30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قبلہ دو جہاں وکعبہ دین وایماں دامت برکاتہم بعد تمنائے قدمبوسی عارضی،بی بی صاحبہ نے جائداد وقف کی ہے وارث سے اندیشہ ہے کہ بعد وفات منسوخ کراکر قبضہ مالکانہ کریں حضور سے دریافت کیا کہ یہ تحریر شرعًا درست ہے اگر اس میں کوئی شك ہے تو دوسرا کاغذ رجسٹری کرادیا جائے،وقف نامہ معہ صہ/ کے اسٹامپ پر تحریرہے اس کی نقل واسطے ملاحظہ اقدس ارسال خدمت ہے جس وقت حضور کا جواب آئے گا تب داخل خارج کی درخواست دی جائے گی بی بی صاحبہ نے اپنی دوسری جائداد سے حصہ وارثان کو دے دیا ہے،یہ جائداد وقف کی ہے۔(وقف نامہ)
خلاصہ وقف نامہ:میں اکبری بیگم فارسی خواندہ بنت عبدالرشید خاں مرحوم ساکنہ پیلی بھیت محلہ کھکرابحالت صحت نفس وثبات عقل اپنی خوشی سے اس وقت اپنی جائداد حسبۃ ﷲ واسطے مصارف خیر اطعام مساکین وپارچہائے سرماو گرمائے مساکین وتجہیز وتکفین غربائے اسلام وجہیز دختران مساکین وصرف خیر مساجد ومدارس دینی وحرمین شریفین زادہمااللہ شرفًا وتعظیمًا وقف لوجہ اللہ کرتی ہوں تاحیات خود متولی رہوں گی بعد میرے فیاض الدین احمد خاں،بعد ان کے ان کی اولاد ذکور جو پابند شرع شریف ہو بمعیت حکیم خلیل الرحمٰن خاں ومولوی وصی احمد صاحب رہیں گے،متولیان سو روپے سال اصغری بیگم کو جو میری چھوٹی بہن ہے دیتے رہیں بعد ان کے ان کی اولاد ذکور کو جوپابند شرع شریف ہو دیتے رہیں نیز یہ بھی شرط ہے کہ میری رائے میں بحالت تولیت میری اس حقیت کا بیع یارہن کرنا یا ٹھیکہ دینا اور اس سے دوسری جائداد یا اور کوئی شے مفید واسطے منافع اغراض وقف کے خرید کرناضرور معلوم ہوتو ایسا کرنے کا حسب شرائط دستاویز ہذ ا مجھے اختیار ہوگا اس لئے کہ موت کا وقت مقرر نہیں ہے لہذا انتظامًا و احتیاطًا یہ وقف نامہ لکھا گیا افضل خیرات شرعًا یہ ہے کہ جائداد مذکورہ کسی قیمت مناسب پر فروخت کرکے وقتًا فوقتًا خود اپنے ہاتھ سے خیرات کرتی،لہذا تاحیات اپنی مجھ کو اختیار ہوگا کہ جس وقت چاہوں فروخت کرکے حسب رائے خود خرچ کروں اور جو کچھ بعد میں باقی رہے گا اس سے شرائط وقفنامہ ہذا متعلق ہوں گے اگر میری حیات میں متولیان سے کوئی فوت ہوجائے تو مجھ کو متولی مقررکرنے کاخود اختیار ہوگا،متولیان کو چاہئے ؎/سال بطور خیرات تا حیات اس کے مسماۃ بنی کو جو اس وقت میرے پاس ہے بعد میرے دیا کریں گے بعد وفات اس کے یہ روپیہ دیگر خیرات میں شامل کیا جائے اگر خدانخواستہ ملك حجاز اپنی بدقسمتی سے نہ پہنچ سکوں تومیری قبر کسی بزرگ کے قریب بنوائی جائے اور محفوظ ممیز کر دی جائے اور ایصال ثواب قرآن شریف وکلمہ ودرود میں ؎سال تك خرچ کیا جائے چونکہ آمدنی جائداد کی تعیین نہیں ہوسکتی میری رائے میں منہائے اخراجات متعلق جائداد کے ایك ثلث حرمین شریفین میں واسطے خیرات کے دیا جائے،اور ایك ثلث طلبائے علم دین ومصارف مساجد پیلی بھیت ومدرسہ عربی واقع پیلی بھیت،ایك ثلث فقراء ومساکین واطعام وغیرہ،اور واسطے ایصال ثواب شاہ محمد شیر صاحب کے ؎ /روپے سالانہ یا جس قدر زائد گنجائش ہو کیا جائے مجھے حکام سے امید ہے کہ بوقت دورہ اس جائداد موقوفہ کی نگرانی فرمادیں،متولیان کے پاس رجسٹرحساب جمع خرچ باقاعدہ درست رہنا ضرورہے،میرے وارث یا قائم مقام کو اس کے تبدیل تغییر کا اختیار نہ ہوگا۔لہذا یہ وقف نامہ بتعین مالیت معمہ ھما ًروپیہ دیا کہ سند ہو۔مورخہ ۱۲ستمبر ۱۹۰۶ء رجسٹری شدہ ہے۔
الجواب:
یہ کاغذ باطل محض ہے اس میں انشائے وقف کے دو۲ جملے ہیں:
اوّل: وقف لوجہ اللہ کرتی ہوں اور راس میں یہ شرط لگائی کہ اسے بیچ کر جائداد یا اور کوئی شے مفید اغراض وقف خرید کرنے کا مجھے اختیارہوگا شرط استبدال اگرچہ جائز ہے مگر یوں کہ اس کے عوض دوسری جائداد ہی لی جائے جو انہیں مقاصد پر وقف ٹھہرے نہ کہ علاوہ جائداد مطلقًا جو شے چاہے جیسا کہ اس کاغذ میں تحریر ہے ایسی شرط سے وقف باطل ہوجاتا ہے۔عالمگیری میں ہے:
اذا شرط فی اصل الوقف ان یستبدل بہ ارضا اخری اذا شاء فتکون وقفا مکانہا،فالوقف والشرط جائز ان عند ابی یوسف وکذالوشرط ان یبیعھا ویستبدل بثمنھا مکانھا،وفی واقعات القاضی الامام فخرالدین قول ھلال مع ابی یوسف رحمہما اﷲ تعالٰی وعلیہ الفتوٰی کذافی الخلاصۃ،وان قال علی ان ابیعھا بما بدا لی من الثمن من قلیل اوکثیر او علی ان ابیعھا و اشتری بثمنھا عبداو قال ابیعھا ولم یزد علی ذلک، قال ھلال ھذاالشرط فاسد یفسد بہ الوقف کذافی فتاوی قاضی خان،ولوشرط الاستبدال ولم یذکر ارضا ولادارا،لہ ان یستبدل بجنس العقار ماشاء من دار اوارض کذافی الخلاصۃ،واذاقال علی ان استبدل ارضا اخری لیس لہ ان یجعل البدل دارا و کذا علی العکس کذافی فتح القدیر[1] وذکر الخصاف فی وقفہ لو شرط ان یبیعھا ویصرف ثمنھا الی مارأی من ابواب الخیرفالوقف باطل کذافی الذخیرۃ[2]۔
اگر واقف نے اصل وقف میں یہ شرط عائد کی کہ جب چاہے گا اس زمین کے بدلے دوسری زمین لے گا اور وہ اس پہلی زمین موقوفہ کی جگہ وقف ہوگی تو امام ابویوسف علیہ الرحمۃ کے نزدیك وقف وشرط دونوں جائز ہیں،اور اسی طرح اگر یہ شرط کی کہ اس کو فروخت کرکے اس کے ثمن کے بدلے دوسری زمین خریدے گا جو اس کی جگہ وقف ہوگی تو بھی جائز ہے اور واقعات قاضی امام فخر الدین رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہمیں ابو یوسف کے قول کے ساتھ شیخ ہلال علیہ الرحمۃ کا قول بھی مذکور ہے اور اسی پر فتوٰی ہے یہ خلاصہ میں ہے،اور اگر واقف نے اصل وقف میں یوں کہا کہ اس شر ط پروقف کرتا ہوں کہ میں اس وقف کواپنی رائے کے مطابق کثیر یا قلیل ثمن کے بدلے فروخت کرں گا یا یوں کہا کہ اس شرط پر میں اس کو فروخت کروں گا،اور اس کے ثمن کے بدلے غلام خریدوں گا یا یوں کہا کہ اس شرط پر کہ میں اس کو فروخت کروں گا اس سے زیادہ کچھ نہ کہا تو شیخ ھلال نے فرمایا کہ یہ شرط فاسد ہے اور اس سے وقف فاسد ہوگا یہ فتاوٰی قاضیخان میں ہے،اور اگر اس نے فقط استبدال کی شرط کی اور یہ بیان نہ کیا اس کے بدلے زمین یا دار لے گا تو اس کو اختیار ہوگا کہ جنس عقار سے جو چاہے اس کے بدلے میں لے لے چاہے زمین یا مکان،یوں ہی خلاصہ میں ہے۔اور اگراس نے کہا اس شرط پر کہ میں اس کے بدلے دوسری زمین لوں گا تو اب اس کے بدلے مکان نہیں لے سکتا اور نہ ہی اسکا عکس کرسکتا ہے جیسا کہ فتح القدیر میں ہے،امام خصاف نے اپنی وقف میں ذکر فرمایا کہ اگر واقف نے یہ شرط کی کہ میں وقف کو فروخت کرکے ثمن کارہائے خیر میں جہاں چاہوں گا خرچ کروں گا تو وقف باطل ہوگا،ذخیرہ میں یونہی ہے۔(ت)
دوم: جو کچھ بعد میرے باقی رہے گا اس سے شرائط وقفنامہ متعلق ہوں گے اس کا حاصل یہ ہے کہ فی الحال اس جائداد کا کوئی حصہ وقف نہیں میں جب چاہوں بیچوں اور جہاں چاہوں خرچ کروں میرے بعد اس بیع وخرچ سے کچھ باقی بچے تو وہ وقف ہو،ظاہر ہے کہ یہاں کچھ معلوم نہیں کہ بعد زندگی اس کے بیع وخرچ سے کوئی حصہ جائداد باقی رہے یا کچھ نہ رہے اور رہے تو کیا اور کس قدر،تو یہ ایك مجہول چیز کا وقف کرنا ہو اور مجہول کا وقف باطل ہے پھر وہ بھی ایك احتمال بات پر معلق رہا اور ایسی تعلیق کا وقف باطل ہے۔درمختار میں ہے:
شرطہ ان یکون قربۃ فی ذاتہ معلوما لامعلقا الا بکائن[3]۔
شرط وقف یہ ہے کہ وہ اپنی ذات کے اعتبار سے قربت ہواور معلوم ہو معلق نہ ہو ہاں شرط موجود کے ساتھ معلق ہوسکتا ہے(ت)
ردالمحتار میں ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع