30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جب تك واقف کے اقارب میں سے کوئی ایك بھی تولیت کی صلاحیت والا موجود رہے گا اجنبی لوگوں میں سے کسی کو متولی نہیں بنایا جائے گا کیونکہ واقف کا قریبی متولی وقف پر زیادہ شفقت کرنیوالا ہوگا کیونکہ اس کا مقصود یہ ہوگا کہ وقف کی نسبت اس کے خاندان کی طرف بنی رہے۔واﷲتعالٰی اعلم(ت)
مسئلہ۴۱۹: ازریاست رامپور شتر خانہ کہنہ احاطہ صابری مسئولہ واحد حسن صاحب ۶رجب ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین وشرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك مزار کا زید متولی تھا مزار کی جائداد اراضی بحق خدمت مزار موصوفہ معاف ہے،زید کا صاحب مزار سے کوئی سلسلہ نسبی وسلسلہ طریق کوئی تعلق نہیں تھا اب زید کاانتقال ہوگیا زید کا بیٹا عمرو جو بالکل خدمت مزار کا اہل نہیں ہے اور تمام جائداد کی آمدنی تغلب وتصرف کرلی ہے ایك حبہ صرف نہیں کیا تولیت کا خواستگار ہے۔بکر یہ کہتا ہے کہ میں ان خدمات کا اہل ہوں اور صاحب مزار سلسلہ طریقت اور میرے خاندان کا مزار ہے،عمرو نے اکثر سامان تلف کردیا،عمرواخبث ہے اور خدمات انجام دینے کا اہل ہی نہیں ہے اور نہ مسلك درویشی عمرو کا ہے عندالقاضی صورت مسئولہ میں ہر دو فریق میں سے کون لائق تولیت نہیں اور کس کے نام جائداد کا اندراج ہونا چاہئے؟عندالقاضی بکر کی اہلیت ثابت ہوچکی۔ بینوا توجروا۔
الجواب:
بیان مذکور اگر واقعی ہے تو عمروتو کسی طرح متولی ہو ہی نہیں سکتا اگرچہ خود واقف نے اسے متولی کیا ہوتا بلکہ اگرچہ وہ خودہی واقف ہوتا کہ وہ متغلب ہے۔درمختارمیں ہے:
ینزع وجوبا ولوالواقف فغیرہ بالاولٰی غیرمامون[1]۔
خائن متولی کو ولایت وقف سے وجوبًا نکال دیا جائیگا اگرچہ وہ خود واقف ہوتو غیر واقف بدرجہ اولٰی نکال دیا جائے گا۔(ت)
اور بکر اگرچہ اہل ہو خواستگار تولیت ہے اور خواستگار تولیت کو متولی نہیں کرتے۔ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تعالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَفرماتے ہیں:
انالن نستعمل علی عملنا من ارادہ [2] رواہ احمد و الشیخان وابوداؤد والنسائی عن ابی موسی الاشعری رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
ہم اپنے کام پر اس کے خواستگار کو ہر گز مقرر نہ کریں گے(اس کو امام احمد،شیخین وابوداؤد،اور نسائی نے حضرت ابو موسی الاشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت کیا۔ت)
درمختا رمیں ہے:
طالب التولیۃ لایولی الاالمشروط لہ النظر لانہ مولی فیریدبہ التنفیذ[3]۔
طالب تولیت کو متولی نہیں بنایا جائے گا سوائے اس کےکہ واقف نے اس کومتولی بنانے کی شرط کردی ہو کیونکہ وہ واقف کی شرط کی وجہ سے متولی بن چکاہے اور اب اس کے نفاذ کاطلبگار ہے(ت)
لہذا کوئی اور کہ ہر طرح اہل ہو تلاش کرکے متولی کیا جائے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۴۲۰: ازحیدرآباد دکن محلہ سلطان پور مسئولہ سید فصیح اللہ صاحب ۵رمضان ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ کیا متولی اور منتظم مساجد مساجد کے مداخل ومخارج میں حسب خواہش بلا امتیاز طریق جائز و ناجائز بذات خود بلا مشاورت،اہل اسلام دست تصرف دراز رکھ سکتے ہیں اور یقینی تغلب اور غبن فاحش کے باوجود مسلمانوں کی درخواست پر آمد و خرچ کے حساب کے عدم معاینہ کی بابت ان کا انکار واعراض جائز ہے؟بینواتوجروا
الجواب:
متولی اور منتظم پر اتباع شرع و شرائط ضروری ہے ان کے خلاف کسی فعل کا ان کو اختیار نہیں،اور اگر کریں تو مسلمانوں کو ان کی مزاحمت چاہئے،اور اگر خیانت یا ان کے باعث وقف پر ضرر ثابت ہوتوفورًا نکال دئے جائیں۔درمختار میں ہے:
ینزع وجوبا ولوالواقف فغیرہ بالاولی غیرمامون[4]۔
خائن متولی کو ولایت وقف سے وجوبًانکال دیاجائیگا اگرچہ خود واقف ہواور غیر واقف ہوتوبدرجہ اولٰی نکال دیا جائے گا۔ (ت)
غبن وتغلب یقینی درکنار اگرمظنون بھی ہوتو مسلمانوں کو ان سے حساب سمجھنے کا حق پہنچتا ہے اور انکا اعراض سخت قابل اعتراض۔درمختار میں ہے:
لاتلزم المحاسبۃ فی کل عام ویکتفی القاضی منہ بالاجمال لومعروفابالامانۃ ولو متھما یجبرہ علی التعیین شیئا فشیئا[5]۔
متولی اگر امانت میں معروف ہوتو ہر سال تفصیلی محاسبہ اس پر لازم نہیں بلکہ قاضی اس سے اجمالی حساب طلب کرنے پر اکتفاء کرے گا اور اگر وہ متہم بالخیانت ہے تو قاضی اس کو ایك ایك شیئ کا تفصیلی حساب بتانے پر مجبور کرے گا۔(ت)
صورت مذکورہ میں وہ مجبور کئے جائیں گے تفصیلی حساب دکھائیں۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۴۲۱ تا ۴۲۷:ازلشکر گاہ بنگلور ملك میسور مسئولہ چودھری محمد حسین بکر قصاب صاحبان مسجد اعظم ۱۰رمضان ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ چند آدمی مل کر ایك زمین خرید کر بالاتفاق بہ نیت وقف اس پر مسجد آباد کریں،امام مؤذن بھی مقرر کرلیں۔بارہ سال سب واقفین باہم متفق رہے،نماز جماعت وجمعہ وغیرہ میں شریك رہے،مسجد کے لئے اوقاف واسطے آمدنی کے بھی خرید کر مسجد کے نام واسطے محاصل کے دے چکے،ان لوگوں میں سے ایك گروہ نے بارہ سال بعد مسجد دور ہونے کے باعث ایك اور مسجد بھی فاصلہ بعید سے بنواڈالی
[1] درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۳
[2] صحیح البخاری کتاب الاجارات باب استیجار الرجل الصالح قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۰۱
[3] درمختار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف الخ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۹
[4] درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۳
[5] درمختار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف الخ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۹۲
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع