30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حتی لووقف شیئا من ارضہ ولم یسمہ لایصح و لو بین بعدذٰلک[1]۔
یہاں تك کہ اگر کسی نے اپنی زمین کا کچھ حصہ وقف کیا اور اس کو متعین نہ کیا تو وقف صحیح نہ ہوگا اگرچہ بعدمیں بیان کردے(ت)
اسی میں اسعاف سے ہے:
الوقف لایحتمل التعلیق بالخطر[2]۔
وقف ایسی شیئ کے ساتھ معلق ہونے کااحتمال نہیں رکھتا جو محتمل الہلاك ہو(ت)
فتح القدیر میں ہے:
لو قال اذا مت من مرضی ھذا فقد وقفت ارضی الٰی اٰخرہ فمات لم تصروقفا[3]۔
جب کہا کہ اگر میں اپنی اس مرض میں مرگیا تو میں نے اپنی یہ زمین وقف کردی،پھر مرگیا تو زمین وقف نہ ہوئی(ت)
اس کے بعد جو لکھا کہ حکام سے امید ہے کہ اس جائداد موقوفہ کی نگرانی کریں اور اخیرمیں کہا کہ یہ وقف نامہ لکھ دیا اور متولیوں کو مصارف بتائے ان میں کسی سے انشائے وقف نہ مقصود ہے نہ مفہوم بلکہ یہ سب اپنے اسی خیال کی بناپر ہے کہ اسے وقف سمجھا حالانکہ وہ شرعًا ہنوز وقف نہ ہوئی اور غلط خیالی کی بنا پر جو الفاظ کہے جائیں کچھ اثرنہیں رکھتے، اشباہ قاعدہ لاعبرۃ بالظن البین خطوہ میں ہے:
لواقربطلاق زوجتہ ظانا الوقوع بافتاء المفتی فتبین عدمہ لم یقع کمافی القنیۃ[4]۔
اگر کسی نے مفتی کے فتوٰی دینے کی وجہ سے وقوع طلاق کا گمان کرتے ہوئے اپنی بیوی کی طلاق کا اقرار کیا پھر اس کا عدم ظاہر ہوگیا تو طلاق واقع نہیں ہوئی جیسا کہ قنیہ میں ہے(ت)
پس اس طالبہ ثواب کو چاہئے کہ اسے از سر نو وقف فرمائے اور بعد موت پر معلق نہ کرے کہ وہ اس میں اگرثلث متروکہ سے زائد ہوتو پھر وارثوں کی اجازت کا جھگڑا ہے اور واقفہ استبدال کی شرط لگانا چاہے تو اختیار ہے مگر صرف اس طرح کہ اسے دوسری جائداد سے بدل لیں خواہ بیچ کر اس کے عوض دوسری جائداد خرید لیں،اور اب وہ دوسری فورًا انہیں شرائط پر وقف ہوجائے گی،اور ماورائے جائداد کسی اور چیز سے تبدیل کا ذکر ہر گز نہ ہو ورنہ وقف جاتا رہے گا،اور یہ خیال نہ کریں کہ اپنی حیات میں بیچ کر خرچ کردوں تو ثواب زیادہ ہے،نہیں بلکہ اپنی حیات میں وقف کامل کریں اور شرط کرلیں کہ زندگی بھر
اس کے تمام مصارف میرے ہاتھ سے ہوں گے اور میری رائے واختیار پر رہیں گے میرے بعد فلاں فلان متولی ہوں اور اتنا اتنا فلاں مصرف میں صرف کیا کریں یوں اپنی رائے سے زندگی بھر جیساچاہے صرف کا اختیار رہا اور بعد کو بھی تابقائے جائداد ثواب پہنچا کیا۔عالمگیری میں ہے:
رجل ارادان یجعل مالہ بوجہ القربۃ فبناء الرباط للمسلمین افضل من عتق الرقاب لانہ ادوم،وقیل التصدق علی المساکین وقلت قد کنا قلنا لمن اراد ذٰلك ان یشتری الکتب ویضع فی دارالکتب لیکتب العلم لانہ ادوم،فکان افضل من غیرہ ولوارادان یتخذ دارا لہ وقفا علی الفقراء،فالتصدق بثمنہا افضل ولوکان مکان الدار ضیعۃ فالوقف افضل کذا فی المضمرات[5]۔(ملخصًا)
ایك شخص نے ارادہ کیا کہ اپنا مال قرب الٰہی میں کردے تو اس کا مسلمانوں کے لئے رباط بناناغلام آزاد کرنے سے بہتر ہے کیونکہ رباط کو دوام زیادہ ہے،اور بعض نے کہا کہ اس کو مساکین پر صدقہ کرنا افضل ہے اور تحقیق ہم نے ایسا ارادہ کرنے والے کو کہا تھا کہ وہ کتابیں خرید کر لائبریری میں رکھے کیونکہ اس میں زیادہ دوام ہے لہذا یہ اپنے غیر سے افضل ہے اور اگر کسی نے ارادہ کیا کہ اپنا گھر فقیروں پر وقف کردے تو اس کے ثمن کو صدقہ کرنا افضل ہے اور اگر بجائے گھر کے زمین موقوف ہوتو وقف افضل ہے،ایسے ہی مضمرات میں ہے(ملخصًا)۔(ت)
فتاوٰی امام قاضی خان میں ہے:
رجل جاء الی المفتی وارادان یتقرب الی اﷲ تعالٰی بدارہ فسأل ابیعھا واتصدق بثمنھا اواشتری بثمنھا عبیدا فاعتقھم او اجعلھا دارالمسلمین ای ذٰلك یکون افضل،قالوایقال لہ ان بنیت رباطا وتجعل لہا وقفا ومستغلا لعمارتھا فالرباط افضل فانہ ادوم و اعم نفعا،وان لم تجعل للرباط مستغلا للعمارۃ فالافضل ان تبیع وتتصدق بثمنہ علی المساکین[6]۔
ایك مفتی کے پاس ایسا شخص آیا جو اپنے گھر کے ذریعے اﷲ تعالٰی کا تقرب حاصل کرنے کا ارادہ رکھتاہے اس نے کہا کہ میں اس کو فروخت کرکے اس کے ثمن صدقہ کروں یا اس کے ثمنوں سے غلام خرید کر آزاد کروں یا اس کو مسلمانوں کے لئے گھر کردوں ان میں سے کیا افضل ہے تو مشائخ نے کہا کہ اس کو یہ جواب دیا جائے گاکہ اگر تو رباط بنا کر اس کی آمدنی کےلئے کوئی شے وقف کردے تو رباط افضل ہے کیونکہ اس میں دوام زیادہ اور اس کا نفع عام ہے اور اگر تو رباط کی آمدنی کے لئے کوئی چیز وقف نہ کرسکے تو پھر اس کو فروخت کرکے ثمن مسکینوں پر صدقہ کرنا افضل ہے(ت)
عالمگیریہ میں اسے نقل کرکے فرمایا:
ودون ذٰلك فی الفضل ان یشتری بثمنھا عبیدًا فیعتقہم کذافی الظہیریۃ[7]۔
اور اس سے کمتر فضیلت اس میں ہے کہ اس کے ثمنوں سے غلام خرید کر آزاد کردے۔ظہیریہ میں ایسے ہی ہے۔(ت)
وجیز کردری پھر بحرالرائق پھر ہندیہ میں ہے:
وقف الضیعۃ اولی من بیعہا والتصدق بثمنھا[8]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
[1] ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۶۰
[2] ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۶۰
[3] فتح القدیر کتاب الوقف مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵/ ۴۲۳
[4] الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ السابعہ عشر ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۱۹۴
[5] فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الرابع عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۸۲۔۴۸۱
[6] فتاوٰی قاضی خان کتاب الوقف باب الرجل یجعل دارہ مسجداًالخ نولکشور لکھنو ۴/ ۷۱۴
[7] فتاوٰی ہندیۃ الباب الثانی عشر فی الرباطات والمقابر نورانی کتب خانہ،پشاور ۲/ ۴۷۰
[8] فتاوٰی ہندیۃ الباب الثانی عشر فی الرباطات والمقابر نورانی کتب خانہ،پشاور ۲/ ۴۷۰
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع