دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 16 | فتاوی رضویہ جلد ۱۶

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۶

اور دونوں مسجدوں میں شریك رہے،خدمات اور خرچ بھی محاصل اور ذات سے خرچ کرتے رہے وہ گروہ عرصہ ۲۵ سال سے ذاتی چندہ اس دوسری مسجد میں دیتے ہیں اور پہلی مسجد کے اوقاف برحال خود جاری ہیں اب یہ لوگ جو جدا ہوئے ہیں ان کو پہلی مسجد والے حقوق وقف سے علیحدہ تصور کرتے ہیں یعنی کہتے ہیں کہ ہم متولی اپنی رضامندی سے مقرر کرتے ہیں اور دوسری مسجد والے کہتے ہیں ہمارا حق ہے کہ ہم سب واقف ہیں اور تولیت کا اختیار سب واقفین کو ہے،دوسرے گروہ والے کہتے ہیں کہ تمہارا حق بسبب جدا ہونے اور الگ بنوانے مسجد کے نہیں رہا، سوال یہ ہے کہ پہلے واقفین کا حق ساقط ہے یاباقی؟

(۲)متولی کا مقرر کرنا مسجد کے لئے ضروریات سے ہے یانہیں؟

(۳)ایك سے زیادہ متولی مقرر کرسکتے ہیں یا نہیں؟

(۴)جب واقفین میں اختلاف ہو بعض زید کو متولی کریں بعض عمرو کو تو اکثرکو ترجیح ہے یا اقل کو،اور برتقدیر مساوات کس کو اختیار نصب متولی کا ہے؟

(۵)واقف سے مراد سطح مسجد کا واقف مراد ہے یا آبادی کرنے والا اور عمارت بنوانے والا؟

(۶)قوم کو نصب امام وموذن وآبادی مسجد وغیرہ کا اختیار ہے یا واقفین کو؟

(۷)واقفین کے لئے ضرور ہے کہ ہمیشہ عملدرآمد اورقابض اپنے موقوف پر رہیں کیا قبضہ چھوڑنے سے حق واقفیت ساقط ہوجاتا ہے؟بینواتوجروا۔

الجواب:

(۱)جب ان سب نے مل کروہ مسجد بنائی سب اس کے واقف ہوئے جو حقوق کہ واقف کے ہیں سب کے لئے ہیں ایك فریق کے مسجد بنالینے سے پہلے کا حق زائل نہ ہوا یہ محض ظلم ہے۔

(۲)مسجد کے لئے متولی کا مقرر کرنا کچھ ضرور نہیں البتہ اوقاف کے لئے ضروری ہے۔

(۳)متولی متعدد بھی ہوسکتے ہیں وہ سب مل کر کام کریں گے ہر ایك مستقل نہ ہوگا۔

 

(۴)فقیر اس وقت کتابوں سے دور حالت سفر میں ہے جزئیہ پیش نظر نہیں،اور ظاہر یہ ہے کہ صورت مذکورہ میں زید وعمرو دونوں متولی ہوجائیں گے اور مل کر کام کرینگے کہ نصب متولی کی ولایت واقف کو ہے۔تنویر الابصار میں ہے:

ولایۃ نصب القیم الی الواقف[1]۔

متولی مقرر کرنے کی ولایت واقف کو ہے(ت)

اور وہ سب واقف ہیں اور نصب متولی متجزی نہیں تو ہر ایك کو اختیار کامل ہے تو دونوں متولی ہوجائیں گے۔اشباہ والنظائر میں ہے:

ماثبت لجماعۃ فھو بینھم علی سبیل الاشتراك الافی مسائل الاولی ولایۃ الانکاح للصغیر والصغیرۃ ثابتۃ للاولیاء علی سبیل الکمال لکل (الی ان قال) والضابط ان الحق اذاکان ممالایتجزی فانہ یثبت لکل علی الکمال فالاستخدام فی المملوك ممالایتجزی[2]۔

جو چیز جماعت کےلئے ثابت ہو وہ ان سب میں مشترك طور پر ہوتی ہے سوائے چند مسائل کے جن میں سے پہلا مسئلہ نابالغ ونابالغہ کے نکاح کی ولایت کا ہے کہ وہ اولیاء میں سے ہر ایك کےلئے کامل طور پرثابت ہوتی ہے(صاحب اشباہ کے اس قول تك کہ فرمایا)ضابطہ یہ ہے بیشك جو حق ناقابل تجزی ہو وہ ہر ایك کے لئے بطور کمال ثابت ہوتا ہے اور مملوك سے خدمت لینے کا حق ناقابل تجزی ہے۔(ت)

(۵)اصل مسجد زمین ہے تو زمین کا واقف اصل مسجد کا واقف ہے اور جس نے اس میں عمارت بناکر وقف کی وہ بنا کا واقف ہے اور بنا اگرچہ وصف ہے اس کے لیے حکم جز ہے تو وہ بھی وقف مسجد میں شریك ہے۔

(۶)عمارت ومرمت مسجد کا اختیار واقفین کو ہے اور انہیں کے امام ومؤذن مقرر کئے ہوئے اولٰی ہیں مگر یہ کہ جن کو قوم مقرر کرے وہ شرعًا مرجح ہوں تو انہیں کو ترجیح ہوگی۔درمختار میں ہے:

البانی للمسجد اولٰی من القوم بنصب الامام و المؤذن فی المختار الااذاعین القوم اصلح ممن عینہ البانی[3]۔

قول مختار کے مطابق مسجد کا بانی امام ومؤذن کے تقرر میں بنسبت قوم کے اولٰی ہے سوائے اس کے کہ قوم کا مقرر کردہ امام ومؤذن بانی کے مقرر کردہ سے زیادہ صلاحیت رکھتا ہو۔ (ت)

(۷)واقف کےلئے وقف پر ہمیشہ قابض رہناضرور نہیں بارہا واقف دوسرے کو متولی کرتا ہے قبضہ متولی کارہتا ہے مگر حق واقف ساقط نہیں ہوتا۔واﷲ تعالٰی  اعلم۔

مسئلہ ۴۲۸:ازبڑودہ ناگروارہ گجرات مرسلہ یوسف علی خاں صاحب بہادر صدر انجمن اہلسنت وجماعت ۳ذی الحجہ ۱۳۳۹ھ

کیافر ماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اہلسنت وجماعت کویہ جائزہے کہ روافض کو جامع مسجد یا غیر مساجد کا متولی اور متصرف بنائیں اور ان کو اپنے ساتھ نماز میں شریك کریں اور جو مسلمان ایسا کریں ان کےلئے ازروئے شرع کیاحکم ہے؟بینوا توجروا۔

الجواب:

اہلسنت کی کسی مسجد خصوصًا مسجد جامع کا متولی رافضی کو کرنا شریعت مطہرہ و قرآن عظیم واحادیث صحیحہ و فقہ حنفی کی روسے اصلًا کسی طرح جائز نہیں حرام قطعی ہے۔

(۱)یہ روافض نہ اہل قبلہ ہیں نہ مسلمان بلکہ بالیقین کفار مرتدین ہیں،ردالرفضہ میں بکثرت کتب معتمدہ حنفی وعقائد اہلسنت سے ان کے کافر مرتد ہونے کے روشن ثبوت دئے ہیں۔بدائع امام ملك العلماء وفتاوٰے امام طاہر عبد الرشید وشرح الکنز امام فخر الدین زیلعی وفتاوٰی عالمگیریہ میں ہے:

وھذانصاھا قال المرغینانی یجوز الصلاۃ خلف صاحب ھوی وبدعۃ ولاتجوز خلف الرافضی و الجھمی والقدری والمشبھۃ ومن یقول بخلق القراٰن، وحاصلہ ان کان ھوی لایکفر بہ صاحبہ تجوز الصلٰوۃ خلفہ مع الکراھۃ والافلا ھکذافی التبیین والخلاصۃ، وھو الصحیح ھکذا فی البدائع[4]۔

 



[1]                                 درمختا شرح تنویر الابصار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۹

[2]                                 الاشباہ والنظائر کتاب النکاح الفن الثانی ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۲۴۴تا۲۴۶

[3]                                 درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۹۰

[4]                                 فتاوی ہندیۃ کتاب الصلوٰۃ باب الامامۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۱/ ۸۴

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن