دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 16 | فتاوی رضویہ جلد ۱۶

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۶

واہب موہوب لہ سے شے موہوب واپس لے سکتا ہے ؟

(۲)جو اس سجادگی حاصلہ موہوبہ ومسند نشینی سے پہلے تھے ان کے حقوق وغیرہ معافیات بدستور قائم رہے اس میں کچھ رقم متعلق مرمت خانقاہ رہی موہوب لہ سجادہ نشین نے ان سوابق کوخانقاہ میں آنے اور خدمت کرنے سے منع کرادیا یا کردیا یاایسے اسباب ڈالے جس سے مجبورًا ممنوع ہوئے اور مرمت وغیرہ بھی ان کی جانب سے نہ ہونے دی اور نہ کرنے دی اب سوابق مستحقین کے اولاد سے وہ(رقم مرمت جو پاتے رہے ہیں اولاد سجاد ہ نشین(موہوب لہ)لینا چاہتی ہے،کیا لے سکتی ہے یانہیں؟باوجودیکہ وہ لوگ اپنی ذات سے خدمت اور مرمت کرنا چاہتے ہیں۔

(۳)بعدنظر ڈالنے ہر دو قلم یہ بھی دریافت طلب ہے کہ شرعًا اس خانقاہ کا اصل راس یا مکھیا کس کو سمجھا جائے اور کون ہے اولاد سوابق مستحقین موہوب لہ کی اولاد،مسند نشین اصل واہب کی اولاد؟

الجواب:

نذر وفتوح جو جسے دے اس کی ملك ہیں واہب ہو یا موہوب لہ یا ان میں کسی کی اولاد،سجادہ نشین یا کسے باشد۔رہا معاہدہ تنصیف وہ ایك وعدہ ہے جس کی وفا پر اصل وعدہ کنندہ بھی حکمًا مجبور نہ کیا جاتا نہ کہ اس کی اولاد۔فقد نصواعلی انہ لاجبر علی الوفاء بالوعد[1] (مشائخ نے اس پر نص کی ہے وفاء عہد پر جبر نہیں کیا جاتا۔ت)مگر یہاں ایك دقیقہ ہے کہ آگے ظاہر ہوگا بیان سائل سے معلوم ہوا کہ شے موہوب ملك واہب نہ تھی بلکہ جائداد وقف خانقاہ تھی اور سجادہ نشین حسب دستور اس کا متولی،اس نے اپنے بھائی کو یہ نصف ہبہ کیا۔ظاہر ہے کہ یہ ہبہ باطل محض ہوا کہ جائداد موقوف اس کی ملك نہ تھی جسے ہبہ کرسکتا اور حق تولیت قابل ہبہ نہیں،متولی اپنی صحت میں دوسرے کو قائم مقام نہیں کرسکتامگراس حالت میں کہ جہت واقف سے اسے اس کا اختیارعام دیا گیا ہو۔درمختار میں ہے:

ارادالمتولی اقامۃ غیرہ مقامہ فی صحتہ ان کان التفویض لہ بالشرط عاما صح والالا۔[2]

متولی نے اپنی زندگی میں حالت صحت میں کسی کو اپنا قائم مقام بنانے کا ارادہ کیا،اگر واقف کی طرف سے شرط کے سبب سے عام تفویض کاحق حاصل ہے توصحیح ہے ورنہ نہیں(ت)

تو اگر واہب کے لئے اختیار حسب شرط واقف یا تعامل قدیم کی دلیل شرط واقف ہے حاصل نہ تھا تو اس کا  اپنے بھائی کو سجادہ نشین کرنا باطل محض ہوا بلکہ وہی واہب بدستور سجادہ نشین رہا،

فانہ جعلہ مستقلا لاوکیلا عنہ حتی یجوز ولاینعزل بعزل نفسہ الاعند قاضی الشرع ولاقاضی ثمہ۔

اس لئے کہ اس نے اسے مستقل کیا ہے نہ کہ وکیل حتی کہ جائز ہوتا اور خود کو معزول کرلینے سے معزول نہیں ہوتامگر اس وقت جبکہ قاضی شرع کے پاس ایسا کرے اور یہاں قاضی شرع موجود نہیں(ت)

اس صورت میں جو نذور وفتوح موہوب لہ کو دی جائیں اگر دینے والا خود ا س کی ذات کو دیتے وہ اس کی ملك تھیں اور اگر نذر سجادہ بحیثیت سجادہ نشینی دیتے تو اس کو ان کا لینا جائز نہ تھا کہ وہ واقع میں سجادہ نشین نہ ہوا،

ومن اعطی احدابظن وصف ولم یکن فیہ لم یحل لہ اخذہ [3]      کما حققہ فی احیاء العلوم وغیرہ۔

اگر کوئی شخص کسی شخص میں کوئی وصف گمان کرکے عطیہ دے اور وہ وصف موہوب لہ میں نہ ہوتو اس کو یہ عطیہ لیناجائز نہیں،جیساکہ احیاء العلوم وغیرہ میں اس کی تحقیق کی گئی ہے(ت)

اس صورت میں واپس لینے کے کوئی معنی نہیں کہ وہ دینا ہی صحیح نہ ہوا واپسی تو دینے کے بعد ہے۔ہاں اگر واہب کو حسب شرط واقف اس کا اختیاربھی تھا تو بھائی کی شرکت صحیح ہوگئی اور واپسی کا اختیار نہیں مگر یہ کہ واقف نے یہ اختیار بھی دیا ہو۔درمختار میں ہے:

ان کان التفویض لہ عاماصح ولایملك عزلہ الااذاکان الواقف جعل لہ التویض والعزل[4]۔

اگر اس کو تفویض عام حاصل ہے تو صحیح ہے اوروہ اس کو معزول نہیں کرسکتا سوائے اس کے کہ واقف نے اس متولی کو تفویض وعزل دونوں کا اختیار دیاہو(ت)

(۲)جو بحکم واقف یا حسب عملدرآمد قدیم اوقاف میں کوئی حق شرعی رکھتے تھے وہ بلاوجہ شرعی کسی کے ممنوع کئے ممنوع نہیں ہوسکتے۔بحرالرائق وردالمحتار میں ہے:

استفید من عدم صحۃ عزل الناظر  بلاجنحۃ عدمھا لصاحب وظیفۃ فی وقف بغیر جنحۃ وعدم اھلیۃ[5]۔

متولی وقف کو بلاجرم معزول کرنے کی عدم صحت سے معلوم ہوا کہ وقف میں کسی صاحب وظیفہ کوجرم اور عدم اہلیت کے بغیر معزول کرنا صحیح نہیں۔(ت)

 (۳)مستحقین اپنے اپنے حقوق لینے تك کے مختار ہوتے ہیں اصل و رأس وہی متولی اوقاف ہے جس کا بیان جواب سوال اول میں گزرا۔واﷲ تعالٰی  اعلم۔

مسئلہ۳۸۲:                            مرسلہ نقی احمد صاحب قصبہ سندیلہ ضلع ہردوئی محلہ اشراف        ۱۹صفر۱۳۳۵ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ ذیل میں:

(۱)زید منتظم وبانی جائداد انجمن اسلامیہ جو کہ منجانب گروہ اسلام قائم ہوئی تھی تھا اور عمرو امین جائداد کاتھا۔

(۲)بکر وغیرہ جو کہ متولی گروہ اسلام تھے پانچ سال کے حساب فہمی کا دعوٰی زید منتظم وعمرو امین پر کیا اور کاغذات طلب کئے۔

(۳)ہر دو مدعا علیہم نے جواب دیا کہ تم مستحق حساب فہمی نہیں ہو کیونکہ کل جائداد میرے اہتمام وکوشش سے حاصل ہوئی۔

(۴)عدالت سے کاغذات طلب ہوئے عمروامین روپوش ہوگیا اور کاغذات نہیں دئے عدالت نے بہ ثبوت یك طرفہ مدعاعلیہم پر ڈگری کر دی۔

(۵)بعد ڈگری اس ڈگری کی بابت ثالثی ہوئی جس میں زر ڈگری چوتھائی قائم رہا اور زید منتظم نے بوجہ روپوش ہونے عمرو کے کل روپیہ مطابق فیصلہ ثالثی اداکردیا۔

 



[1]       فتاوٰی ہندیۃ کتاب الاجارہ الباب السابع فی الاجارۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۴۲۷

[2]       درمختار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۹

[3]       احیاء العلوم کتاب الزہد والفقر ۴/ ۲۰۸،کتاب الحلال والحرام۲/ ۱۵۴،کتاب اسرار الزکوٰۃ۱/ ۲۲۳ مطبعۃ المشہد الحسینی القاہرہ مصر

[4]       درمختار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۹

[5]       ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۸۶

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن