دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 16 | فتاوی رضویہ جلد ۱۶

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۶

الجواب:

اراکین پر اس معاہدہ کی پابندی نہ صرف غیر ضروری بلکہ محض ناجائز وممنوع وگناہ ہے وہ معاہدہ محض باطل وشرعًا مردود وناروا تھا اور باطل کا حق یہ ہے کہ مٹایا جائے نہ کہ پابندی ہو،دیہات کا ٹھیکہ جس طرح ہندوستان میں رائج ہے باجماع مذاہب اربعہ باطل وناجائز ہے،اس ٹھیکہ میں زمین تو اجارہ مزارعین میں ہوتی ہے اور توفیر آئندہ کا ٹھیکہ دیا جاتا ہے اور یہ حرام ہے عقد اجارہ شرع نے منافع کےلئے رکھا ہے،نہ عین کےلئے،منفعت جیسے مکان میں رہنا گھوڑے پر چڑھنا اور عین جیسے روپیہ غلہ پھل وغیرہا،تو جواجارہ استہلاك عین پر واقع ہو مردود و باطل ہے،

الاماخصہ الشرع کاجارۃ الضرع للارضاع فانہا علی اللبن و اللبن عین لکن ورد الشرع باباحتہا علی خلاف الاصل فیقتصر علی موردہ۔

مگر جس کو شرع نے مخصوص کردیا ہو جیسے دودھ پلانے کے لئے کوئی دودھ والا جانور اجرت پر لینا کیونکہ یہ اجارہ دودھ پر واقع ہوا اور دودھ عین ہے لیکن شرع خلاف قیاس اس کی اباحت پروارد ہے لہذا یہ حکم اپنے مورد پر بندرہے گا(ت)

فتاوٰی خیریہ وعقود الدریہ ودرمختار وردالمحتار وغیرہا میں اس کی تصریح ہے اورفتاوٰی فقیر میں اس کی کامل تفصیل وتنقیح۔اور اگر اس سے قطع نظر ہی کریں تو اولًا:اراکین کی وہ تحریر صرف ایك وعدہ تھی اور وفائے وعدہ پر جبر نہیں کما فی الاشباہ و الھندیۃ وغیرھما(جیسا کہ اشباہ اور ہندیہ وغیرہ میں ہے۔ت)

ثانیًا: وہ وعدہ بھی لفظ ان شاء اللہ  کے ساتھ تھا جو حلف کے اثر کو بھی باطل کردیتاہے۔

ثالثًا: اراکین کو کوئی اختیار نہ تھا نہ ہے کہ وقف کے نقصان کا وعدہ کرلیں اور اپنے وعدہ کے نباہ کے لئے وقف کا نفع کھوئیں۔

بالجملہ وہ تحریر تو محض مہمل اور یہ رائج ٹھیکہ باطل و حرام ہے،اراکین کو چاہئے کہ دیہات میں جس وقت سال تمام ہوتا ہے اس وقت نظر کریں کہ بعض مزارعین سے پٹہ کی میعاد باقی ہے یا سب کی ختم ہوگئی یا کل یا بعض ایسے ہیں جن سے کسی میعاد معین کا معاہدہ نہ ہو اسال بسال زراعت کرتے اور اجرت دیتے ہیں،یہ تین صورتیں ہیں۔صورت دوم میں تو ظاہر ہے کہ زمین دیہہ اجارہ سے پاك وخالص ہوگئی،اور صورت سوم میں تمام مزارعوں کو اطلاع دے دیں کہ سال آئندہ زمین ہماری طرف سے تم کو اجارہ میں نہ دی جائے گی بلکہ ہم کل زمین دیہہ فلاں مستاجر کو اجارہ دیں گے اس کی طرف سے تم کو بدستور اجارہ ملے گی جس سے تمہارے معمول میں فرق نہ آئے گا یوں زمین دیہہ خالص ہوجائے گی،صورت اول میں البتہ دقت ہے اس کا علاج یہ ہے کہ جس جس کی میعاد باقی ہے اسے بلا کر سمجھایاجائے کہ ہم صحت شرعی کے لئے یہ کارروائی کرتے ہیں جس کا کوئی اثر تمہارے خلاف نہ پڑے گا تم زبانی کہہ دو کہ ہم نے بقیہ میعاد کے اجارہ زمین سے دست برداری کی،اس سے تمہیں ضرر نہ ہوگا زمین بدستور تمہیں کو ملے گی کاغذی عملدرآمد میں تبدیل نہ ہوگی شرعی طور پر سال آئندہ سے ہمارے بدلے فلاں مستاجر سے تم کو زمین اجارہ میں ملے گی جب وہ اس پر راضی ہوکر فسخ اجارہ کر دیں یوں تمام زمین خالص ہوجائے گی،بعد مستاجر سے کہا جائے کہ ہم نے اس تمام دیہہ کی زمین پانچ برس کے لئے فی سال اتنے روپے کے عوض تمہارے اجارہ میں دی وہ قبول کرے یہ عقد صحیح وجائز شرعی ہوگا اور زر ٹھیکہ وقف کےلئے حلال ہوگا جو بچا مستاجر کےلئے حلال ہوگا ورنہ طرفین گنہگار،اور نشست کم ہوئی تو اصل منافع موجودہ سے جتنا زائد آئے گا وقف کےلئے حرام ہوگا وہ ملك مستاجر ہے اور نشست زیادہ ہو تو جتنا بچا وہ مستاجر کےلئے حرام ہوگا وہ مال وقف ہے۔واﷲ تعالٰی  اعلم۔

مسئلہ ۴۳۰:           مسئولہ ظہورالدین صاحب وکیل بریلی محلہ خواجہ قطب                              ۲۵جمادی الاولٰی ۱۳۳۴ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع اس مسئلہ میں کہ ایك مسجد کی تعمیر زیر تجویز ہے جس کی اوپرکی منزل پر تعمیر ہونا قرارپایا ہے لیکن مسجد کو وسیع بنانے اور ا س کا ٹھیك رخ قائم کرنے میں ایك جز ومکان دوسرے شخص کا بھی آتا ہے یہ جز وایك چھوٹے مثلث کی شکل میں ہے یہ شخص مالك مکان اس مثلث کو وقف کرنے کو تیار ہے لیکن یہ کہتا ہے کہ تعمیر مسجد جو اوپر بنے گی نیچے کے قطعہ مثلث کو اس کو دوامی طور پر کرایہ یا چانٹی پر دے دیا جائے تاکہ وہ شخص اس پر تعمیر نیچے نیچے کرلے اس کا یہ خیال ہے کہ میرامکان جو مثلث قطعہ دینے سے کوٹھا ٹوٹ کرناقص ہوجائے گا پھر نیچے نیچے کوٹھے کی تعمیر کرنے سے درست رہے زمین موقوفہ رہے گی اور اس کا کرایہ وہ اداکیا کرے گا،ذیل میں ایك نقشہ بغرض سہولت فہم بنادیا گیا ہے جس میں ا،ب،ج سے اراضی استفتا طلب دکھائی ہے آیا بعد وقف کے اس کو اراضی اس طور سے کرایہ پر دینا جائز ہے یا نہیں کرایہ ضرور مسجدمیں صرف ہوگا،نقشہ یہ ہے:

 

الجواب:

وہ شخص اپنا خاص جزو مکان اس مسجد کے نام وقف کردے اور وقف نامہ رجسٹری کرادے پھر مصارف مسجد کے لئے یہ خاص ٹکڑا اس شخص کو اجرت مثل پر اجارہ میں دے دیا جائے اور ہر تین سال کے بعد کرایہ نامہ کی تجدید کی جائے،اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ وقف کرتے وقت وقفنامہ میں متولی مسجد کو یہ اجازت لکھ دے کہ یہ خاص ٹکڑا زیادہ مدت کےلئے بھی مجھ کو اجارہ میں دیا جاسکے اس صورت میں تین سال کی قید نہ رہے گی مگر وقف کیلئے زیادہ احتیاط اسی پہلی صورت میں ہے،درمختار میں ہے:

یراعی شرط الواقف فی اجارتہ فلواھمل الواقف مدتھا قیل تطلق الزیادۃ للقیم وقیل تقید بسنۃ مطلقًا، وبھا ای بالسنۃ یفتی فی الدار وبثلاث سنین فی الارض الا اذا کانت المصلحۃ بخلاف ذلک[1]۔واﷲ تعالٰی  اعلم۔

وقف کے اجارہ میں شرط واقف کو ملحوظ رکھا جائے گا اگر واقف نے مدت اجارہ کا تعین نہیں کیا تو ایك قول یہ ہے کہ متولی کے لئے زیادتی کی اجازت مطلق رکھی جائے گی اور ایك قول یہ ہے کہ ایك سال کے ساتھ مقید ہوگی اور ایك سال کی مدت پر ہی فتوٰی دیاجائے گا،مکان کے بارے میں اور تین سال کی مدت پر فتوٰی دیا جائے گا زمین کے بارے میں سوائے اس کے کہ مصلحت اس کے خلاف میں ہو۔واﷲ تعالٰی  اعلم(ت)

مسئلہ ۴۳۱:            از پیلی بھیت محلہ کھکرا مرسلہ حمید الدین خان صاحب کارندہ اکبری بیگم    ۶رمضان مبارك ۱۳۲۶ھ

 



[1]                          درمختار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۶

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن