم کی لکھی ہوئی ہے آیا اس تحریر پر عملدرآمد شرعًا ہوسکتا ہے یانہیں؟یہ وقف سمجھاجائے گا یا وصیت؟اور اس کی پابندی ہر دو طریق سے کسی طریق پرورثاء کے ذمہ لازم ہے یا نہیں؟بینواتوجروا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع