دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 16 | فتاوی رضویہ جلد ۱۶

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۶

الجواب:

مال وقف پر دعوٰی ملك تو کسی کو نہیں ہوسکتا، ہاں دعوٰی تصرف متولی کو ہے، اگر متولی نہ ہوتو اہل محلہ کو اختیار ہے، اگر انہوں نے اس شخص یا اشخاص کو متولی کردیا ہے تو اس کو اختیار مل سکتا ہے، واﷲ تعالٰی  اعلم۔

مسئلہ۵۱:                                 از مقام خاص مرزاپور محلہ چیت گنج مرسلہ حکیم احمد علی صاحب    یکم ربیع الاول ۱۳۳۲ھ

ایك قطعہ زمین سرکاری جو کہ جنازہ مسلمانان کےلئے وقف ہے اس میں باجازت تکیہ دار کے ایك مکان ایك دوسرے فقیر نے بنایا اور اسی میں بود وباش اختیار کرنے کے بعد چندے اس مکان کو براہ خدا وقف کردیا وہ وقف شدہ مکان بقیمت مبلغ بیسعہ روپیہ کو وارث تکیہ نے خرید کیا مکان وقف شدہ کا روپیہ ایك مسجد جو کہ مکان سے علیحدہ اسی زمین میں تعمیر کی گئی ہے وہ روپیہ اسی مسجد میں خرچ کیا گیا اب وہ مکان تکیہ دارکے قبضہ میں ہے پھر دوبارہ وہی فقیر جس نے مکان تعمیر کیا تھا خریدنا چاہتا ہے شرع شریف سے جائز ہے یانہیں؟

الجواب:

اگر وہ تکیہ وقف ہے جیساکہ سائل بیان کرتا ہے تو نہ اس میں اس فقیر کو اپنا مکان سکونت بنانے کی اجازت تھی نہ اسمیں مسجد بنانا جائز ہے  لان الوقف لایوقف(کیونکہ وقف شدہ دوبارہ وقف نہیں ہوتا) نہ اس مکان کی زمین کا بیچنا صحیح تھا، نہ اب اس کے یا کسی اور کے ہاتھ بیع ہوسکتی ہے لان الوقف لایملک(کیونکہ وقف کسی کا مملوك نہیں ہوسکتا)واﷲ تعالٰی  اعلم۔

مسئلہ ت۵۲تا۵۳:                                بتاریخ یکم صفر روز پنجشنبہ ۱۳۳۴ھ

(۱) قبرستان میں مدرسہ یا کوئی مکان یا مسجد بنانا جائز یانہ؟

(۲) ایك بزرگ نے ایك جگہ چند بزرگوں کوبیٹھے ہوئے دیکھا وہاں ایك چبوترہ بطور مسجد بنایا اور ایك مدت تك وہاں نماز پڑھی گئی اب ایك عرصہ سے وہ جگہ خراب پڑی ہے، وقف کی یانہیں کی اس کا کچھ حال معلوم نہیں،اب وہ جگہ کسی کو دے دی جائے کہ مکان بنائے یا مسجد بنادی جائے۔

الجواب:

(۱) قبرستان وقف میں کوئی تصرف خلاف وقف جائز نہیں، مدرسہ ہو خواہ مسجد یاکچھ اور۔ اور اگر کسی کی ملك ہے تو قبور سے الگ وہ جو چاہے بناسکتا ہے۔

(۲) اگرتصریحًا یا دلالۃً کسی طرح وقف کرنا ثابت نہیں تو وہ زمین مالك یا اس کے ورثہ کی ملك ہے وہ جو چاہیں کریں۔واﷲ تعالٰی  اعلم۔

مسئلہ۵۴:               از ضلع سیتا پور مدرسہ اسلامیہ مرسلہ مولوی ابومحمدیوسف حسن صاحب طالب علم مدرسہ مذکور               ۴صفر المظفر ۱۳۳۴ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ان مسائل کے جواب میں کہ زید نے اپنی اور اپنے شریك دار کے کہ جس کی جانب سے وہ کارکن اور خود بھی حصہ دار تھا اپنے مقبوضہ مواضعات معافی کی نسبت انگریزی ہونے پر محکمہ بندوبست میں درخواست دی کہ ہمارے مواضعات حسب عمل در آمد قدیم اب بھی معاف رہیں اور اس میں حسب ذیل الفاظ سے اقرار کیا:

یہ مواضعات صدہا سال سے واسطے مصارف عرس سید شاہ فلان واقع مقام فلان ومصارف واردین و صادرین وغرباو مساکین ومجالس محرم سلاطین ماضیہ نے بطور وقف مقررومعاف ومرفوع القلم کیا ہے۔ دوسرے مقام پر اپنی درخواست میں یہ الفاظ تحریر کئے ہیں امیدوار ہوں کہ دیہات،معافی بدستور بصیغہ وقف معاف و مرفوع القلم رہیں، اور اسی مقدمہ میں اجلاس پر حاکم کے روبرو بسوال حاکم بدیں الفاظ جواب تحریر کردیا۔

سوال حاکم:تمہاری معافی بعہد نواب سعادت علی خاں والی لکھنؤ کے کس سبب سے ضبط ہوئی؟

جواب: یہ معافی وقف اس واسطے ضبط نہیں ہوئی اور اسی مقدمہ تحقیقات معافی میں ایك حساب داخل کیا جس میں عبارت مسلم وقف حسب ذیل ہے، اس میں مصارف میرے اور میرے عزیزوں کے مناط قوت ان کا بھی یہی ہے اور یہ سب لوگ خدمت گزار درگاہ ہیں اور یہ معافی وقف ہے اس کارروائی پر حاکم ضلع نے مصارف کی تحقیقات کرکے سفارش معافی کی کردی اور اس سفارش پر حاکم اعلےٰ صاحب کمشنر نے یہ الفاظ تحریر کئے قابض اور ان کے موروثان سب مشہور لوگ ہیں اور مزار پیشتر بہت مشہور تھا یہ مجھ کو مذہبی وقف معلوم ہوتا ہے قبضہ سالہاسال سے ہے، مسجد وامام باڑہ وخانقاہ ومسافر خانہ سب بمقام فلاں ہے اس کوسرکار سے سند معافی عطا ہوئی جس میں لفظ وقف کا نہیں تحریر ہے اور سند مطبوعہ حسب نمونہ مقررہ ہے اور تمام ایسی معافیات میں اسی طور کے اسناد اس نواح میں سرکار نے دئے ہیں، اس کے بعد بندوبست پختہ میں حسب قاعدہ مقررہ سرکار دعوی حقیت اعلٰی مواضعات مذکور کا زید ہی نے دائر کیا اور اس درخواست میں بربنائے قبضہ سابقہ ڈگری چاہی مگر اس مقدمہ کے بیان میں بعد درخواست مذکور مالك کا لفظ استعمال کیا اورڈگری میں بھی لفظ مالکانہ تحریر ہوگیا اس کے بعد بمقدمہ حصہ داری وتعین حصہ ہر شریك دار میں پھر یہ ظاہر کیا کہ یہ جائداد واسطے مصارف درگاہ ہے کسی حصہ دار کو اختیار انتقال کسی قسم کا نہیں بعد مصارف عرس و فواتح واردین وصادرین کے جوبچتا ہے بحصہ مساوی تقسیم ہوجاتا ہے اور آئندہ ہم لوگوں نے اقرار کنندگان کے ورثہ پر اسی طور پر ہمارے حصہ سے تقسیم ہوتا رہے گا بعدہ واجب العرض میں بھی جو بعد کارراوئی حصہ داری کے مرتب ہوئی اس میں یہ تحریر کردیا کہ یہ موضع وقف ہے، ان حالات پر ازروئے شرع شریف اس جائداد پر اطلاق وقف کا ہوگا یا نہیں؟ اور زید کے وارثوں کو اختیار انتقال اس جائداد سے ہے یانہیں، واضح رہے، مقدمہ تعین حصہ داری و دیگر کاغذات سرکاری میں کل حصہ داران شریك دار آمدنی نے اس کو وقف تسلیم کیا ہے اور یہ اقرار کیا ہے کہ کسی کو اختیار انتقال حاصل نہیں ہے صرف درمیانی کارروائی ڈگری حقیت اعلٰی میں لفظ مالك کا استعمال ہوا ہے اس سے قبل وبعد کی کل کارروائیوں میں اقرار عدم اختیار انتقال وقف کا سب کی جانب سے ہے اور یہ خاندان اولاد حضرت پیران پیر دستگیر سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے اپنے کو منسوب کرتا ہے اور ایسے ہی بعض ملفوظات خاندانی وشجرہ جات خاندانی سے مانا گیا ہے اس خاندان کے لوگ بلالحاظ مستطیع وغیرمستطیع حسب قرار داد بندوبست جو باتفاق خود تعین حصص کرچکے ہیں اس اعتبار سے مستحق گزارہ ہیں یا مورث اعلٰی کی نسل پر ازروئے فرائض ازسر نو تعین گزارہ کا حق رکھتے ہیں اگر مستطیع کو استحقاق گزارہ بوجہ اس کی استطاعت نہ ہوتو کسی وقت بحالت نہ رہنے استطاعت کے پھر کسی سبب سے گزارہ پاسکتے ہیں اور استطاعت کا معیار کیا ہے اور کسی اولاد پر بالخصوص سادات کے کسی خاندان پر جووقف ہو اس میں جب لوگ مستطیع ہوتے جائیں گے وہ خارج از گزارہ ہوتے جائیں گے اور پھر جب غیرمستطیع ہوجائینگے داخل ہوتے جائیں گے، اور اس کا سلسلہ کس طور سے جاری رہے گا تعین گزارہ کی نسبت کیا ہو اکرے گا۔ امید کہ جملہ امور کا جواب ازروئے فقہ حنفیہ مرحمت فرمایا جائے اور یہ اراضی عشری ہیں اور عشر ان پر واجب ہے یانہیں، اور فی الحال یہ مواضعات کا شت کاروں کے پاس نقدی جمع سر ہیں، جن مصارف کا ذکر اوپر تحریر کیا گیا ہےجیسے فواتح واعراس ومیلاد شریف ومحرم وخرچ واردین وصادرین تو جہاں تك مجالس واعراس وفواتح کو ذکر وتذکرہ قرآن خوانی وتقسیم طعام وغیرہ سے تعلق ہے وہ توظاہر ہی ہے صرف تعزیہ داری کی شریعت میں کوئی اصل نہیں ہے ایك رواجی مقامی طریقہ ہے تو اس قدر مصرف ناجائز کے شمول سے نفس وقف پر کیا اثر ہے اور یہ فعل قابل ترك ہے، اسی طور سے اعراس میں ایك صورت بعض وقت سماع کی ہے جو سب طریقہ موسیقی وراگ ومزامیر نزد احناف حرام ہیں اور یہی سوادِ اعظم ہے البتہ محض قصیدہ خوانی یا نعت خوش الحانی سے سننا اور سنانے والے کو کچھ دینا جیسا کہ حضور انور سرور عالم صَلَّی اللہُ تعالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے اپنی ردائے مبارك حضرت حسان کو مرحمت فرمائی تھی اس کی بابت کیاحکم ہے یہ بھی قابل ترك ایسے اوقاف سے ہے یانہیں؟

الجواب:

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن