30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وارصاد نہیں، نہ اوقاف قدیمہ کے لئے واقف کا نام معلوم ہونا ضرور، نہ کوئی سند پیش کرنا لازم، ورنہ لاکھوں وقف خصوصًا مساجد باطل ہوجائیں، خود سائل کا بیان ہے کہ مواضع سلاطین دہلی نے مصارف امور مذہبی اور ایك خاندان کی مدد معاش کےلئے معاف کئے اور یہ کہ تا زمان سلطنت انگلشیہ موافق نیت عطا کنندہ اس پر عملدرآمد رہا اور یہ کہ اس کے بعد سے تاحال ورثاء معافی داران اغراض معافی میں محاصل مواضع میں سے خرچ کرکے بقیہ محاصل کو اپنی مدد معاش میں صرف کرتے رہے، یہ شان وقف ہی کی ہوتی ہے، اور اگر کسی خاص شخص کو جاگیر دینی ہوتی ہے تومصارف خیر کی قید نہ لگائی جاتی، نہ یہ کہ ان سے جو بچے وہ مدد معاش میں صرف ہو، نہ اس کے موافق قدیم سے اب تك عملدرآمد رہتا ہے تو ضرور یہ مواضع وقف ہی ہیں اور بندوبست حال میں اسمائے متولیان بخانہ ملکیت رکھنا وقف ثابت کو زائل نہ کرے گا اور یہ انتقالات جوا ن بعض متولیوں نے کئے اگر اس سے مقصود وہ محاصل ہیں جو بعد مصارف خیر ان کے حصہ میں آئیں جب تو ظاہر ہے کہ اس سے اصل وقف پر کوئی حملہ نہ ہوااگرچہ محاصل کا وقف یا قبل وصول ہبہ کرنا باطل ہے،اوراگران سے نفس رقبہ جائداد کا انتقال مقصود تھا تو غایت یہ کہ ان کا ظلم باطل ومردود تھا، اس سے وقف پر کیوں حرف آنے لگا، گورنمنٹ کا رقوم سوائی وغیرہ لینا بھی منافی وقف نہیں، یوں ہی بندوبست اول سے اجرائے وراثت اگرمحاصل میں ہے کیا بیجا ہے اور رقبہ میں ہے تو متولیوں کا ظلم ہے بلکہ بیان سائل کہ اب تك بعد مصارف خیر جو بچتا ہے تقسیم کرتے ہیں رقبہ میں اجرائے وراثت کی خود نفی کررہا ہے، اورنہ بھی سہی تو ان کے مورثوں کا سب سے پہلا بیان کہ یہ جائداد وقف ہے، ان کے ان تصرفات کے ابطال کو کافی ہے، جائداد ملك ہو کر وقف ہوسکتی ہے مگر وقف ٹھہرکر کبھی ملك نہیں ہوسکتی اور ان کے اس بیان اول میں نیت عطا کنندہ کا کچھ خلاف نہیں بلکہ عین موافقت ہے جیسا کہ اوپر ظاہر ہوا بالجملہ شك نہیں کہ مواضع مذکورہ وقف ہیں اور ان میں کسی کو تصرفات مالکانہ یا انتقالات کا کچھ حق نہیں " وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ(۹۶)"[1] (اور ڈرو اﷲ تعالٰی سے جس کی طرف تم اٹھائے جاؤگے۔ت)واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۶۲: ازضلع بجنور موضع چاند پور مسئولہ محمد قطب الدین ۹ربیع الاول شریف ۱۳۳۴ھ
مخدوم مکرم ومعظم دام ظلکم السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔آبادی قصبہ چاند پور میں موازی ۶بسوائے یعنی(للعہ مہ)گز کل اراضی نمبری خسرہ ۲۴۸۲واقع محلہ کوئلہ موقوفہ تھی اس پر ایك دکان بنی ہوئی تھی اس کی آمدنی صرف مسجد میں آتی تھی چنانچہ بندوبست دہم یعنی ۱۸۶۷ء یا ۱۲۷۴ف میں دکان مذکورہ بخانہ مالك زمین ومالك مکان(موقوفہ)تحریر ہے اس کے کیفیت میں(دکان تصرف مسجد)تحریر ہے اس کے منتظم مولوی مجتبٰی حسن صاحب دیوبندی ساکن چاند پور تھے دکان منہدم ہوگئی اس پر ایك سہ دری بنائی گئی جو قیام مسافران اور درس گاہ کے کام آتی رہی اور مہتمم بدستور مولوی صاحب موصوف رہے اب اس سال سے مولوی صاحب مذکورنے اس کے اوپر ایك بالاخانہ تعمیر کرلیا اس کو زنانہ مکان کرلیا بیچ کا سابقہ حصہ یعنی سہ دری اپنی نشست گاہ خاص بنالی، اﷲ اﷲخیرصلّا۔مولوی صاحب کہتے ہیں ہم مکان کے مالك ہیں ہمارا تعمیر کردہ ہے تمادی بارہ سال عارضی ہے وغیرہ وغیرہ اور سب چیزیں خداکی ملکیت میں اور ہم اس کے بندے ہیں، رضامندی سے وہ چھوڑنے پر رضامند نہیں ہوتے، مجبورًا عدالتانہ کارروائی کرنا ہوگی چونکہ مولوی صاحب موصوف اور ان کے بھائی مولوی مرتضٰی حسن صاحب سب مولوی ہیں(مولوی عالم فاضل ہیں) سب لوگ ان کا ادب کرتے ہیں بچتے ہیں کوئی دعوٰی کرنے یا مدعی بننے پر رضامند نہیں ہوتا، یہاں ہم صرف دو آدمی حق کی حمایت کرسکتے ہیں، البتہ واقعات کے بابت شہادت دے سکتے ہیں، اگر ان کومدعی بنالیا جائے تو گواہ کون رہے سوائے اس کے نالش ہونے پر لوگوں سے توقع ہوسکتی ہے، بالفعل یہ خیال ہے کہ مولوی پر ہاتھ ڈالنا گناہ کبیرہ ہے، حتی کہ مولوی عبدالواسع صاحب ومیر سجاد حسین صاحب وکلا بجنور وکیل بننے سے گریز کرتے ہیں اس قحط الرجال میں آپ پر نظر دوڑتی ہے اور گزارش کیا جاتا ہے کہ ہم کو کیا کارروائی کرنا چاہئے اوراس صورت میں شرع شریف کا کیا حکم ہے اور اگر آپ کانام نامی بھی زمرہ مدعیان میں شامل کردیا جائے تو نامناسب تو نہیں ہے؟یا کسی اور شخص کالکھا جائے؟جیسی رائے عالی ہو کیا جائے، جواب بواپسی ڈاك مرحمت ہو، فقط۔
الجواب:
بحمد اﷲتعالٰی میں حکم شرعی جانتا ہوں اور وہی بتاسکتا ہوں قانون سے نہ مجھے واقفیت نہ اس کا مشورہ دے سکتا ہوں، وقف میں تصرف مالکانہ حرام ہے اور متولی جب ایسا کرے تو فرض ہے کہ اسے نکال دیں اگرچہ خود واقف ہوچہ جائے دیگر۔درمختار میں ہے:
وینزع وجوبا ولو الواقف، درر، فغیرہ اولٰی لوغیر مامون، بزازیہ[2]۔
لازمًا معزول کیا جائے اگرچہ واقف ہی ہو،درر۔تو بطریق اولٰی غیر کو اگر وہ معتمد علیہ نہیں، بزازیہ۔(ت)
اور وقف کا مدعی ہر مسلمان ہوسکتا ہے او جو مدعی ہو وہی شاہد ہوسکتا ہے لانہ لایحتاج الی الدعوی (کیونکہ دعوی کی ضرورت نہیں۔ت) وہاں کے مسلمانوں پر فرض ہے کہ وقف کو ظلم سے نجات دلائیں۔ دیوبندی عالم دین نہیں ان کے اقوال پر مطلع ہو کر انہیں عالم دین سمجھنا خود کفر ہے، علمائے حرمین شریفین نے انہیں لوگوں کے لئے بالاتفاق تحریر فرمایا ہے کہ:
من شك فی عذابہ وکفرہ فقد کفر[3]۔
جو اس کے عذاب اور کفر میں شك کرے تووہ کافرہوا۔(ت)
اور بالفرض کوئی عالم بھی ہوتو اس کا ادب اس کامقتضی نہیں ہوسکتا ہے کہ وقف اس کے دستبردظالمانہ میں چھوڑ دیاجائے اگرچہ عالم ہے مگروقف پرظالم ہے اوراس کی تخلیص فرض۔ یہ بہت اچھا عذر ہے کہ سب ملك خدا ہے اور ہم اس کے بندہ، کیا ایسا کہنے والا اپنے املاك اور اپنے ابل میں بھی ان کے لئے یہی گمان کرے گا کہ یہ سب ملك خدا ہیں اور وہ خدا کے بندے، یہ خاصہ اباحیہ کا مذہب ہے، فقیر کچہری کی لیاقت نہیں رکھتا اس سے معاف فرمایا جائے اور ہزاروں مسلمان مدعی ہوسکتے ہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۶۳:مسئولہ مرد مان عامہ موضع باجری تحصیل کہڑ واڑ ضلع انبالہ بتوسط الہ بخش درزی ساکن باجری ۲۳جمادی الاولٰی ۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت بیوہ نے اپنی تمام اشیاء جس میں منجملہ دیگر اشیاء کے ایك سکنی مکان بھی ہے مسجد کے نام پر خدا کے واسطے وقف کردیا اور سند کے لئے ایك کاغذ پر چند معززبرادران رشتہ کے دستخط کرو اکر ایك کاغذ بنالیا اور یہ کام کرکے وہ عورت ایك دوسرے موضع میں اپنی لڑکی کے گھر پر جارہی اور اس کے چلے جانے کے بعد میں اس عورت کے قریبی رشتہ والوں نے اس وقف شدہ مکان کی بابت فساد شروع کردیا کہ ہم یہ مکان مسجد کے نام نہیں دیں گے حالانکہ بیوہ کے کوئی اولاد ذکور میں سے صاحب حق نہیں ہے اور وہ اپنے مال وجائداد کی بلااشتراك غیرے خاوند کے مرنے کے بعد خود مختار مالك تھی، لہذا اب دریافت امر خاص یہ ہے کہ آیا کوئی شخص بیوہ کی مرضی کے خلاف کچھ کاروائی کرسکتا ہے؟اور اگر کرسکتا ہے تو کس صورت سے؟ورنہ ایسے بددیانت اشخاص کی کیا شرعی تعزیز ہے؟فقط
الجواب:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع