30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قطعہ اراضی کو وقف کرنا اس کو بیچ کر ثمنوں کو صدقہ کرنے سے اولٰی ہے۔واﷲ اتعالٰی اعلم(ت)
مسئلہ۴۳۲: ازشہر چڑھائی نیب مسئولہ منشی محمد ظہور صاحب ۲۲صفر۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین بیچ اس مسئلہ کے کہ دستاویز"ا"جائز ہے یانہیں؟اوراگر ہے تو یہ تملیك نامہ میں شمار ہوگی یا وقف نامہ میں یا تولیت نامہ میں؟دوسرے یہ کہ زید نے دستاویز"ب"اپنے پسر عمرو کو اسی مضمون کو پلٹ کر لکھ دی تو متولی یا مہتمم کو اختیار تھا یا نہیں؟اب چونکہ زید کا انتقال ہوگیا جس کی نسبت لکھا تھا کہ زید تاحیات متولی رہے گا بعد اس کے جو متولی یا سجادہ یا مہتمم ہوگا یکے بعدد یگرے اس کو بھی پابند اس تحریر کا رہنا ہوگا اب چونکہ دو دعویدار پیداہوئے ایك بکر خاندانی بزرگ جس کی عمر تخمینًا ۷۵سال کی ہے اورمرید بھی کرتے ہیں دوسرا زیدکا لڑکا عمرو جو مرید نہیں کرتا ہے جس کی عمر۱۹سال کی ہے جس کے حق میں دستاویز"ب"متولی نے تحریر کی ہے اب ان ہر دو میں ترجیح کس کو ہے اور کون مستحق جانشینی کاہے اور متولی اور سجادہ نشیں جدا جدا ہونا چاہئے یا ایك ہی شخص مستحق ہے بموجب تحریر متذکرہ کے؟
الجواب:
دونوں دستاویزیں سنیں اول وقفنامہ ہے اگرچہ غلطی سے اسے تملیك نامہ لکھا ہے اس کی عبارت یہ ہے:"میں نے بحالت صحت نفس وثبات عقل اراضی ومکان وغیرہ مذکورہ بالا کو اپنی ملکیت سے جدا کرکے واسطے امور واغراض مذہبی متذکرہ آئندہ کے تملیك کرکے اقرار کرتا ہوں کہ مجھ کو اور میرے کسی وارث شرعی کو نسبت جائداد مذکور کے دعوٰی نہ ہوگا ننھے خاں اپنی حیات تك متولی جائداد مذکور کے رہیں گے اور ان کے بعد جو شخص سجادہ نشیں یکے بعد دیگرے میرا ہوگا سجادہ نشین ومتولی جائدادمذکو رکا رہے گا کسی متولی کو کسی وقت رہن وبیع کسی قسم کے انتقال کا اختیار نہ ہوگا یہ جائداد تملیك شدہ بطور وقف خاص مذہبی کام کے متصورہوگی،اس میں کبھی وراثت جاری نہ ہوگی"تو شك نہیں کہ وقف نامہ ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۲)دستاویز"ب"کے ملاحظہ سے ظاہر کہ زید نے جو اصل واقف کا مقررشدہ متولی تھا اپنی حالت حیات وصحت میں تولیت سے دستکشی کرکے اپنے بیٹے کو جانشین ومتولی کیا شرعًا اسے کچھ اختیار نہ تھا،
اولًا: متولی کو جائز نہیں کہ اپنی حیات وصحت میں دوسرے کو اپنی جگہ قائم کرے جب تك کہ واقف نے صراحۃً اسے اس کا اختیار نہ دیا ہو اور یہاں اسے اس کا اختیار نہ دیا تھا بلکہ عبارت وقف نامہ سے صاف ظاہر کہ واقف نے تاحیات زید اسی کا متولی رہنا لکھا اس کے بعد اوروں کی جانشینی تحریر کی،درمختار میں ہے:
ارادالمتولی اقامۃ غیرہ مقامہ فی حیاتہ وصحتہ ان کان التفویض لہ بالشرط عاما صح،والافان فوض فی صحتہ لایصح[1]۔
متولی نے اپنی حیات وصحت میں دوسرے کو اپنا قائم مقام بنانے کا ارادہ کیا تو اگر اس کو شرط واقف کے ذریعے تفویض عام حاصل ہے تب تو صحیح ہے ورنہ حالت صحت میں تفویض صحیح نہ ہوگی(ت)
ثانیًا: پسرزیدکی جانشینی بھی خلاف شرط وقف نامہ عمل میں آئی جیسا کہ عبارت مذکورہ سے ظاہر ہے لہذا دستاویز"ب"محض مہمل وناقابل عملہ ہے تحریر وقف نامہ سے روشن ہے کہ متولی وسجادہ نشین ایك ہی شخص ہواور اس کی نسبت واقف نے کوئی تعیین نہ کی تو مصالح شرعیہ دینیہ کے اعتبار سے اقربائے واقف میں سے جو شخص سنی پرہیز گار،دیندار،دیانتدار علماء وصلحائے اہلسنت کے اتفاق رائے سے اس کام کےلئے
زیادہ مناسب ہو وہی سجادہ نشین ومتولی کیا جائے،علم،تقوٰی ودیانت واہلیت کا لحاظ سب سے مقدم ہوگا اور جب تك اقارب واقف میں سے ایسامل سکے اجنبیوں میں سے نہ کیا جائے گا۔درمختار میں ہے:
ومادام احد یصالح للتولیۃ من اقارب الواقف لا یجعل المتولی من الاجانب،ومن قصدہ نسبۃ الوقف الیھم[2] ۔
جب تك وقف کرنیوالے کے اقارب میں کوئی متولی بننے کی صلاحیت رکھنے والا موجود ہے کسی اجنبی کو متولی وقف نہیں بنایاجائے گا۔واقف کے قریبی رشتہ دار متولی کا مقصود یہ ہوتا ہے کہ وقف اس کے خاندان کی طرف منسوب رہے۔(ت)
عرفًا اس سلسلے کا مجاز وماذون ہونا بھی ضرورہے اگر ان سب باتوں میں مساوات ہوتو باعتبار سن ترجیح ہوگی،
کمانصوا ان الاحق بالامامۃ اعلمھم بالکتاب و السنۃ ثم وثم وثم اسنھم[3]واﷲ تعالٰی اعلم۔
جیسا کہ مشائخ نے نص فرمائی کہ لوگوں میں سب سے بڑاعالم امامت کا زیادہ حقدار ہے پھر فلاں،پھر فلاں پھران میں سب سے زیادہ عمر رسیدہ واﷲتعالٰی اعلم(ت)
_______________________
نوٹ:
سولھویں جلد کتاب الشرکۃ وکتاب الوقف پر ختم ہوئی،
سترہویں جلد کا آغاز کتاب البیوع سے ہوگا۔
____________________
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع