دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 16 | فتاوی رضویہ جلد ۱۶

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۶

مسمی نثار احمد بمقابلہ پسر مسمی شریف حسین کے دعویدار ہے کہ میں عہدہ تولیت کا مستحق ہوں،اب شرعًا لڑکا ہونا چاہئے یا برادر؟بینواتوجروا۔

الجواب:

اگر مال کی کوئی وراثت ہوتو بیٹے کے آگے بھائی محروم ہے مگر وقف کی تولیت کوئی ترکہ نہیں،اس میں شرائط واقف پھر عملدرآمد سابق پھر صوابدید مسلمانان پر نظر ہوگی ان کے اعتبار سے جسے ترجیح ہوگی وہی متولی ہو گا بیٹا ہو یا بھائی یا غیر۔ردالمحتار میں ہے:

(من جھلھم) قولھم خبز الاب لابنہ[1]۔واﷲ تعالٰی  اعلم

ان کی جہالت کی بناء پر ہے ان کا یہ قول کہ باپ کی روٹی بیٹے کی ہے۔واﷲ تعالٰی  اعلم(ت)

مسئلہ ۳۹۱ تا ۳۹۸:             ازاودے پور میواڑراجپوتانہ دہلی دروازہ مرسلہ سید ضامن علی صاحب                         ۸ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ

(۱)ایك شہر میں مسلمانوں نے باتفاق باہمی قومی سرمایہ سے ایك مدرسہ موسومہ مدرسہ حنفیہ تعلیم دینیات جاری کیا اور اس پر انجمن اسلام کی نگرانی قائم کی گئی اور زید کو معمولی اختیاروں کے ساتھ بہ نفاذ ایك دستور العمل مہتمم مدرسہ مقرر کیا۔

(۲)زید نے بظاہر بصلہ حسن کار گزاری تیسرے سال مربیت اور پانچویں سال متولیت کا ادعا حاصل کیا۔

(۳)چھٹے سال بلا استصواب قوم مدرسہ حنفیہ کو مدرسہ نظامیہ سے وابستہ کرکے روداد سالانہ میں بجائے حنفیہ کے نظامیہ لکھنا شروع کیا تا کہ زید کے تعلقات خاندان نظامیہ سے مدرسہ مخصوص سمجھاجائے۔

(۴)اس کے بعد زید نے دستور العمل نظام مدرسہ کی پابندی سے انحراف کرنا شروع کیا اور ارباب انجمن کو یکے بعد دیگرے ممبرانہ حیثیت سے گرانا شروع کیا۔

(۵)نویں دسویں سال اسی قوم کے جذبات مذہی کو بذریعہ تحریر صدمہ پہنچانے لگا یعنی کھلے لفظوں میں یہ لکھ کر اطراف ہندوستان میں شائع کردیا کہ فلاں شہر کے مسلمان کلمہ کی جگہ بتوں کا نام لیتے ہیں سجدہ کی جگہ دہوك دیتے ہیں،روزہ نماز کے وہ پابندنہیں،نہ ان لوگوں کو خوف خدا ورسول ہے،یہ مذہب سے سراسرآزاد ہیں،میں نے ان کے لئے اسلام کی بنیاد کا پتھر رکھا ہے حالانکہ یہ بہتان عظیم ہے اور واقعات سراسراس کے خلاف ہیں۔

 

 (۶)گیارھویں سال کی روداد میں حسب معمول زید نے لفظ انجمن نہیں لکھا تاکہ بادی النظر میں مدرسہ انجمن کی نگرانی میں نہ سمجھا جائے۔

(۷)تعلیم وتربیت کے اعتبار سے مدرسہ نے کچھ بھی ترقی نہ کی۔

(۸)حالات صدر کومحسوس کرکے جب قوم نے چند اشخاص کو کاروبار مدرسہ میں شریك کرنا چاہا تو زید نے انکارکردیا اور خدمت مہتممی سے علیحدہ کردئے جانے کے بعد زید نے کچہری میں مدرسہ پر قبضہ دلاپانے کا دعوٰی کیا لہذا واقعات اور حالات حاضرہ کی روسے زید کی نیت سے یہ ثابت ہوچکا کہ جو کچھ وہ کرتا رہا قومی نقطہ نظر کے خلاف کرتا رہا اس کو ترقی تعلیم وخدمت اسلام مد نظر نہ تھی بلکہ اس کو اس پر دہ میں اپنی نام آوری اور مفادذاتی منظور تھا،پس زید کی نسبت شریعت حقہ میں کیا حکم ہے؟

الجواب:

اگر یہ بیان واقعی ہے تو زید حقوق اللہ  و حقوق العباد دونوں میں گرفتار،اور شریعت مطہرہ کے نزدیك سخت سزا کا سزوار ہے کہ اس نے مسلمانوں پر اتہام رکھے اور ان کی دینی حیثیت سے بدنام کیا اور مدرسہ وقفی کو اپنی ذاتی اغراض کا ذریعہ بنانا چاہا وہ جب ایك دستور العمل کی پابندی سے مشروط کرکے مہتمم کیا گیا تھا اور اس نے بلاوجہ شرعی اس کی پابندی نہ کی مہتممی سے خارج ہوگیا اذا فات الشرط فات المشروط(جب شرط فوت ہوئی تو مشروط فوت ہوگیا۔ت)اور اب کہ اسے اس بارے میں اتنی طمع ہے کہ کچہری میں نالشی ہو کر مدرسہ پر قبضہ کرنا چاہا تو ہر گز اس قابل نہیں کہ مدرسہ میں اس کو دخل دیا جائے،درمختار وغیرہ کتب معتبرہ میں ہے:طالب التولیۃ لایولی[2] (تولیت کا طلبگار کو متولی نہیں بنایا جائے گا۔ت)رسول اللہ  صَلَّی اللہُ تعالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَفرماتے ہیں:

انالن نستعمل علی عملنا من ارادہ[3] ،رواہ الائمۃ احمد والبخاری وابوداؤد والنسائی عن ابی موسی الاشعری رضی اﷲ تعالٰی  عنہ۔واﷲتعالٰی  اعلم۔

بیشك ہم ہر گز اپنے معاملات کا عامل اس کو نہیں بناتے جو اس کی خواہش رکھتا ہو۔(اس کو امام احمد،بخاری،ابوداؤد اور نسائی نے حضرت ابوموسی اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت کیا۔واﷲ تعالٰی  اعلم(ت)

مسئلہ ۳۹۹:            از جوناگڑھ محلہ کتبانہ مدرسہ اسلامیہ مرسلہ حافظ محمد حسین                         ۲۰ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ

جو شخص تقدیر اور وسیلہ پکڑنے کے خلاف ہو ایسا آزاد شخص حنفیوں کے مدرسہ کا خیر خواہ ہوسکتا ہے یانہیں؟

الجواب:

تقدیر کا منکر رافضی معتزلی گمراہ ہے اور محبوبان خدا سے توسل کا منکر نجدی وہابی بدراہ ہے جو شخص ایسا ہو اس سے مدرسہ اہلسنت کی خیر خواہی کی کیا امید ہوسکتی ہے،نہ اسے مدرسہ پر کسی قسم کا اختیار دیا جائے،امیر المومنین فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اپنے زمانہ خیر میں کہ اسلام کاآفتاب نصف النہار پر تھا اور کفار ہر طرح ذلیل و خوار،ایك نصرانی کو کہ حساب وسیاق میں طاق تھا اور صوبہ یمن میں ابوموسی اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاسے محرری پر نوکر رکھنا چاہتے تھے امیر المومنین سے اجازت چاہی منع فرمایا انہوں نے پھر عرضی بھیجی،اس پر تحریر فرمایا:مات النصرانی،والسلام[4] (نصرانی ہلاك ہوا،والسلام۔ت)غرض کسی طرح اجازت نہ فرمائی،تو اس وقت ضعف اسلام میں کسی مخالف عقیدہ کو اختیار دینا کس درجہ مضر ہے کہ بوجہ کلمہ گوئی کافروں سے اس کا ضرر زائد ہوگا پھر اس ز مانہ میں اس کی مغلوبی تھی اور اب مطلق العنانی۔اور وہ ایك محرری کی خدمت تھی اور یہ افسری،جب وہ اس وقت میں قبول نہ فرمائی تو یہ اس وقت میں کیونکر مقبول ہوسکتی ہے،حدیث میں ہے:

 



[1]         ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۸۵

[2]         درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۹

[3]         صحیح البخاری کتاب الاجارۃ باب استیجارالرجل الصالح قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۰۱

[4]         لباب التاویل فی معانی التنزیل(تفسیر الخازن)تحت آیۃ۵/ ۵۱ مصطفی البابی مصر۲/ ۶۳۔۶۲

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن