30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وقف والے استفتاء میں ایك لفظ"ارصادات"کا تحریر ہے جس کے معنی سمجھ میں نہیں آئے، اگر آپ کو معلوم ہوں تحریر فرمائے، غیاث میں"رصد"کے معنی نگاہ رکھنا نکلے اور لفظ"ارصادات"نہیں نکلا،"رصد"کی اگر جمع"ارصادات"لئے جائیں تو بھی اس موقع پر کام نہیں دیتے شاید لفظ تحریرات سلطانی میں کسی قسم کی تحریر کا نام ہو جیسے"سجل"یا"فرمان"وغیرہ اگر ایسا ہے تو یہ تحریرفرمائیے کہ یہ لفظ کس قسم کے اسناد کے واسطے مستعمل ہوتا ہے اصلِ موقع اس لفظ کا شاید آپ کے خیال میں نہ باقی ہو اس لئے میں ابتدائے مضمون استفتاء کا نقل کئے دیتا ہوں، ارصادات سلاطین حکم وقف میں ہیں نہ وہ موروث ہوں نہ ان کے بیع وانتقال کا کسی کو حق ہو۔
الجواب:
مولٰنا اکرمکم اللہ تعالٰی ،ا لسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ"ارصاد"کے معنی نگہداشتن ہی ہیں یعنی محفوظ کردینا، سلاطین اسلام مواضع سلطنت سے جو دیہات مصارف خیر کے لئے وقف کرتے ہیں انہیں ارصاد کہتے ہیں یعنی سلطان نے انہیں محفوظ وممنوع التملیك کردیا ان کا حکم بعینہ مثل وقف ہے،
وانما سمیت ارصادات لان الوقف شرطہ الملك والسلاطین لایملکون مافی ولایتھم ان الملك الا ﷲ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
ان کو ارصادات اس لئے کہتے ہیں کہ وقف کی شرط ہے کہ پہلے کسی کی ملك میں ہو جبکہ سلاطین اپنی ولایت کے مالك نہیں ہوتے، ملك توصرف اللہ تعالٰی کی ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
مسئلہ۵۹:تا۶۰: ازکانپور محلہ لکہنیا بازار متصل مدرسہ فیض عام مسئولہ شمس الدین محمود عرف میاں۲۲صفر۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین مبین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے وقت وفات اپنے چند قطعات زمین وقف کئے اپنی ملکیت ومتروکہ سے چھوڑے سند وقف میں یہ تحریر ہے کہ خرچ مساکین ومسافرین ومسجد کے واسطے یہ وقف کیا جاتا ہے پس مورثان متوفی جو متولی جائداد موقوفہ بھی ہیں،
(۱)اگر منجملہ قطعات زمین متذکرہ صدر کے کوئی جزوجو خراب وبیکار پڑا ہو ا ور اس سے کسی قسم کی آمدنی بھی نہ ہو مسجد میں شامل کردیں۔
(۲)یا کسی جز قطعات مذکور بالا میں کچھ عمارت اس غرض سے تعمیر کردیں کہ اس کی آمدنی واسطے اخراجات مسجد کے کام آئے یا کسی خاص کام متعلق مسجد کے مثلًا فرش وفروش وغیرہ متعلقہ ومملوکہ مسجد کے رکھنے یا پیش امام ومؤذن وغیرہ کسی خادم مسجد کی سکونت کے بکار ہوتو جائز ہے یانہیں اور متولی پر کوئی مواخذہ شرعی تو نہ ہوگا؟
الجواب:
اگر مسجد تنگ ہو جماعت کی دقت ہوتی ہے جگہ کی حاجت ہے تو یہ زمین مسجد میں شامل کردی جائے ورنہ نہیں کہ وہ مسجد کے لئے وقف ہے نہ کہ مسجد کرلینے کے لئے۔عالمگیری میں ہے:
لایجوز تغییر الوقف عن ھیأتہ[1]۔
وقف کی ہیئت کو بدلنا جائز نہیں(ت)
ردالمحتار میں ہے:
فی الفتح ضاق المسجد وبجنبہ ارض وقف علیہ او حانوت جاز ان یوخذ ویدخل فیہ[2]۔
فتح میں ہے کہ مسجد تنگ ہوجائے حالانکہ اسکے پہلومیں وقف شدہ زمین یا دکان ہے جو اسی مسجد کے نام وقف ہے تو اس کو مسجد میں شامل کرنا جائز ہے(ت)
صورت ثانیہ حسب پابندی شرائط واقف جائز ہے مثلًا اس کی آمدنی مسجد میں صرف کرنے کے لئے وقف کی ہو تو اس غرض کے لئے اس میں عمارت بنانی جائز اور سکونت امام وغیرہ کےلئے ناجائز لان شرط الواقف کنص الشارع(کیونکہ واقف کی شرط، شارع کی نص کی طرح ہے۔ت)واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۶۱: ازخیر آباد ضلع سیتا پوراودھ محلہ میاں سرائے درگاہ حضرت حاجی حافظ سید محمد علی صاحب ۲۴صفر المظفر۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ چند موضعات کو شاہان دہلی نے واسطے مصارف امور مذہبی ومدد معاش ایك خاندان کے معاف کیا تا زمان سلطنت انگلشیہ موافق نیت عطا کنندہ اس پر عملدرآمد رہا عہد سلطنت انگلشیہ زمانہ بندوبست اول میں اس معافی کی نسبت تحقیقات ہوکر معافی قدیم ثابت ہوئی اس تحقیقات میں ورثا معافی داراول نے یہ بیان کیاہے کہ یہ مواضع قدیم سے وقف ہے لیکن اب بھی وقف نامہ یا ایسی تحریر یا حکم شاہان دہلی عطا کنندہ کی معافی کا کہ جس سے واقف کا نام یامضمون وقف اس سے ثابت ہوسکے پیش نہیں ہوا بلکہ جو کچھ ثبوت تحریری زبانی پیش ہوا اس سے صرف اس قدر معلوم ہوتا ہے کہ یہ مواضع شاہان دہلی نے بغرض مذکور بالا معافی عطا کئے تھے، اسی بنیاد پر جو سند سرکار انگلشیہ سے عطا ہوئی وہ معافی مشروط کی عطا ہوئی، اور منجملہ شرائط سند عطائے سرکار انگلشیہ ایك یہ بھی شرط ہے کہ درصورت عدم پابندی شرائط سند یہ معافی ضبط کرلی جائیگی اور مواضع مذکورہ کے متعلق سرکار انگلشیہ سے ڈگری حق اعلٰی بمقابلہ سرکار بحق معافی داران صادر ہوچکی ہے اور سرکار،انگلشیہ اپنے حقوق مثل رقم سوائی وفیس سڑکانہ وشفاخانہ وغیرہ مثل دیگر زمینداران کے سالانہ معافی دار سے لیتی ہے اس کے بعد سے تاحال ورثاء معافی داران شرائط مندرجہ عطیہ سرکار انگلشیہ پابند رہ کر بطور مناسب اغراض معافی میں محاصل مواضع میں سے خرچ کرکے بقیہ محاصل کو اپنے مدد معاش میں صرف کرتے رہے بندوبست اول سے اس خاندان معافی داران میں حصص قائم ہوئے اور برابر وراثت جاری رہے اور ہر معافی دار کانام کھیوٹ وکاغذات میں بطورمالك درج ہوتا رہا۔ اب تھوڑا عرصہ ہوا کہ شرکاء معافی میں سے چند شرکاء نے حسب ذیل انقلاب کئے ایك معافی دار نے منجملہ اپنے حصہ کے ایك جزء کا وقف نامہ بنام اللہ میاں رجسٹری شدہ تحریر کیا ایك حصہ دار نے اپنا حصہ اپنے حقیقی بھائی کے نام ہبہ کردیا، ایك نے وقف علی الاولاد کیا،اس کے بعد واقف علی الاولاد نے عدالت مجاز میں ایك دعوٰی دائر کیا کہ ہبہ مواضع موقوفہ میں ان میں کارروائی منتقلات جائز نہیں ہے اور اپنے عرضی دعوٰی میں اپنے انتقال وقف علی الاولاد کو پوشیدہ رکھا اور ہر دو انتقالات کو ظاہر کیا اور عدم جواز کی حجت کی لہذا استصواب ہے کہ مواضع عطیہ شاہی وسرکار انگلشیہ وقف سمجھے جائیں گے یا از قبیل عطیات ومعاقبات وارصادات وغیرہ متصور ہوں گے اور کارروائی انتقالات متذکرہ بالا باطل وکالعدم سمجھی جائیں گی یا جائزمتصور ہوکر آئندہ کے لئے ایسی کارروائیاں جائز رہیں گی اور اس بیان معافی داران سے جو بندوبست میں نسبت وقف ہونے جائداد کے ہوا ہے جائداد مذکورہ وقف ہوگئے یا ان کا بیان بمقابلہ نیت عطا کنندہ کے باطل وہیچ ہے اور ہبہ جائداد بصورت عطیہ و معافی وارصاد کے قائم رہیں گے اور عطیہ و ارصاد کے کیا معنی ہیں اور ان پر کیا کیا احکام جاری ہوسکتے ہیں اور کیا کیااحکام جاری نہیں ہوسکتے ہیں فقط،
الجواب:
ارصادات وعطایا سلاطین میں زمین وآسمان کا فرق ہے جو مواضع سلاطین اپنی رعیت میں سے کسی کو جاگیر بخش دیں اسے اس کا مالك کردیں وہ عطا ہے عربی میں اسے اقطاع کہتے ہیں اور ہماری زبان میں معافی وجاگیر اور جو مواضع سلاطین اسلام مصارف خیر کےلئے تعین کردیں وہ ارصاد ہیں ان کا حکم بعینہ حکم وقف ہے اور بعد مصارف خیر جو کچھ بچے اس میں سے کسی قوم یا کسی شیخ کی اولاد یا کسی مزار کے خدام کی مدد معاش کرنا منافی وقف
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع