دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 16 | فتاوی رضویہ جلد ۱۶

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۶

ارصادات سلاطین حکم وقف میں ہیں نہ وہ موروث ہوں نہ کسی کو ان کے بیع وانتقال کا کوئی حق ہو کما حققہ فی ردالمحتار بما لامزید علیہ(جیسا کہ اس کی تحقیق ردالمحتار میں کی ہے جس پر مزید اضافہ نہیں ہوسکتا۔ت)سندمعافی میں لفظ وقف نہ ہونا کچھ مضر نہیں، نہ کسی مقدمہ میں اپنے آپ کو مالك تعبیر کرنا یا گورنمنٹی ڈگری میں لفظ مالکانہ لکھا جانا کچھ اثر رکھتا ہے کہ متولی کی طرف نسبت ملك بوجہ ملك تصرف واختیار شائع ہے۔فتاوٰی عالمگیریہ میں ہے:

لوادعی المحدود لنفسہ ثم ادعی انہ وقف الصحیح فی الجواب ان کانت دعوی الوقفیۃ بسبب التولیۃ یحتمل التوفیق لان فی العادۃ یضاف الیہ باعتبار ولایۃ التصرف والخصومۃ[1]۔

اگر حدود اربعہ کو اپنے لئے قرار دیا پھر یہ دعوٰی کیا کہ وقف ہے، تو جواب صحیح یہ ہے اگر وقف ہونے کا دعوی تولیت کی وجہ سے ہو تو دونو ں باتوں میں موافقت ممکن ہے کیونکہ وقف کو متولی متصرف اور فریق بحث ہونے کے اعتبار سے عادتًا اپنی طرف منسوب کرلیتا ہے۔(ت)

موقوف علیہ کا فقیر یا غیر ہاشمی ہونا ضرور نہیں اغنیاء وسادات بھی اوقاف عامہ، رفاہ عام میں داخل ہوسکتے ہیں جیسے مسجد، مقبرہ، حوض، کنواں، سقایہ، سرائے پل وغیرہا، اور وہ ہر وقت میں بشرط واقف مثل استثناء فی المصروف بھی شامل ہوسکتے ہیں جس طرح خود اپنا نفس اور اپنی اولاد، بالجملہ وقف کا قربت موبد کے لئے ہوناضرورہے مگر تمام آمدنی قربت ہی کےلئے معین ہوناضرور نہیں استثناء بعض علی الدوام واستثناء کل الٰی زمان منقطع دونوں کی گنجائش ہے اور اس کا اختیار واقف کو ہے جیسی شرط کرے گا اتباع کی جائے گی تحت قول درمختار والتصدق بالمنفعۃ ولوفی الجملۃ [2]  ( منفعت کوصدقہ قرار دینا اگرچہ کسی طرح ہو۔ت)ردالمحتار میں ہے فرمایا:

فیدخل فیہ الوقف علی نفسہ ثم علی الفقراء وکذا الوقف علی الاغنیاءثم الفقراء لما فی النھر عن المحیط لو وقف علی الاغنیاء وحدھم لم یجز لانہ لیس بقربۃ، اما لوجعل اخرہ للفقراء فانہ یکون قربۃ فی الجملۃ [3] اھ۔

اس میں اپنی ذات کےلئے وقف اور بعد میں فقراء کیلئے داخل ہوگا، اسی طرح اغنیاء کیلئے پھر فقراء کیلئے وقف کی صورت بھی داخل رہے گی جیسا کہ نہر میں محیط سے منقول ہے کہ اگر صرف اغنیاء کےلئے وقف ہوتوناجائز ہوگا کیونکہ یہ قربت نہیں ہے لیکن اگرآخر میں فقراء  کیلئے وقف کیا تو جائز ہوجائیگا کیونکہ یہ قربت ہے اگرچہ فی الجملہ ہے اھ(ت)

اسی میں ہے:

اذاجعل اولہ علی معینین صار کانہ استثنٰی ذٰلك من الدفع الی الفقراء کما صرحوا بہ(الی ان قال) فعلم انہ صدقۃ ابتداءً ولایخرجہ عن ذٰلك اشتراط صرفہ لمعین[4]۔

جب اولًا دو معین شخصوں کےلئے کیا تو گویا یہ فقراء کو دینے سے استثناء ہوجائے گا جیسا کہ فقہاء نے اس کی تصریح کی ہے (ان کا یہ بیان یہاں تك ہے کہ فرمایا) تو اس سے معلوم ہوا کہ یہ ابتداءً صدقہ ہے، تو معین کے لئے صرف کرنے کی شرط اس کو اس سے خارج نہ کرے گی(ت)

اسی میں فتاوٰی امام قاضی خاں سے ہے:

لوقال ارضی صدقۃ موقوفۃ علی من یحدث لی من الولد ولیس لہ ولد یصح لان قولہ صدقۃ موقوفۃ وقف علی الفقراء وذکر الولد الحادث للاستثناء کانہ قال الاان حدث لی ولد فغلتھا لہ مابقی[5]۔

اگر یوں کہا میری زمین بعد میں پیدا ہونے والے میرے بچے کیلئے صدقہ ہے جبکہ اسکی اولاد نہ ہوتو وقف صحیح ہوگا کیونکہ وقف شدہ صدقہ کہنے سے فقراء کیلئے وقف ہوگیا او ربیٹے کے ذکر سے اسمیں استثناء ہوگیا، گویا یوں کہا یہ صدقہ ہے مگر اگر میرا بچہ پیدا ہوتو اس کی موجودگی تك اس کے لئے وقف کرتا ہوں۔(ت)

سلطان واقف کی شرط اگر معلوم ہے کہ بعد مصارف خیر مذکورہ جو بچے اولاد شیخ فلاں تقسیم کرلیں تو ان کے فقراء واغنیاء سب اسے بحصہ مساوی لیں گے اور اگر شرط کردی ہے کہ مابقی نسل شیخ پر حسب فرائض تقسیم ہوتو حسب فرائض ہی تقسیم ہوگی اقرب ابعد کو محجوب کرے گا اور لحاظ فقر وغنانہ ہوگا اور اگر شرط یہ کی کہ باقیماندہ خاندان شیخ کے فقراء پر تقسیم ہو تو اب ان کے اغنیاء کو کچھ نہ ملے گا اور جوغنی فقیر ہوجائے اب سے وہ بھی مستحق ہو گا سنین ماضیہ کا حصہ نہ طلب کرے گا اور جو فقیر غنی ہوجائے اب سے وہ مستحق نہ رہے گا اور سالہائے گزشتہ کالیا ہوا واپس نہ دے گا لان العبرۃ الحال دون الماضی والاستقبال (کیونکہ اعتبار حال کا ہے ماضی یا مستقبل کا نہیں۔ت)اور اگر

شرائط اصل واقف پر اطلاع نہ ہوتو عملدرآمد قدیم پر نظر ہوگی زید نے جوواجب العرض میں لکھا، یا اگر اس کے مطابق ہے فبہا ورنہ اس پر اصلًا لحاظ نہ ہوگا اور قدیم پر عمل رہے گا۔لانہ لیس بواقف ولاالیہ تغییرہ(کیونکہ وہ نہ واقف ہے نہ اس کو تبدیلی کا حق ہے۔ت)فتاوٰی خیریہ میں ہے:

اذاعلم حالہ فیما سبق من الزمان من ان قوّامہ کیف یعملون فیہ والی من یصرفونہ، فیبنی علی ذٰلک، لان الظاھر انھم کانوایفعلون ذٰلك علی موافقۃ شرط الواقف وھو المظنون بحال المسلمین فیعمل علی ذٰلک، وفی انفع الوسائل ذکر فی الذخیرۃ قال سئل شیخ الاسلام عن وقف مشہور اشتبھت مصارفہ وقد رمایصرف الی مستحقیہ قال ینظر الی المعہودمن حالہ فیما سبق من الزمان من ان قوّامہ کیف یعملون [6]۔

جب ماضی میں اس کا حال معلوم ہے کہ منتظم اس میں کیا کرتے رہے اور کہاں خرچ کرتے ہیں تو اسی حال کو وقف کی بنیاد قرار دیا جائے گا کیونکہ ظاہر یہی ہے کہ منتظم یہ عمل واقف کی شرط کے مطابق کرتے رہے ہیں مسلمانوں کے متعلق یہی گمان کیا جاسکتا ہے تو اسی عمل کو جاری رکھاجائے گا، انفع الوسائل میں ذکر ہے کہ ذخیرہ میں ہے کہ شیخ الاسلام سے ایك مشہور وقف جس کے مصارف اور مقدار کے متعلق اشتباہ ہے، کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے جواب میں فرمایا کہ گزشتہ زمانہ کا حال معلوم کیا جائے گا کہ اس کے منتظم کیسے عمل کرتے رہے ہیں۔(ت)

 



[1]     فتاوٰی ہندیہ کتاب الوقف الباب السادس نورانی کتب خانہ پشاور ۲ /۴۳۱

[2]     درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۳۷۷

[3]     ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ /۳۵۷

[4]     ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ /۵۸۔۳۵۷

[5]     ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ /۴۱۴        

[6]     فتاوٰی خیریہ کتاب والوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ /۳۶۱

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن