دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 16 | فتاوی رضویہ جلد ۱۶

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۶

(۱)زید نے اپنی زمین مسجد کےلئے وقف کردی اور کچھ پتھر بھی برائے تعمیر مسجد دئے،زمین اور پتھروں کی قیمت تقریبًا ۲۰۰مالہ/ہوں گے،اور عمرو نے اپنی ذات خاص سے بالکل مسجد باقاعدہ اور ایك حجرہ بھی تیار کرکے دونوں کو وقف کردیاجس میں غالبًا پانچ ہزار روپیہ صرف ہوا ہوگا بعدہ زید کے کہنے سے عمرو نے زید کے نام سے واسطے نگرانی مسجد ایك کاغذرجسٹری شدہ تحریر کردیا اور مسجد تیار ہوئے بارہ برس ہوئے جب سے ہر طرح کے خرچ کا کفیل مثل چراغ تنخواہ امام ومؤذن ورمضان شریف میں حافظ کی خدمت وتقسیم شیرینی اور بھی درمیان میں مسجد کے متعلق جوضرورت ہوا کرتی ہے عمرو صرف اپنی ذات سے صرف کرتا ہے اور عمرو نہایت خلیق پابند صوم وصلوٰۃ باخدا شخص ہے اور عمرو زید کے افعال سے واقف نہ تھا کیونکہ زید بڑا فتنہ انگیز،حاسد،غیبت کنندہ،جماعت میں تفرقہ ڈالنے والا اور مسجد پر اپنی حکومت جتانے والا،ایك نہ ایك شرارت پیداکرنے والا ہے،اس صورت میں متولی کس کو شرع شریف قرار دیتی ہے اور وہ رجسٹری زید کی بموجب شرع شریف کار آمدہے حالانکہ اہل محلہ اور اہل جماعت عمرو کا متولی ہونا پسند کرتی ہیں؟

(۲)صرف زید کے حکم سے پیش امام ومؤذن مقررہوسکتے ہیں یا برخاست ہوسکتے ہیں یا کل اہل جماعت کی رائے سے؟

(۳)پیش امام کے موجود ہوتے ہوئے زید شرارتًا امامت کرتا ہے زید کے پیچھے نماز درست ہوسکتی ہے؟

(۴)زید کی امامت درست ہے یانمازی اپنی اپنی نمازبوجہ کراہت دہرالیا کریں؟

الجواب:

(۱)اگریہ امر واقعی ہے کہ زید فتنہ گر،شریر،مفرق جماعت ہے تو وہ ہرگز تولیت مسجد کے قابل نہیں،اس کا معزول کرنا واجب ہے۔درمختار میں ہے:

ینزع وجوبا لوالواقف غیر مامون[1]۔

خائن متولی کو ولایت وقف سے نکال دینا واجب ہے اگرچہ وہ خود واقف ہو۔(ت)

(۲)مؤذن وامام جس کے مقرر کئے شرعًاان منصوبوں کے لئے زیادہ لائق ہوں انہیں کو ترجیح ہوگی اور اگر یکساں ہوں تو زید کے مقرر کردہ مرجح ہیں کہ اصل مسجد یعنی زمین اسی کی وقف ہے،درمختارمیں ہے:

البانی للمسجد اولی من القوم بنصب الامام والمؤذن فی المختار الااذاعین القوم اصلح ممن عینہ البانی[2]۔

مسجد کا بانی مسجد کے امام ومؤذن کی تقرری میں باقی لوگوں کی بنسبت اولٰی ہے یہی قول مختار ہے مگر جب قوم کا مقرر کیا ہو اامام یامؤذن بانی کے مقرر کئے ہوئے سے افضل اور زیادہ صلاحیت کاحامل ہو تو وہی بہتر ہے۔(ت)

مگر جب کہ مؤذن وامام تنخواہ دار ہیں اور تنخواہ انہیں عمر و دیتا ہے تو استحقاق تنخواہ اسی کو ہوگا جسے عمرو مقرر کرے،اس پر لازم ہے کہ اسے پسند کرے جو شرعًا زیادہ مناسب ہو اور تنخواہ دار کی برخاستگی بھی عمرو کی رائے پر ہوگی،لانہ ھوا لمستاجر فلیس لثالث فسخھا(کیونکہ وہی کرایہ پر لینے والا ہے تو تیسرے شخص کو فسخ اجارہ کا حق نہیں۔ت)

(۳و۴)اگر زید سے علانیہ فسق ثابت ہو تو اس کی امامت اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہے کہ پڑھنی گناہ اور پھیرنی واجب۔

تبیین الحقائق میں ہے:

فی تقدیمہ تعظیمہ وقد وجب علیھم اھانتہ شرعا[3]۔

فاسق کو امامت کےلئے مقدم کرنے میں اس کی تعـظیم ہے جبکہ شرعًا مسلمانوں پر فاسقوں کی توہین واجب ہے(ت)

اوراگرزید میں کوئی وجہ مانع امامت نہیں مگر امام مقرر کردہ اس سے افضل واولٰی ہے اور اس وجہ سے  اہل جماعت امام کے ہوتے زید کی امامت مکروہ وناپسند رکھتے ہیں تو زید کو جائز نہیں کہ امامت کے لئے تقدم کرے لانہ ممن ام قوما وھم لہ کارھون[4] (کیونکہ وہ ان لوگوں میں سے ہے جس نے کسی قوم کی امامت کی حالانکہ وہ اس کی امامت کو ناپسند جانتے ہیں۔ت)مگر اس صورت میں نمازمیں خلل نہیں۔واﷲ تعالٰی  اعلم۔

مسئلہ۳۸۹:ازگنگا جھدی ڈاکخانہ دونی واڑہ تحصیل گوند یا ضلع بھنڈارہ ملك متوسط مرسلہ محمد اسمٰعیل خان۲۵ربیع الاول۱۳۳۶ھ

متولی مسجد نے مسجد کے پیسہ میں خیانت کی ایسے شخص کو متولی رکھنا جائز ہے یانہیں؟ یا متولی نے جھوٹی شہادت دی تو تولیت اسے دینا جائز ہوگی یانہیں؟

الجواب:

جس نے جھوٹی شہادت کہی اس میں تو بہت احتمال ہیں کہ واقعی جھوٹی نہ ہو لوگ اسے جھوٹی سمجھیں یا واقع میں جھوٹی ہو مگر شہادت دینے والے نے اپنے نزدیك سچی سمجھ کر دی ہو یا کسی مصلحت اعظم کےلئے کوئی پہلو دار بات کہی ہو یا راستی فتنہ انگیز سے بچنے کےلئے مرتکب ہو اہو یا اس شہادت سے اسے حمایت وقف مقصود ہو،اسی طرح بہت احتمال نکل سکتے ہیں جن کے باعث وہ معزولی متولی کا سبب نہ ہوگی مگر پہلی بات بالکل صاف ہے جب ا س نے مال وقف میں خیانت کی اس کا معزول کرنا واجب۔درمختارمیں ہے:

ینزع وجوبا لوالواقف درر فغیرہ بالاولی غیر مامون بزازیۃ [5]۔واﷲ تعالٰی  اعلم۔

متولی اگر امین نہ ہو تو اس کو ولایت وقف سے نکال دیناواجب ہے اگرچہ وہ خود واقف ہو(درر)لہذا غیر واقف کو بدرجہ اولٰی نکال دینا واجب ہوگا(بزازیہ)واﷲ تعالٰی  اعلم(ت)

مسئلہ۳۹۰:          اجمیر شریف محلہ خادمان چاہ ارٹھ مرسلہ سید امتیاز علی صاحب    ۴ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ

ایك شخص مسمی سید امیر علی متولی درگاہ تھا اور اس کی چار بیبیاں منکوحہ تھیں اول زوجہ اس کے چچا کی دختر تھی اور دوسری پٹھانی اور تیسری کاشت کار قوم چتیہ کی لڑکی چھوٹی قوم سے تھی،اول زوجہ سے ایك دختر اور دوسری سے ایك پسر مسمی شریف حسین اور تیسری سے دو دختران،اور متولی مذکور کے ایك برادر علاتی پٹھانی بیوی سے ہیں جب کہ متولی مذکورالصد رنے انتقال کیا تو اولاد مندرجہ برادر علاتی کو چھوڑ ا اب برادر علاتی

 

 



[1]         درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۳

[2]         درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۹۰

[3]         تبیین الحقائق کتاب الصلوٰۃ باب الامامۃ المطبعۃ الکبری الامیریہ بولاق مصر ۱/ ۱۳۴

[4]         المعجم الکبیر حدیث ۲۱۷۷ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۲/ ۲۸۲

[5]         درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۳

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن