دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 16 | فتاوی رضویہ جلد ۱۶

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۶

موافقین کے مشورہ سے ایك بڑی درگاہ کے صاحب سجادہ کو طلب کیا جو ان صاحب سجادہ کے پیر کی درگاہ کے صاحب سجادہ ہیں اور ان سے کہا کہ منجملہ ان ہر دو بھائیوں کے بڑے بھائی کے پگڑی باندھ دیجئے انہوں نے کہا کہ ہم موجودہ صاحب سجادہ سے اجازت لے لیں جب ان سے دریافت کیا تب انہوں نے منہ پھیرلیا کوئی جواب نہ دیا کچھ دیر کے بعد جب پہلو بدلا پھر استفسار کیا اب بھی وہ جواب خود نہ سمجھے،مگر موافقین اشخاص نے ہر دو بھائیوں کے جو موجود تھے بالاتفاق کہا کہ اجازت دے دی انہوں نے پگڑی باندھ دی،ایسی نازك حالت تیمارداری میں قبل واپس آنے ان کے حقیقی بھانجے نامزد شدہ سجادہ نشینی کے ان سجادہ نشین نے وفات پائی،معاملہ رضاعت کے عینی شہادت موجود نہیں ہے،جن لوگوں کے وقت میں عقد ہوا وہ مقدس و مکرم وعابد و زاہد اشخاص تھے بالخصوص سجادہ نشیں مذکور کے پدر حافظ قرآن صاحب سجادہ متوکل درویش، صاحب رشد وہدایت ومقدس تھے جن کی دختر وبھتیجے کا نکاح باہم انہیں کے زیر اہتمام ہواتھا دیگر اکابر خاندان اہل اسلام معزز ومعتبرو نمازی شریك نکاح تھے،یہ الزام صرف نامزد شدگی کی نااہلی ثابت کرنے اور خود سجادگی حاصل کرنے کے ضرورت سے لگایا جاتا تھا اور چونکہ دونوں بھائیوں نے ایك اپنی ذاتی دکان درگاہ کے واسطے وقف کی ہے اس پر دوسرے سجادہ نشیں کا قبضہ نہ ہونے کے خیال سے اپنے واسطے سجادگی کی خواہش تھی حالانکہ واقف وقف کا خود متولی رہ سکتا ہے اور حیات میں دوسرا متولی مقرر کرنے کااختیار ہے مگر غالبًا وہ مسئلہ کی ناواقفیت کی وجہ سے وہ پریشان ہوئے کہ شائد سجادگی کے ساتھ تولیت میری وقف کردہ جائداد کی بھی انہیں صاحب سجادہ کے متعلق ہو جائے ایسا اختیار کیا،ان کو اب تك کسی سے اجازت وخلافت بھی نہیں ہے اور صاحب درگاہ کی شاخ کے سلسلہ کے مشائخ سے غالبًا اب بھی اجازت و خلافت حاصل کرنے پر تیار نہیں ہیں:پس سوال یہ ہے کہ ایسی سجادگی جو اس طور سے حاصل کی گئی ہو جائز ہے یانہیں،اور وہ سلسلہ صاحب درگاہ کے علاوہ کسی دوسرے خاندان سے بیعت واجازت وغیرہ حاصل کرلیں تو جائز ہوگی یانہیں،مگر اس صورت میں صاحب درگاہ کا سلسلہ صاحب سجادہ سے جاری نہ ہونے کی وجہ سے ضرورت سجادگی فوت ہوجائے گی صرف متولیانہ حیثیت ایسے شخص کی باقی رہے گی،۔مگر تولیت درگاہ ایسے متولی کی جس نے ترکیب مذکورہ بالا سے سجادگی وتولیت حاصل کی ہو کہاں تك جائز ہوگی،اور ایسی حالت میں خاندان صاحب درگاہ وصاحب طریقت سلسلہ صاحب درگاہ کوبقائے سلسلہ صاحب درگاہ کے واسطے کیا کرناچاہئے،آیا منجملہ اولاد صاحب درگاہ جس سے سلسلہ جاری ہو اسے خلافت دلواکر یا دیگر کوئی صاحب سجادہ ومتولی مقرر کرسکتے ہیں یانہیں؟اور اول نامزدشدہ کو ترجیح ہوسکتی ہے یانہیں؟

(۲)ایك احاطہ میں ایك بزرگ کا مزار اور ایك خانقاہ اور ایك مسجد واقع ہے خانقاہ میں مدرسہ اسلامیہ ایك وقف سے جاری ہے جس کے طلبہ بھی اس مسجد میں مثل دیگر اہل محلہ پنجوقتہ نماز پڑھتے ہیں نماز جمعہ یہاں عرصہ سے نہیں ہوتی ہے،دوسری جامع مسجد میں ہوتی ہے،ا س درگاہ کے صاحب سجادہ ہیں وہ مع دیگر اشخاص کے چند لوگ اس وقف کے متولی ہیں جس سے ضروریات مسجد و مدرسہ مذکورہ کا صرفہ ہوتا ہے،منجملہ ان کے زید بھی متولی ہے اور نیز ایك دوسرے وقف کا بھی زید مذکور تنہا متولی ہے اس سے بھی مسجد مذکور کے آب وغیرہ کا انتظام ہوتا ہے اور زید ہی کے ذمہ بوجہ حاضر باشی زائد اس مسجد کے اوقات نماز میں موسمی وضروری تغیرات مقامی کی وجہ سے تعین کرتا ہے اور اس مسجد کاموذن و امام معین ہیں ایام تشریق میں زیادہ تر لوگ بوجہ ادائے نماز جماعت مستحبہ التزامًا پنجوقتہ شریك ہونے کے عادی ہیں،انہیں ایام میں بعض اشخاص نے بلا انتظام امام معین و مقتدین قدیم بلا اس کے کہ مؤذن ومکبر معین تکبیر اقامت کہے معینہ مقام پر جماعت کرلی زید کو یہاں کا مقامی تجربہ ہے کہ عوام تہدید پسند ہیں اس خیال پر اس نے الفاظ ذیل تہدید کے لئے کہے اور مکرر جماعت مع ان قدیم مقتدیوں کے جو باقی تھے اسی مقام پر پھر ادا کی اس خیال سے کہ سابق پڑھنے والے غیر معین تھے اور کہا کہ جس کسی کو اس جماعت میں شریك ہونا نہ منظور ہو وہ ہماری مسجد میں نہ آئے،کیا استحقاق ان لوگوں کو ہے جنہوں نے بلاانتظار امام معین اور جماعت و مقتدین قدیم نماز پڑھ لی،پس لفظ"ہماری"کا جو مسجد کی طرف منسوب کیا حالانکہ وہ خانہ خدا ہے اور لفظ"نہ آنے"کا جو استعمال کیا حالانکہ مساجد میں اذن عام ہے اس سے زید کیا کرے صرف ندامت کافی ہے یاکوئی کفارہ اس پر لازم آیا اگر کفارہ ہے تو کیا؟بلحاظ تجربہ زید یہ ہوا کہ بعد تہدید مذکور پھر جماعت اسی طور سے جیسی ہمیشہ سے چلی آتی تھی مسجد میں قائم ہے،اور جو لوگ بعدادائے فرض عشاء جو سابقہ جماعت سے پڑھ چکے تھے مکرر جماعت میں زید کی تقریر کے بعد شریك ہوگئے ان کی یہ مکرر نماز کیا ہوئی اس دوسری جماعت کی نماز ز ید نے پڑھائی تھی اس میں ایك اور متولی وقف مذکور شریك تھے جن کو پہلے جماعت نہیں ملی تھی،مگر دوران نماز میں انہیں یہ خیال رہا کہ زید نے مسجد کی اپنی طرف نسبت کی اور اذن عام کے خلاف تقریر کی اگر میں اس کے پیچھے نماز نہ پڑھتا تو اچھا تھا پس اس وقت گویا اس نے باستکراہ اقتدا کی اس لئے اس کی نماز ہوئی یانہیں ہوئی؟بینواتوجروا۔

الجواب:

(۱)سجادہ نشینی خلافت خاصہ ہے جس میں اجرائے سلسلہ سجادہ و تولیت اوقاف درگاہ اور جملہ نظم ونسق ورتق وفتق وجمع و فرق ونصب وعزل عملہ میں صاحب سجادہ کی نیابت مطلقہ سب داخل،اور کوئی خاص بے عام متحقق نہیں ہوتااور شرعًا معروف کا لمشروط ہے،معروف یہی ہے کہ سجادہ نشیں وہی ہوسکتا ہے جو اس سلسلہ میں ماذون ومجاز ہوکہ اس کا بڑا مقصد اس سلسلہ کا احیاء ہے نہ کہ مجرد تولیت،ولہذا جو سلسلہ صاحب درگاہ میں خلافت صحیحہ نہ رکھتا ہو کہیں سجادہ نشیں نہیں کیا جاتا اگرچہ دوسرے کسی سلسلہ کا مجاز ہونہ کہ وہ جو رأسًا مجاز ہی نہیں یوں تو سجادہ نشینی نری ممبری رہ جائے گی تواخیافی بھانجہ غیر مجاز فی السلسلۃ بلکہ فی سلسلۃ سجادہ نشین نہیں ہوسکتااور بعد کو اجازت لینی اس سجادہ نشینی کی تصحیح نہیں کرسکتی"فان الشرط یتقدم و العام لایتأخر"(کیونکہ شرط مقدم ہوتی ہے اور عام متاخر نہیں ہوتا۔ت)حضرت اسد العارفین سید نا شاہ حمزہ عینی واسطی قدس سرہ فص الکلمات شریف میں فرماتے ہیں:

شیخے ازیں عالم نقل کردو کسے راخلیفہ نگر فت قوم و قبیلہ وارثے یا مریدے کہ بخلافت وے تجویز نمایند ایں خلافت نزدیك مشائخ روانیست وایں نوع خلافت را خلافت افترائی گویند[1]۔

ایك شیخ نے اس جہاں سے انتقال فرمایا اور کسی کو خلیفہ نہ بنایا،قوم اور قبیلہ نے اس کے کسی وارث یا مرید کو خلیفہ تجویز کیا تو یہ خلافت مشائخ کے نزدیك جائز نہیں،خلافت کی اس قسم کو خلافت افترائی کہتے ہیں۔(ت)

رہی تو لیت وہ بھی شرعًاحقیقی بھانجے کوحاصل کہ سجادہ نشین متولی نے اپنے مرض الموت میں اس کے لئے وصیت کی،اور دربارہ تو بلیت وصیت متولی ماخوذ ومعتمد ہے۔ردالمحتار میں ہے:

انما صح اذافوض فی مرض موتہ وان لم یکن لہ التفویض عاما لما فی الخانیہ من انہ بمنزلۃ الوصی، وللوصی ان یوصی الی غیرہ[2]۔

تفویض تولیت صرف اس صورت میں صحیح ہوگی جب متولی اپنی مرض الموت میں تفویض کرے اگرچہ اس کو تفویض عام حاصل نہ ہو اس دلیل کی بنیاد پر جو خانیہ میں ہے کہ وہ بمنزلہ وصی کے ہے اور وصی کو اختیار ہوتا ہے کہ دوسرے کو وصیت کرے۔

فتاوٰی تتمہ وغیرہا پھر اشباہ والنظائر پھر درمختار میں ہے:

اسناد الناظر النظر لغیرہ بلا شرط فی مرض الموت صحیح[3]۔

نگران وقف کا مرض الموت میں بلاشرط نگرانی کسی دوسرے کے سپرد کرنا صحیح ہے۔(ت)

 



[1]         فص الکلمات شاہ حمزہ عینی واسطی

[2]         ردالمحتار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۴۱۱

[3]         درمختار کتاب الاقرار فصل فی مسائل شتی مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۴۱

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن