30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اسی طرح اور کتب میں ہے:
قلت واشارفی ردالمحتار بنقل عبارت المختارات الی انہ لم یذکر الترتیب بین التکفین والتصدق علی مافی الشرح اقول: لکن فی الخانیۃ ثم الھندیۃ ان عرف صاحب الفضل ردہ علیہ وان لم یعرف کفن بہ محتاجا اٰخر وان لم یقدر علٰی صرفہ الی الکفن یتصدق بہ علی الفقراء[1] اھ ۔فھذانص فی الترتیب و لاشك ان باختیارہ یخرج عن العھدۃ بیقین ثم ھذا وان لم یکن وقفا فلہ شبہ بہ ولاشك ان مراعاۃ غرض المالك املك واحکم فلذاعولنا علیہ، واﷲ تعالٰی اعلم۔
قلت (میں کہتا ہوں) ردالمحتار میں مختارات کی عبارت نقل کرنے میں یہ اشارہ ہے کہ کسی فقیرکو کفن پہنانے یا صدقہ کرنے میں ترتیب مذکور نہیں ہے جیسا کہ شرح میں ہے،اقول:(میں کہتا ہوں) لیکن خانیہ پھر ہندیہ میں ہے کہ اگر زائد چندے والا معلوم ہوتو اسے واپس کیا جائے اور اگر معلوم نہ ہوتو پھر کسی اور محتاج کو کفن دیا جائے، اور اگر کسی کفن میں صرف کرنا مقدور نہ ہوتو پھر فقراء پر صدقہ کیا جائے اھ، تو یہ عبارت ترتیب کےلئے نص ہے، اس میں شك نہیں کہ اس ترتیب کو اپنانے سے یقینا عہدہ بر آہوسکتا ہے، پھر یہ اگرچہ وقف نہیں تو اس کے مشابہ ہے اور اس میں شك نہیں کہ چندہ دینے والے مالك کی غرض کو پورا کرنا زیادہ محکم ہے اس لئے ہم نے اس ترتیب کو قابل اعتماد قرار دیا ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
مسئلہ۳۷: ازبریلی محلہ بہاری پور مسئولہ محمد علی جان خاں صاحب ۸رجب المرجب ۱۳۲۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین بیچ اس مسئلہ کے کہ مسمی کرامت علی ونیاز علی واقع تکیہ ملوکپور کے خادم تھے جنہوں نے کچھ اراضی مسمی قادر بخش کے پاس بمیعادتیس سال کے بیع بالوفاء کردی جو بعد انقضا ء میعاد مذکورہ بالا کے شیخ مذکور کے قبضہ میں اس بیعنامہ کے ذریعہ سے آگئی، چنانچہ شیخ مذکور کی قبر اور ان کے بزرگان کی قبریں بھی اسمیں بنیں، بعدہ تخمینًا عرصہ سینتالیس سال کا ہوا کہ از جانب سرکار انگریزی تکیہ ہذا میں مردوں کے دفن کرنے کی ممانعت ہوگئی اب وہ اراضی بیکار پڑی ہے اوراس کی صفائی کا کچھ انتظام نہ تھا اس واسطے جملہ مسلمانان محلہ نے شیخ یاد علی وارث قادر بخش سے اس اراضی کا بیعنامہ مسجد کے نام جو اس کے محاذ میں واقع ہے صرف سڑك انگریزی درمیان میں واقع ہے لکھا لیا اور بعد لکھا نے بیعنامہ کے باجازت سرکار انگریزی اس اراضی کو پختہ منڈیروں سے محدود کرکے اس کے اوپر کرایہ دار کو بٹھادیا اور اس سے جو کرایہ حاصل ہوا اس کو مسجد کی مرمت وغیرہ میں صرف کیا اور وقت محدود کرنے اراضی کے اس کو ہموار کردیا تھا اب اس کے محاصل کا مسجد میں صرف کرنا جائز ہے یاناجائز؟بینواتوجروا۔
الجواب:
اگر وہ زمین ان تکیہ داروں کی ملك نہ تھی بلکہ قبرستان عام مسلمین کی وقفی زمین تھی تو وہ بیعیں سب ناجائز ہوئیں اور بذریعہ بیع یہ صورت جو اسے متعلق مسجد کرلینے کی ہے یہ بھی ناجائز ہوئی اس میں جو قبور تھیں انہیں منہدم وہموار کرکے ان پر چلنا پھر نا سب ناجائز، البتہ جو زمین اس میں قبور سے جدا تھی وہ ازانجا کہ اب وہاں دفن ممکن نہ رہا ملك اصل واقف کی طرف عود کرگئی اس کے ورثہ کو اختیار ہے ان کی اجازت سے اس قدر کو متعلق مسجد کرسکتے ہیں اور واقف نہ معلوم ہو یا ورثہ کا پتا نہیں تو مسلمانوں کا یہ فعل باستثناء مواضع قبور ممنوع نہیں، واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ۳۸ تا ۴۱:مسئولہ حافظ قاضی تلن خاں عرف میزان اللہ شاہ اشرفی امام ومدرس مسجد مولوی ٹولہ شہر کہنہ ۵شوال ۱۳۳۳ھ
ایك شخص کےپاس دوسو روپے امانت مسجد کا تھا کہ جس کو بلا اجازت متولی اس نے عدالت سے وصولی کرلیا تھا اور بوجہ اس کے سربرآوردہ ہونے کے متولی نے طلب اس سے نہیں کی اور جب طلب کیا تو جواب دیا کہ جس کام میں میری رائے ہوگی صرف کردوں گا، چنانچہ اب اس شخص نے متصل اسی مسجد کے حجرہ کے اراضی افتادہ میں اپنا ذاتی ایك چبوترہ تعمیر کرلیا اور یہ خیال کہ اس چبوترہ کی آڑ دیوار حجرہ سے ہے اور ا س چبوترہ کے آگے بھی اراضی افتادہ ہے جس میں تین پرنالہ مسجد کے قدیم سے جاری ہیں اس اراضی کی بھی آڑ مسجد سے ہوجاوے پس ایك پاکھا فصیل مسجد پر بنانے کا ارادہ کیا چونکہ وہ تعمیر بلا ضرورت دیوار مسجد پر تھی لہذا یہ ظاہرکیا کہ مرمت مسجد کرائی جاوے، چنانچہ اسی مرمت میں یہ تجویز خودکیا کہ پیش حجرہ ٹین ڈالا جاوے جس کے واسطے پاکھوں کی ضرورت ہے چنانچہ دونوں طرف حجروں کے فصیل پر پاکھے بنوائے گئے او ان کو بغرض حفاظت اراضی افتادہ بند کرنا چاہا تاکہ کوئی وضو فصیل پر نہ کرسکے جس کے مسلمان حارج ہوئے مگرکچھ نہ مانا ایك بہت اونچی جگہ پر کسی قدر ان پاکھوں کو کھولا اور ٹین پیش ہر دو حجرہ ڈلوادیا اور دوسو روپیہ اس تعمیر میں صرف کردئے۔ مسلمانوں کی رائے تھی کہ اور کچھ چندہ فراہم کرکے ایك مکان تعمیر ہوجاتا کہ جس کی آمدنی خرچ وصرف مسجد کوکافی ہوتی یہ رقم دو سو پچاس کی تھی جس میں اب صرف پچاس روپیہ انہیں کی تحویل میں باقی رہے ہیں لہذا تعمیرمکان اب دشوار ہوگئی،
(۱) ایسی حالت میں یہ روپیہ بجا صرف ہوایا بےجا؟
(۲) اور مواخذہ دار اس کا عنداللہ وہ رہا یانہیں؟
(۳) اور متولی مسجد سے رسید اس روپے کی طلب کرتا ہے تو رسید دینا چاہئے یانہیں جبکہ بلامشورہ ورائے یہ روپیہ صرف ہوا مرمت مسجد میں، اگر صرف بہ انتظام ہوتا تو (صہ /) سے زائد نہ صرف ہوتا، اب ڈیڑھ سوروپیہ صرف دونوں طرف کے پاکھے اورٹین اور فضولیات میں صرف ہوگیا جس کی اس وقت مسجد کوکوئی ضرورت نہ تھی او ر۸ سال تك یہ روپیہ اس نے اپنے قبضہ میں رکھا،
(۴) اور دونوں جانب کے در فصیل کھلوادینے چاہئیں یانہیں کیونکہ ہوا بالکل مسدود ہے اور آرام نمازیوں اور وضو کاجاتا رہا، جو حکم شرع ہو وہ کیا جاوے۔بینواتوجروا۔
الجواب:
(۱) شخص مذکور کے یہ تصرفات محض ناجائز وباطل ہیں۔
(۲) روپے کا تاوان اس پر لازم ہے۔
(۳) متولی مسجد کو حرام ہے کہ اسے رسید دے۔
(۴) دونوں طرف کے دربدستور کھول دئے جائیں کہ ہوااور وضو کاآرام ہو،
فی الدرالمختار والبحرالرائق والاشباہ والنظائر وغیر ھا التصریح بان المتولی مقدم علی القاضی وان کان منصوبہ فکیف بالاجنبی فکیف فی اضاعۃ المال وسد المرافق [2] واﷲتعالٰی اعلم۔
درمختار، بحرالرائق، الاشباہ والنظائر وغیرہا میں تصریح ہے کہ متولی قاضی پر مقدم ہے اگرچہ متولی اسی قاضی کا بنایا ہوا ہو تو اجنبی کا کیا مقام ہے تو مال کاضیاع اور مفادات پر پابندی کا کیا سوال ہے،واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع