دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 16 | فتاوی رضویہ جلد ۱۶

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۶

(۳)مساجد واوقاف کا متولی بنانا کیسے عظیم دینی کاموں میں ان سے استعانت ہے اوریہ ان تشریحات جلیلہ پر کہ المحجۃ المؤتمنہ میں مذکور ہوئیں حرام ہے،قرآن عظیم فرماتا ہے:

" وَ لَا تَتَّخِذُوْا مِنْهُمْ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًاۙ(۸۹) "[1]

غیروں میں سے کسی کو نہ اپنا دوست بناؤ نہ مددگار۔

تفسیر ارشاد العقل السلیم علامہ ابوسعود عمادی وتفسری فتوحات الٰہیہ میں ہے:

نھواعن موالاتھم لقربۃ اوصداقۃ جاھلیۃ ونحوھما من اسباب المصادقۃ والمعاشرۃ وعن الاستعانۃ بھم فی الغزووسائر الامور الدینیۃ[2]۔

یعنی مسلمان منع کئے گئے کافروں کی دوستی سے خواہ وہ رشتہ داری کے سبب ہو یا اسلام سے پہلے کے یارانے خواہ یاری اور میل جول کے اور کسی سبب سے اور منع کئے گئے اس سے کہ جہاد یا کسی دینی کام میں کافروں سے استعانت کریں۔

(۴)عقیلی وابن حبان وغیرہما کی حدیث میں ہے نبی صَلَّی اللہُ تعالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا:

سیأتی قوم لھم نبز یقال الرافضۃ لایشھدون جمعۃ ولاجماعۃ ویطعنون علی السلف فلاتجالسوا[3]۔

عنقریب کچھ لوگ آئیں گے ان کا بدلقب ہوگا انہیں رافضی کہا جائے گا نہ جمعہ میں حاضر ہوں گے نہ جماعت میں اور سلف صالح کو بر اکہیں گے تم ان کے پاس نہ بیٹھنا نہ ان کے ساتھ کھانا پینا۔

مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں ہے:

اذمجالسۃ الاغیار تجرالی غایۃ البوار ونھایۃ الخسار [4]۔

اس لئے کہ غیروں کے پاس بیٹھنا حد درجہ کی بربادی اور انتہا درجہ کے نقصان کی طرف کھینچ لے جاتا ہے۔

جب ان کے پاس بیٹھنا نری بربادی ہے تو انہیں مساجد واوقاف کا متولی کرنا کس درجہ کس قدر عظیم تباہی ہے۔

(۵)مسلمانوں کا ایسا عظیم کام اس کے سپرد کرنے میں اسے راز دار ودخیل کار بنانا ہے اور یہ حرام ہے۔

 

اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  فرماتا ہے:

" اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تُتْرَكُوْا وَ لَمَّا یَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَ لَمْ یَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لَا رَسُوْلِهٖ وَ لَا الْمُؤْمِنِیْنَ وَلِیْجَةًؕ-وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠(۱۶)"[5]

کیا اس گھمنڈ میں ہو کہ یونہی چھوڑدئے جاؤگے اور ابھی وہ لوگ علانیہ ظاہر نہ ہوئے جو تم سے راہ خدا میں پوری کوشش کریں اور اللہ  ورسول ومسلمین کے سواکسی کو اپنا راز دار ودخیل کار نہ بنائیں اور اللہ  تمہارے کاموں سے خبردار ہے۔

تفسیر کبیرمیں ہے:

نھی اﷲ تعالٰی  المؤمنین ان یتخذوابطانۃ من غیر المؤمنین فیکون ذٰلك نھیا عن جمیع الکفار، وممایؤکدذٰلك انہ قیل لعمر رضی تعالٰی  عنہ ھٰھنا رجل من اھل الحیرۃ نصرانی لایعرف اقوی حفظا ولا احسن خطامنہ فان رأیت ان نتخذہ کاتبا فامتنع عمر من ذٰلك وقال اذا اتخذت بطانۃ من غیر المؤمنین [6]۔

یعنی اﷲ تعالٰی  نے مسلمانوں کو منع فرمایا کہ غیر مسلم کو اپنا راز دار نہ بناؤ تویہ تمام کفار سے ممانعت ہے اور تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے کہ امیر المومنین عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے عرض کی گئی کہ شہر حیرہ میں ایك نصرانی ہے اس کا ساحافظہ اور عمدہ خط کسی کا معلوم نہیں حضور کی رائے ہوتو ہم اسے محرر بنالیں،امیر المومین نے اسے قبول نہ فرمایا اورارشاد فرمایا کہ ایسا ہوتو میں غیر مسلم کو راز دار بنانے والا ٹھہروں گا۔

تفسیرلباب التاویل وغیرہ پارہ۶میں ہے:

روی ان اباموسٰی الاشعری رضی اﷲتعالٰی  عنہ قال قلت لعمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہان لی کاتبا نصرانیا فقال مالك ولہ قاتلك اﷲ الااتخذت حنیفا یعنی مسلما اما سمعت قول اﷲ عَزَّ وَجَلَّ " یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْیَهُوْدَ وَ النَّصٰرٰۤى اَوْلِیَآءَ ﳕ  " قلت لہ دینہ ولی کتابتہ قال لا اکرمھم اذااھانھم اﷲ ولااعزھم اذااذلھم اﷲ ولا ادینھم اذا بعدھم اﷲ قلت لایتم امرالبصرۃ الا بہ فقال مات النصرانی والسلام یعنی ھب انہ مات فما تصنع بعدفما تعمل بعد موتہ فاعلمہ الاٰن واستغن عنہ بغیرہ من المسلمین[7]۔

یعنی ابو موسٰی اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہوا کہ میں نے امیر المومنین عمر فاروق اعظم سے عرض کی میرا ایك محرر نصرانی ہے،فرمایا تمہیں اس سے کیاعلاقہ خدا تم سے سمجھے کیوں نہ کسی کھرے مسلمان کو محرر بنایا کیا تم نے یہ ارشاد الٰہی نہ سنا کہ اے ایمان والو! یہود ونصارٰی کو یار نہ بناؤ،میں نے عرض کی اس کا دین اس کے لئے ہے مجھے تو اس کی محرری سے کام ہے،فرمایا میں کافروں کو گرامی نہ کروں گا جبکہ انہیں اللہ  نے خوار کیا،نہ



[1]                                 القرآن الکریم ۴/ ۸۹

[2]                                 ارشاد العقل السلیم(تفسیر ابی السعود) تحت آیۃ ۳/ ۲۸ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۲۳،الفتوحات الالٰہیۃ الشہیر بالجمل تحت آیۃ ۳/ ۲۸ مصطفی البابی مصر ۱/ ۲۵۷

[3]                                 العلل المتناہیۃ حدیث ۲۵۷،دارنشرالکتب الاسلامیہ لاہور۱/ ۱۶۱ والضعفاء الکبیر،حدیث ۱۵۳ ۱/ ۱۲۶

[4]                                 مرقاۃ المفاتیح کتاب الایمان تحت حدیث ۱۰۸ المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۱/ ۳۰۹

[5]                             القرآن الکریم ۹ /۱۶

[6]                            مفاتیح الغیب(التفسیر الکبیر) تحت آیۃ ۳/ ۱۱۸ المطبعۃ البیہۃ المصریۃ مصر۸/ ۲۱۰

[7]            لباب التاویل فی معانی التنزیل(تفسیر الخاذن) تحت آیۃ ۵/ ۵۱ مصطفی البابی مصر ۲/ ۶۳۔۶۲

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن