دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 16 | فتاوی رضویہ جلد ۱۶

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۶

زید نے کسی جائداد کو اپنی ملکیت سے علیحدہ کرکے وقف کیا اور تاحیات اپنے کو متولی کیا اور بعد اپنے شخص غیر کو تولیت تحریر کردی او راپنے پسر و نبیرہ کو حق تولیت میں شریك نہیں کیا لیکن وقف کنندہ نے یہ وقفی کارروائی حالت بیماری و ناتوانی وبدحواسی میں کی ہے بعد صحت اب واقف کہتا ہے کہ میں مضامین وقف نامہ کو نہیں سمجھا اور نہ مجھے سمجھنے کی اس وقت قابلیت تھی وقف کرنا میں نہیں چاہتا ہوں،کیازید کی وقفی کارروائی ازروئے شرع شریف جائز ہے یانہیں؟

(۲)زید نے بحالت غم وغصہ اپنے پسر کو تولیت سے محروم کرکے غیر شخص کو متولی مقرر کیا اب جب کہ غم وغصہ اس کا فرو ہو ا اور اپنے پسر سے رضامندہوا تو شخص غیر جس کو وہ غصہ میں متولی بناچکا تھا علیحدہ کرکے اپنے پسر کو کیا متولی مقرر کرسکتا ہے؟

(۳)اگر واقف بدحواسی کی حدکو نہیں پہنچا لیکن سفیہ ضرور ہے تو ایسی کارروائی وقف وتولیت کی جو سفاہت سے ہوئی ہے جائز رہ سکتی ہے یانہیں؟

(۴)اگر درحقیقت زید کے حواس وقت وقف نامہ درست تھے اور قبل نفاذ وقف نامہ اس کی نیت خراب ہوئی اور وہ وقف نامہ کو منسوخ کرنا چاہتا ہے تو کیا وقف نامہ منسوخ ہوجائے گا یانہیں؟بینواتوجروا۔

الجواب:

اگر یہ وقف صحیح شرعی ہوتوسوالات سائل کا جواب یہ ہے کہ ناتوانی کچھ مانع صحت وقف نہیں،نہ بیماری کا کچھ اثر رہا جب کہ سائل لکھتا ہے کہ اس کے بعد تندرست ہوگیا،رہا بدحواسی کا دعوٰی وہ غیر بینہ عادلہ شاہدان ثقہ شرعی کی شہادت کے مقبول نہیں ہوسکتا ورنہ ہر شخص وقف،بیع،اجارہ،نکاح،طلاق تمام تصرفات کرکے یونہی پھر جائے اور کہہ دے کہ میں اس وقت بدحواس تھا رجسٹری بھی بدحواسی میں ہوئی،ہاں اگر معلوم و معروف ہو کہ اس مرض میں اس کی عقل زائل ہوجاتی ہے،بدحواس و مجنون ہوجاتا ہے،پہلے بھی ایسا واقع ہوچکا ہے اور اب کہے کہ اس باربھی میری یہی حالت ہوگئی تھی تو اس کا قول حلف کے ساتھ قبول کرلیں گے۔ردالمحتار میں فتاوٰی خیریہ سے ہے:

سئل فیمن طلق وھو مغتاظ مدھوش فاجاب ان الدھش من اقسام الجنون فلایقع،واذا کان

سوال کیا گیا کہ ایك شخص نے اپنی بیوی کو اس حال میں طلاق دی جب غضبناك اور بدحواس تھا تو جواب دیا کہ بدحواسی جنون کی قسموں میں سے ہے

یعتادہ بان عرف منہ الدھش مرۃ یصدق بلا برھان [1]  (ملخصًا)

لہذا طلاق واقع نہ ہوگی اور جب بدحواسی اس کی عادت ہے بایں طور کہ پہلے بھی اس سے یہ بدحواسی دیکھنے میں آچکی ہے اور معروف ہے تو بغیر دلیل حلف کے ساتھ اس کے قول کی تصدیق کردی جائیگی(ملخصًا)۔(ت)

اسی میں ہے:

وکذایقال فیمن اختل عقلہ لمرض او لمصیبۃ فاجأتہ[2]۔

اور یہی کہا جائے گا اس شخص کے بارے میں جس کی عقل میں کسی بیماری یا اچانك صدمہ کی وجہ سے خلل واقع ہوگیا ہو(ت)

(۲)یہ دوسرا سوال دوسرا پہلو ہے اور بدحواسی کو دفع کرتا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ غصہ میں دوسرے کو متولی کیا تھا یا رضامندی میں بہر حال اسے اس کے معزول کرنے اور پنے پسر خواہ جس کو چاہے متولی کرنے کا اختیار ہے۔بحرالرائق میں ہے:

التولیۃ من الواقف خارجۃ عن حکم سائر الشرائط لان لہ فیہا التغییر والتبدیل کلما بدالہ من غیر شرط فی عقدۃ الوقف[3]۔

واقف کی تولیت تمام شرائط وقف کے حکم سے خارج ہیں کیونکہ واقف کو اس میں جب مناسب سمجھے تبدیلی و ترمیم کا اختیار ہے اگرچہ عقد وقف میں اس کی شرط نہ کی ہو۔(ت)

(۳)یہ تیسرا پہلو ہے سائل نے سفیہ کہا اور یہ نہ بتایا کہ اس سے کیا مراد لی،لوگ احمق غبی کندذہن کو سفیہ کہتے ہیں صرف اس قدر مانع صحت تصرف نہیں۔

(۴)وقف جب کہ صحیح واقع ہو واقف کو اس سے رجوع کا کوئی اختیار نہیں رہا کہ اب وہ اس کی ملك سے نکل گیا،

ویتم الوقف بمجرد القول عند الامام ابی یوسف سلمہ اﷲ تعالٰی  وعلیہ الفتوی وبہ یفتی۔

امام ابویوسف سلمہ اﷲ تعالٰی  کے نزدیك محض زبانی کہہ دینے سے وقف تام ہوجاتا ہے اسی پر فتوٰی ہے اور اسی پر فتوٰی دیا جائے گا(ت)

یہ سب اس تقدیر پر ہے کہ وہ وقف صحیح شرعی ہو جیسا کہ عبارت سوال کا مفاد ہے ورنہ بحالت بطلان ان سوالات کا کوئی محل ہی نہ ہوگا کما لایخفی(جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ت)واﷲ تعالٰی  اعلم۔

مسئلہ۴۰۹ تا۴۱۰:                از قصبہ لاہر پور مکان شاہ ولایت احمد صاحب مرسلہ احمد حسین صاحب عثمانی                 ۳۰ذی الحجہ۱۳۳۶ھ

(۱)ایك درگاہ صدہا سال سے ایك بزرگ کی ہے جن کی اولاد کے چند شاخوں میں پیری مریدی بسلسلہ صحیح وباجازت وخلافت جاری ہے مگر سجادگی اس درگاہ کی ایك بیٹے کی اولاد میں چلی آتی ہے،گو سلسلہ خلافت عن اب و جد صاحب درگاہ سے اس شاخ میں باقی نہیں رہا تھا مگر دوسرے خلفائے سلسلہ سے بھی صاحب سجادہ درگاہ نے اجازت وخلافت حاصل کرلی تھی اور اب دو پشتوں سے ہر باپ سے بیٹے کو اجازت وغیرہ حاصل ہوا کی،اس خلفائے سلسلہ سے بھی صاحب درگاہ کا سلسلہ جاری رہا،صاحب درگاہ کا خاندان طریقت قادریہ وچشتیہ ہے،اس سلسلہ کے شائق اورصاحب درگاہ کے موروثی معتقدین کو اس کا پورا موقع رہا ہے کہ اس سلسلہ میں داخل ہوسکیں،آخر صاحب سجادہ لاولد تھے انہوں نے اپنے حقیقی بھانجے کو اپنے بعد کے واسطے سجادگی تجویز کی جن کو اس خاندان میں بیعت وغیرہ حاصل ہے،دوران علالت میں ان کو دوسرے اعزائے خاندانی سے مشورہ کے واسطے ایك دوسرے دور دراز مقام پر بھیجا اور تیمارداری ان کی متعلق ان کے بعض اعزا کے تھی جو اخیافی بھانجے ہوتے ہیں وہ دو بھائی حقیقی ایك بہن ہے جن کے قبضہ میں وہ بحالت مرض تھے جب علالت زیادہ ہوئی تو اہالیان قصبہ کو جمع کرکے درگاہ کے اندر پھر اپنے حقیقی بھانجے مذکورہ بالاکی نسبت اظہار وصیت کیا ایسے مجمع میں ان اخیافی بھانجوں میں سےایك نے بطور مغالطہ دہی کہا کہ والدین اس کے جس کے واسطے سجادگی تجویز کی جاتی ہے دودھ شریك بھائی بہن تھے اس لئے اس کا نکاح ناجائز ہوا وہ حرامی ہوئے ان کے پیچھے نماز مکروہ ہے صاحب سجادہ نے اس واقعہ رضاعت سے انکار کیا اور کہا کہ جھوٹ ہے بلکہ ضعف بیماری میں ان کو سخت صدمہ اس دروغ گوئی پر ہوا جس سے وہ کوئی مزید تقریر نہ کرسکے اور مجمع برخاست ہوگیا،جب علالت کا سلسلہ زیادہ طویل ہواان دونوں ا خیافی بھانجوں کی جانب سے حصول سجادگی کی ایك بھائی کے واسطے مزید کوشش شروع ہوئی اور بعض



[1]         ردالمحتار کتاب الطلاق داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۴۲۷

[2]         ردالمحتار کتاب الطلاق داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۴۲۷

[3]         بحرالرائق کتاب الوقف ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۵/ ۲۳۱

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن