دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 16 | فتاوی رضویہ جلد ۱۶

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۶

ہے اور اقرار لکھ چکا ہے کہ کبھی معاملات وقف میں دست اندازی نہ کرے گا نیز بھتیجا مذکور متولی کو ضرر شدید پہنچانے میں سزا یاب ہوچکا ہے اور باہم متولی اور اس کے بھتیجے کے وقت وفات متولی ایك سخت دشمنی اور عداوت تھی،کیاشرعًا ایسا بھتیجا حقیت موقوفہ کا بمقابلہ جانشین نامزد شدہ کے متولی مقرر ہوگا یامتولی متوفی کانامزد شدہ شخص مرجح ہوگا؟

الجواب:

تولیت میں توریث جاری نہیں محض بربنائے وراثت ادعائے تولیت باطل ومردود ہے۔ردالمحتار میں ہے:

واعتقادھم ان خبز الاب لابنہ لایفیدلما فیہ من تغییر حکم الشرع[1]۔

اور ان کا یہ اعتقاد مفید نہیں کہ باپ کی روٹی بیٹے کی ہے کیونکہ اس میں حکم شرع کی تبدیلی ہے۔(ت)

متولی حال نے جسے اپنے بعد متولی کیا متولی ہوگیا اگر یہ وصیت مرض موت میں کی جب تو ظاہر ہے کہ وہ جانشین بعد موت متولی ہوگیااور بلاوجہ شرعی کسی کو اس سے منازعت اصلًا جائز نہیں۔ردالمحتار میں ہے:

صح اذافوض فی مرض موتہ وان لم یکن التفویض لہ عامًا لما فی الخانیۃ انہ بمنزلۃ الوصی وللوصی ان یوصی الٰی غیرہ [2]         اھ۔

متولی نے اپنی مرض موت میں کسی دوسرے کو ولایت سونپ دی تو صحیح ہے اگرچہ اس کےلئے تفویض عام نہ ہو اس دلیل کی بنیاد پر جو خانیہ میں ہے کہ متولی بمنزلہ وصی کے ہے اوروصی کو اختیار ہوتا ہے کہ وہ دوسرے کو وصیت کرے۔ اھ(ت)

اور اگر اپنی حالت صحت میں کی اور قدیم سےاس وقف کے متولیوں میں اس کا دستور چلا آیا ہے کہ متولی اپنی حیات وصحت میں اپنے جانشین کو اپنے بعدمتولی بنالیتے ہیں اور وہ متولی ہوتا ہے جب بھی ظاہر ہے کہ یہی جانشین بشرط اہلیت شرعیہ متولی ہوگیا۔دوسرا س کی منازعت نہیں کرسکتا۔ردالمحتار میں ہے:

فی الذخیرۃ سئل شیخ الاسلام عن وقف مشہور اشتبھت مصارفہ،قال ینظر الی المعہود من حالہ فیما سبق من الزمان من ان قوامہ کیف یعملون فیہ فیبنی علی ذٰلک[3]۔

ذخیرہ میں ہے شیخ الاسلام سے اس وقف مشہو رکے بارے میں پوچھا گیا جس کے مصارف مشتبہ ہوگئےہیں توشیخ الاسلام نے فرمایا کہ قدیم زمانہ سے اس وقف کے بارے میں جو معمول چلا آرہا ہے اس پر نظر کی جائیگی کہ متولیان سابقہ اس میں کیا عملدر آمد کرتے تھے پس اسی پر بناء کی جائے گی۔ (ت)

اور اگر یہ معمول قدیم نہیں تو متولی اپنی صحت میں خود وقف سے جدا ہونا اور دوسرے کو اپنی جگہ قائم کرنا ممنوع ہوتا کہ اس کے لئے اس کی اجازت جانب واقف سے بوجہ اشتباہ شرائط ثابت نہیں۔درمختار میں ہے:

اراد المتولی اقامۃ غیرہ مقامہ فی حیاتہ وصحتہ ان کانت التفویض لہ عاما صح والالا[4]۔

متولی نے ارادہ کیا کہ کسی اور شخص کو اپنی حیات وصحت میں اپنا قائم مقام کرے اگر اس کے لئے تفویض عام ہے تو صحیح ہے ورنہ نہیں(ت)

مگر یہاں ایسا نہیں بلکہ اپنے بعد اسکے لئے وصیت تولیت کی ہے تو یہ مطلقًا ہر صورت میں جائز وصحیح ہونا چاہئے جب تك مخالف شرع نہ ہو کہ بوجہ عدم علم شرائط مخالفت شرائط واقف سے محفوظ ہے وہی عبارت قاضیخان للوصی ان یوصی الٰی غیرہ[5] (وصی کواختیار ہے کہ کسی اور شخص کو وصیت کرے۔ت)اس کے لئے کافی ہے،

وترك السابقین لایدل علی شرط العدم بل علی عدم الشرط و المتبع العمل دون الترك الذی لیس من افعال المکلفین ولامقدورالھم[6]،کمافی غمز العیون وشتان ما الترك والکف ولم یثبت۔

اور سابقین کا کسی چیز کو ترك کرنا اس بات پر دلالت نہیں کرتا کہ اس کا نہ ہونا شرط ہے بلکہ اس پر دلالت کرتا ہے  کہ اس کا ہوناشرط نہیں اور اتباع عمل کی کی جاتی ہے نہ کہ ترك کی جو افعال مکلفین میں سے نہیں۔اور نہ ہی ان کی قدرت میں ہے جیسا کہ غمز العیون میں ہے کف بمعنی روکنا ترك سے مختلف ہے اور کف ثابت نہیں ہوا (بلکہ ترك ثابت ہواہے۔(ت)

بالجملہ پہلی دو صورتوں میں جانشین مذکور کی صحت تولیت اصلًا محل شبہ نہیں جبکہ شرعًا اس کا اہل ہو،اور تیسری صورت میں بھی ظاہر یہی ہے کہ اس کی تولیت صحیح ہے۔واﷲ تعالٰی  اعلم۔

مسئلہ ۴۱۸:                            ازشہر محلہ چڑھائی نیب مسئولہ منشی محمدظہور صاحب                   ۱۶صفر ۱۳۳۹ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین بیچ اس مسئلہ کے کہ ایك بزرگ نے اپنی حیات میں جائداد موقوفہ کا زید کو بذریعہ تملیك نامہ کے متولی کیا اور یہ لکھا کہ تاحیات یہ متولی رہے اور بعد اس کے جو متولی یا سجادہ نشین ہوئے اس کو بھی اسی تحریر کا کاربند رہناچاہئے اور درصورت خلاف ورزی کے میرے مریدان سر برآوردہ جس کو مناسب سمجھیں مقرر کریں،ان بزرگ نے پردہ فرمایا اور بعد ایك زمانہ کے زید کابھی کا انتقال ہوگیا اب زید کا لڑکا یہ چاہتا ہے کہ میں اپنے باپ کا قائم مقام بنوں اور ان بزرگ کے وارثان شرعی یہ چاہتے ہیں کہ ہم میں سے کوئی شخص ہونا چاہئے،تو ایسی صورت میں ازروئے شرع شریف کے وارثان متولی کا حق ہے یا وارثان بزرگ کا،اور فقیر کی گدی پر وراثت کسی کی جائزہے یانہیں؟بینواتوجروا۔

الجواب:

بیان سائل سے معلوم ہوا کہ وہ جائداد پہلے زبانی وقف ہوچکی تھی اس کی توثیق کےلئے یہ وقف نامہ لکھا گیا ہے جسے غلطی یا ناواقفی سے تملیك نامہ لکھ دیا اس میں متولی مذکورکے بعد دربارہ تولیت کسی شرط کی تصریح نہیں ہے،ایسی صورت میں وارثان متولی مذکور کو تولیت پر کوئی دعوٰی نہیں پہنچتا،تولیت ترکہ نہیں کہ وارثوں میں تقسیم ہو بلکہ حتی الامکان وارثان وقف میں سے جو لائق ہو متولی کیا جائے گا اگر ان میں کوئی نہ ہو تو اہل الرائے اہل علم مسلمانوں کے مشورہ سے کوئی دیندار ہوشیار کارگزار متولی کیاجائے گا۔در مختارمیں ہے:

(ومادام احد یصلح للتولیۃ من اقارب الواقف لا یجعل المتولی من الاجانب) لانہ اشفق ومن قصدہ نسبۃ الوقف الیہمٍ[7]۔واﷲ تعالٰی  اعلم۔

 



[1]                                 ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۸۵

[2]                                 ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۴۱۱

[3]                                  ردالمحتار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۴۰۴

[4]                                  درمختار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۹

[5]                                  فتاوٰی قاضی خان کتاب الوقف فصل فی اجارۃ الاوقاف نولکشور لکھنؤ ۴/ ۷۳۸

[6]                                  غمز العیون البصائر مع الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ الثانیۃ ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۴۷

[7]                                  درمختار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الوقف فی اجارتہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۹

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن