30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
استطاعت کی معیار ملك نصاب زائد ازحاجت اصلیہ ہےتعزیہ ومزامیر دونوں معصیت ہیں اور معصیت میں مال وقف کاصرف دوہرا حرام ہے بلکہ تین حراموں کا مجموعہ، ایك وہ معصیت دوسرے مال وقف پر تعدی تیسرے مستحق کی محرومی مگر ان مور حادثہ سے نفس وقف پر کوئی ضرر نہیں، جو متولی ان میں صرف کرے گا اس قدر کا تاوان اس پر لازم ہوگا لانہ امین وکل امین بالتعدی ضمین(کیونکہ وہ امین ہے اور ہر امین ناجائز تصرف پر ضامن بنتا ہے۔ت)بلکہ اگر خود سلطان واقف منجملہ مصارف مذکورہ تصریحًا تعزیہ ومزامیر کو بھی ایك مصرف مقرر کرتا کہ وقف پر جب بھی ضرر نہ تھا یہ مصرف باطل رد وساقط کرکے وہ حصہ بھی مصارف خیر ہی کیطرف مصروف ہوتا، فتح القدیر پھر ردالمحتار میں ہے:
لووقف الذمی علٰی بیعۃ فاذا خربت یکون للفقراء کان للفقراء ابتداءً [1]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
اگر ذمی نے مثلًا بیعہ(یہودی عبادت گاہ)کیلئے وقف کیا اور کہا جب یہ خرابہ ہوجائے تو یہ فقراء کیلئے ہی ہوگا تو ابتدًاء ہی یہ فقراء کےلئے وقف قرار پائے گا۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
مسئلہ۵۵تا۵۶: ازقصبہ گوپامؤضلع ہردوئی اورہ محلہ قنوجی مسئولہ یاور حسین صاحب یوم سہ شنبہ ۷ صفر المظفر۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ حاجی نواب ناظر حسین خاں صاحب رئیس قصبہ گوپامؤ نے تقریبًا دس بارہ سال سے ایك مسجد کے متعلق جو کہ ان کے مکان کے قریب محلہ قنوجی میں واقع ہے، یہ انتظام کیا کہ زیر مسجد کی دکانیں جن کو مسجد کے منتظموں نے رہن بھی کرلیا تھا اور جو رہن سے بچی ہوئی تھیں وہ بالکل مسمار ہوگئی تھیں، غرضکہ وہ دکانات مسجد مذکور جو کہ ایك دینی مدرسہ عربی کو بحیثیت وقف شامل تھیں ان کو تك رہن کرالیا اور مسمار شدہ کی تعمیر کرادی، ایك مدرسہ اسلامیہ کی آمدنی سے جس کے وہ صدرانجمن ہے سب ادا کردیا دکانوں کو تعمیر کرایا پھر رفتہ رفتہ انہیں دکانوں کوآمدنی سے وہ کل روپیہ بھی ادا کردیا جب انجمن کا روپیہ ادا ہوگیا تو ان دکانوں کو مع تحویل باقی کے اپنے چھوٹے بھائی کو جو کہ اسی مسجد میں طلبہ کو عربی پڑھاتے ہیں بطور انتظام جائداد وقف کے حوالہ کردیا حتی کہ اس آمدنی سے وقتًا فوقتًا مسجد کی درستی ہوتی رہتی ہے، اور اسی احاطہ مسجد میں بیرونی طلبہ کےلئے حجرے بھی حسب ضرورت تیار ہوتے رہے، سال گزشتہ میں ایك مولوی صاحب کو باہر سے عربی تعلیم کےلئے بلایا گیا تھا ان کی نصف تنخواہ چندہ سے اور نصف اسی آمدنی مسجد سے سال بھر تك دی جایا کی، نیز اب تك چونکہ درس وتدریس کےلئے سوائے مسجد کے اور کوئی جگہ نہ تھی، اور جو کتابیں طلباء کوحسب دستور دی جاتی ہیں ان کے رکھنے کے لئے بھی مکان کی ضرورت ہوئی تو ایك مکان جانب مسجد میں اس سال بھی تعمیر کرایا گیا جوان شاء اللہ مختصرًا مدرسہ وکتب خانہ دونوں کاکام دے گا علاوہ ان دکان کے کچھ خانہائے رعایا خالی کراکے اس کی زمین مسجد کو وقف کردی اور دو ایك دکانیں جدید بھی بنوادیں ایك دکان منشی بقاء اللہ صاحب وکیل سرائے میران نے بھی وقف کیا،
(۱)اب سوال یہ ہے کہ ایسی صورت میں جبکہ علاوہ نیت کے عملدرآمد حسب مذکورہ بالا رہا ہے تو آیا اس آمدنی سے مسجد اور طلباء کےلئے حجرے نیز مدرس کی تنخواہ وغیرہ میں صرف کرنا شرعًا جائز ہوگا یانہیں؟
(۲)یہ کہ انہیں نواب صاحب موصوف نے جو اپنی ذاتی دکان اور تین خانہائے رعایا کو صحن بازار مسجد کی ضرورت سے برابر کراکے نیز گردو پیش کے اپنی افتادہ زمین کو اسی مد میں مدّت سے وقف کردیا ہے چنانچہ گھاس، بھوسہ، لکڑی، کنڈا اور دیگر پلہ داروں سے جواس زمین کا محصول آتا ہے وہ بھی برابر مسجد میں ایك بنئے کے ذریعہ سے یکمشت جمع ہوتا رہتا ہے اور جو مدّات مذکور میں صرف ہوتا ہے اسکے متعلق(ایك ہندورئیس جس کا نام لالہ بشمبر ناتھ ہے اور وہ گوپامؤ سے قریب ایك موضع تہمروان میں رہتے ہیں)کا یہ بیان سنا جاتا ہے کہ چُنگی قبضہ میں ہمارے ہے لہذا یہ متفرق آمدنی ہماری ہے اس کو ہم لیں گے حالانکہ وہ اس بازار میں کسی جزءِ اراضی کے بھی مالك نہیں ہیں اور چنگی ان کی ہونا قاعدہ کے بھی بالکل خلاف ہے کیونکہ چنگی حقِ گورنمنٹ ہے، کاغذات سرکاری میں بھی چنگی کا کوئی وجود نہیں، دوسرے مالك زمین یعنی واقف کی طرف سے یہ زمین دراصل مسجد کی ہے، ایسی حالت میں آیا ہم مسلمانوں کا فرض ہے کہ ہم دامے درمے،قلمے، سخنے غرض ہر مدافعانہ حیثیت سے ان کی اس ناجائز دست برد سے اگروہ کریں اس کو بچائیں یا نہیں؟نیزاس معاملہ جو شدائد ہمیں درپیش ہوں گے بصیغہ حفظ جائداد ووقف عنداللہ ہیں اس کا اجر ملے گا یا نہیں؟اور اگر مسلمان کثرت رائے سے اس کی کل یا جزءِ آمدنی بطور فیصلہ باہمی کے لالہ صاحب کو دینا منظور کریں تو آیاان کا یہ فعل شرعًا صحیح اور قابل تسلیم ہوگا یا نہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب:
(۱)اوقاف میں شرط واقف مثل نص شارع واجب الاتباع ہوتی ہے اور اس میں بلاشرط واقف یا اجازت خاصہ شرعیہ کوئی تغیر تبدل جائز نہیں، مدرسہ کے مال سے مسجد کا قرض ادا نہیں کیاجاسکتا جو اداکرے گا تاوان اس پر ہے مسجد کے مال سے نہیں لے سکتا مسجد پر جو جائداد واقف نے وقف کی اگر اس سے بنائے مدرسہ ومصارف مدرسہ کی اجازت دی تھی تو جائز ہے ورنہ ناجائز۔
(۲)صورت مذکورہ میں ضرور مسلمانوں پر فرض ہے کہ حتی المقدور ہر جائز کو شش حفظ مال وقف ودفع ظلم ظالم میں صرف کریں اور اس میں جتنا وقت یا مال ان کا خرچ ہوگا یا جو کچھ محنت کرینگے مستحق اجر ہوں گے، قال تعالٰی :
" لَا یُصِیْبُهُمْ ظَمَاٌ وَّ لَا نَصَبٌ وَّ لَا مَخْمَصَةٌ " (الٰی قولہ تعالٰی ) "اِلَّا کُتِبَ لَہُمْ بِہٖ عَمَلٌ صٰلِحٌ ؕ " [2]۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
ان کو مشقت اور مشکل نہ پہنچے گی(الٰی قولہ تعالٰی )مگر ان کےلئے نیك عمل لکھے جائیں گے(ت)واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۵۷: ازضلع گیا، موضع پردہ چک، ڈاکخانہ شمشیر نگر، مسئولہ ابوالبرکات یوم شنبہ ۱۷صفر المظفر۱۳۳۴ھ
عام قبرستان میں اگر کسی نے درخت لگائے تو اسکی ملك ہے یانہیں؟ دوسروں کو بدون اجازت استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں؟ فقط۔
الجواب:
قبرستان اگرچہ وقف ہو مگر درخت جو اس میں لگائے جائیں اگر لگانے والا تصریحًا یہ کہ بھی دے کہ میں نےان کو قبرستان پر وقف کیا جب بھی وقف نہ ہوں گے اور لگانےوالے ہی کی ملك رہیں گے، اس کی اجازت کے بغیر دوسروں کو ان میں تصرف جائز نہیں، اور اس کو اختیار ہے کہ اس کی لکڑی کاٹے یا جو چاہے کرے بلکہ اگر ان کے سبب مقابر پر زمین تنگ کردے تو اسے مجبور کیا جائے گا کہ درخت کاٹ کر زمین خالی کردے والمسئلۃ فی الھندیۃ وغیرہا(فتاوٰی ہندیہ وغیرہ میں یہ مسئلہ موجود ہے۔ت)وھو تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۵۸: ازضلع سیتاپور قصبہ لہر پور مدرسہ اسلامیہ قاضی ابومحمد یوسف حسین صاحب بروز چہار شنبہ ۲۱صفر ۱۳۳۴ھ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع