دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 16 | فتاوی رضویہ جلد ۱۶

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۶

فتاوٰی ہندیہ جلد سوم ص۱۱۵:

لوجعل ذمی دارہ مسجداللمسلمین ثم مات یصیر میراثالورثتہ وھذاقول الکل کذافی جواھر الاخلاطی ولو جعل ذمی دارہ بیعۃ اوکنیسۃ اوبیت نار فی صحتہ ثم مات یصیر میراثا

اگر ذمی نے اپنے گھر کو مسلمانوں کےلئے مسجد بنایا پھر فوت ہوگیا تو وہ اس کے وارثوں کے لئے میراث ہوگی اور یہ سب کا قول ہے یونہی جواہر اخلاطی میں ہے، اور اگر ذمی نے اپنا گھر بیعہ یا کنیسہ، یا آتشکدہ اپنی تندرستی میں بنادیا پھر فوت ہوا تو میراث قرار پائے گا۔

ھکذاذکر الخصاف فی وقفہ وھکذاذکر محمد من الزیادات کذافی المحیط[1]  (ملخصا)۔

یوں خصاف نے اپنے وقف اور امام محمد نے زیادات میں بیان کیا، محیط میں ایسے ہی ہے(ملتقطا)(ت)

فتح القدیر جلد پنجم ص۳۸ و ردالمحتار جلد سوم ص۵۵۷ :

لووقف الذمی علی بیعۃ مثلا فاذا خربت یکون للفقراء، کان للفقراء ابتداءً ولولم یجعل اٰخرہ للفقراء کان میراثا عنہ نص علیہ الخصاف فی وقفہ ولم یحك خلافا[2]۔

اگر ذمی نے بیعہ (یہودی عبادت گاہ) کے لئے وقف کیا مثلًا خرابہ ہوجانے پر فقراء کےلئے کہا تو وہ ابتداء سے فقراء کے لئے ہوگا، اور اگر آخر میں (خرابہ کے وقت) فقراء کےلئے نہ کہتا تو پھر ورثاء کے لئے میراث بن جاتا، اس کوخصاف نے اپنے اوقاف میں بیان کیا اور اس میں خلاف قول ذکر نہ کیا۔(ت)

عالمگیری جلد سوم ص۱۱۴ و اسعاف ص۱۱۹:

لوقال تجری غلتہا علٰی بیعۃکذافان خربت ھذہ البیعۃ کانت الغلۃ للفقراء والمساکین فانہ تجری غلتہا علی الفقراء والمساکین ولاینفق علی البیعۃ شیئ کذافی المحیط[3]۔

اگرذمی نے کہا کہ اس زمین کی آمدن فلاں بیعہ پر وقف ہے اور جب یہ بیعہ خرابہ بن جائے تو زمین کی آمدن فقراء ومساکین کےلئے جاری رہے گی، تویہ آمدن شروع سے ہی فقراء ومساکین پر صرف ہوگی اور بیعہ پر کچھ بھی صرف نہ ہوگا، محیط میں یونہی ہے(ت)

درمختار صفحہ۵۵۷ : ارتد المسلم بطل وقفہ[4] (وقف کنندہ مسلمان مرتد ہوجائے تو ا سکا وقف باطل ہوجائیگا۔ت) رد المحتار صفحہ مذکورہ :

ویصیرمیراثا سواء قتل علی ردتہ اومات اوعادالی الاسلام الا ان اعادالوقف بعد عودہ الی الاسلام[5]۔ واﷲ تعالٰی  اعلم۔

اور وہ وقف میراث قرار پائے گا خواہ ارتداد پر قتل ہوجائے یا طبعی موت مرجائے، یا دوبارہ مسلمان ہوجائے، مگر دوبارہ اسلام کی صورت میں اس وقف کو دوبارہ وقف کرے تو وقف رہے گا، واﷲتعالٰی  اعلم(ت)

مسئلہ۳۶: ازبنارس کچی باغ مرسلہ مولوی محمد ابراہیم صاحب خلف منشی لعل محمد تاجرپارچہ بنارس۴جمادی الاخری ۱۳۲۱ھ

ماقول العلماء ورثۃ الانبیاء جزاکم اﷲ تعالٰی  یوم الجزاء اس مسئلہ میں کہ یہاں رواج ہے کہ ماہ ربیع الاول میں لوگوں سے محض بغرض ایصال ثواب روح پرفتوح حضرت نبی مکرم نور مجسم صَلَّی اللہُ تعالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَچندہ لیا جاتا ہے لوگ حسب استطاعت دیتے ہیں اس کا کھانا وغیرہ پکا کر مساکین وفقراء کو کھلایا جاتا ہے، اب اس چندہ سے کچھ روپیہ کھانے وغیرہ کے پخت سے فاضل بچ گیا تو افسران ومہتممین کی صلاح ہوتی ہے کہ اس روپے فاضل سے دیگ آجانا چاہئے کیو نکہ ہر سال ۱۲ تاریخ ربیع الاول کو ضرورت پڑتی ہے اور بڑی تردد سے ملتی ہے کبھی مستعار کبھی کرائے پر، اور اس روپے سے آجائے گی تو ہمیشہ کے واسطے آرام ہوگا، معہذا یہ رائے بھی ہے کہ جس کو ضرورت دیگ کی پڑے گی اس کو کرائے پر دی جائے گی اور وہ کرایہ کی آمدنی مدرسہ میں طالب علم کی حاجتوں میں صرف کی جائے لیکن افسران مختلف ہیں جواز وعدمِ جواز میں،لہذا علماء سے مستفسر ہیں کہ اس طرح جائز ہے یانہیں؟بینواتوجروا۔

الجواب:

ایسے چندوں سے جو روپیہ فاضل بچے وہ چندہ دہندگان کا ہے انہیں کی طرف رجوع لازم ہے وہ دیگ وغیرہ جس امر کی اجازت دیں وہی کیا جائے، ان میں جو نہ رہے اس کے عاقل بالغ وارثوں کی طرف رجوع کی جائے اگر ان میں کوئی مجنون یا نابالغ ہے تو باقیوں کی اجازت صرف اپنے حصص کے قدر میں معتبر ہوگی صبی ومجنون کا حصہ خواہی نخواہی واپس دینا ہوگا، او راگر وارث بھی نہ معلوم ہوں تو جس کام کے لئے چندہ دہندوں نے دیا تھا اسی میں صرف کریں، وہ بھی نہ بن پڑے تو فقراء پر تصدق کردیں، غرض بے اجازت مالکان دیگ لینے کی اجازت نہیں، درمختار میں ہے:

ان لم یکن بیت المال معمورا اومنتظما فعلی المسلمین تکفینہ فان لم یقدرواسألواالناس لہ ثوبا فان فضل شیئ ردللمتصدق ان علم والاکفن بہ مثلہ والا تصدق بہ مجتبٰی[6]۔

اگر بیت المال میں مال نہ ہو یا کوئی منتظم نہ ہوتو مسلمانوں پر لازم ہے کہ اس کو کفن پہنائیں اور اگر کوئی قادر نہ ہو تو لوگوں سے چندہ لیا جائے اور کفن کے چندہ سے کچھ بچ جائے تو یہ چندہ لینے والا معلوم ہوتو اسے لوٹا دیا جائے ورنہ اس سے ایسے ہی کسی فقیر کو کفن پہنادیا جائے، یہ بھی نہ ہوسکے تو کسی فقیر کو صدقہ کردیاجائے،مجتبٰی۔(ت)

ردالمحتار میں ہے:

(قولہ والاکفن بہ مثلہ) ھذالم یذکرہ فی المجتبی بل زادہ علیہ فی البحر عن التجنیس و الواقعات قلت وفی مختارات النوازل لصاحب الھدایۃ فقیر مات فجمع من الناس الدراھم وکفنوہ وفضل شیئ ان عرف صاحبہ یرد علیہ والایصرف الی کفن فقیر اٰخر اویتصدق بہ[7]۔                                                 ماتن کا قول کہ اسی جیسے فقیرکو کفن پہنادیاجائے، یہ عبارت مجتبٰی میں مذکور نہیں بلکہ یہ زائد بحرمیں تجنیس اور واقعات ے حوالے سے مذکور ہے میں کہتا ہوں اور صاحب ہدایہ کی کتاب مختارات النوازل میں ہے کہ فقیر فوت ہوا تو لوگوں نے چندہ جمع کرکے اس کو کفن دیا اور چندہ بچ گیا اگر اس زائد چندہ والا شخص معلوم ہوتو اسے واپس کیا جائے ورنہ اس کو کسی دوسرے فقیر کے کفن میں خرچ کیاجائے یا پھر صدقہ کردیا جائے(ت)

 



[1]     فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۲ /۳۵۳

[2]     ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ /۳۶۱

[3]     فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۲ /۳۵۳

[4]     درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۳۷۷

[5]     ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ /۳۶۰

[6]     درمختار باب صلوٰۃ الجنازۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۲۱

    [7] ردالمحتار باب صلوٰۃ الجنازۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۵۸۱

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن