30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ایك یہ کہ وہ کام جس کےلئے یہ وقف ابتداءً ہوا یا آخر میں اس کے لئے قرار پائے گا واقف کے نزدیك کار ثواب ہو وہ اس ثواب کی نیت کرے یا نہ کرے یہ اس کا فعل ہے کام مذہبی حیثیت سے ثواب کا ہونا چاہئے، جیسے غرباء کی امداد اگرچہ دواوغیرہ سے ہو۔
دوسرے یہ کہ وہ کام خود ہمارے مذہب اسلام کی روسے کارِ ثواب ہو اگرچہ وقف کرنے والا مسلمان نہ ہو۔
(۱) اسی لئے اگر اغنیا کے چائے پانی کے لئے ہوٹل بناکر وقف کیا وقف نہ ہوگا کہ یہ کوئی ثواب کا کام نہیں۔
(۲)کافر نے مسجد کے لئے وقف کیا وقف نہ ہوگا کہ یہ اس کے خیال میں کارثواب نہیں۔
(۳)کافر نے ایك مندریا شوالے کے لئے وقف کیا وقف نہ ہوگا کہ یہ واقع میں کارِ ثواب نہیں۔
(۴)کافر نے ایك شوالے پر وقف کیا اس شرط پرکہ جب تك یہ باقی ہے وقف کی آمدنی اس میں خرچ ہواور جب شوالہ ٹوٹ کر ویران ہوجائے تو اس کے بعد یہ آمدنی محتاجوں پر صرف ہوا کرے وقف صحیح ہوجائے گا کہ اس کا آخر ایك ایسے کام کےلئے رکھا جو کار ثواب ہے یعنی امدا د مساکین، اور آج ہی سے اس کی ساری آمدنی امداد مساکین میں صر ف ہوگی شوالہ کو ایك پیسہ نہ دیا جائے گا، اور اس قسم کے بکثرت مسائل کتب معتمدہ میں مذکور ہیں، تو ثابت ہوا کہ وقف جائز کیسا ہی ہو کسی نے کیا ہو کسی طرح کیا ہو مطلقًا ہم مسلمانوں کا دینی مذہبی ہے، کام دو ہی قسم ہیں: دینی یا دنیوی۔ ہر شخص جانتا ہے کہ دنیوی کام میں ان دونوں شرطوں سے کوئی شرط نہیں، نہ یہی ضرور کہ فاعل کے نزدیك وہ کارِ ثواب ہو،نہ یہی لازم کہ مذہب اسلام نے اسے کارِ ثواب مانا ہو اور وقف میں مطلقًا یہ دونوں شرطیں لازم ہیں، تو ظاہر ہوا کہ وہ ہر گز دنیوی کام نہیں بلکہ خاص دینی ومذہبی ہے، اور یہی ہمیں ثابت کرنا تھا، اور اس پر ایك صریح دلیل یہ بھی ہے کہ مسلمان اگر کیساہی وقف کسی غرض کاکرے اور پھر معاذاﷲ اسلام سے پھر جائے تو فورًا اس کا ہر وقف باطل ہوجاتا ہے وہ اس کے وارثوں پر مالکانہ تقسیم کردیےجاتے ہیں، یہاں تك کہ اگر مرتد ہوکر پھر اسلام لے آئے وقف عود نہ کرے گا جب تك بعد اسلام پھر از سر نو وقف نہ کرے اور یہ حکم عام ہے جس میں کسی وقف کی تخصیص نہیں تو کوئی وقف اگر ایسا بھی ہوتاجو مذہبی نہ ہو تو مذہب بدل جانے سے وہ کیوں باطل ہوجاتا تو معلوم ہوا کہ وقف کیسا ہی ہو مطلقًا مذہبی ہے، اب ان تمام مسائل پر عبارات کتب ملاحظہ کیجئے، ردالمحتار مطبع قسطنطنیہ جلد دوم ص۴۲۳:
العتق والوقف والاضحیۃ ایضا عبادات[1]۔
وقف، عتق اور قربانی بھی عبادات ہیں۔(ت)
ہدایہ مع فتح القدیر مطبع مصر جلد پنجم ص۵۷:
الوقف ازالۃ الملك الی اﷲ تعالٰی علٰی وجہ القربۃ [2]۔
اپنی ملکیت کو عبادت کے طور پر زائل کرنا اﷲ تعالٰی کے لئے، اس کو وقف کہتے ہیں(ت)
فتح القدیر جلد مذکور ص۵۷؛
محاسن الوقف ظاہرۃ لما فیہ من ادامۃ العمل الصلاح کمافی الحدیث المعروف اذا مات ابن اٰدم انقطع عملہ الامن ثلث صدقۃ جاریۃ[3]، الحدیث۔
وقف کے محاسن ظاہر ہیں کہ اس میں نیك عمل کا دوام ہے جیسا کہ معروف حدیث میں ہے کہ انسان کے فوت ہونے پر اس کے عمل تین کے ماسوا سب منقطع ہوجاتے ہیں، ان میں ایك صدقہ جاریہ ہے،الحدیث(ت)
درمختار مع شامی مطبع استنبول جلد سوم ص۵۵۴:
سببہ ارادۃ محبوب النفس فی الدنیا برالاحباب وفی الاٰخرۃ بالثواب یعنی بالنیۃ من اھلھا لانہ مباح بدلیل صحتہ من الکافر[4]۔
دنیا میں احباب سے بھلائی او رآخرت میں ثواب کیلئے نفس کو خوش کرنا اس کا سبب ہے یعنی ثواب کی نیت اہل نیت سے، ورنہ مباح ہے جس کی دلیل یہ ہے کہ وقف کرنا کافر کو بھی جائز ہے(ت)
ایضًا صفحہ ۴۵۶ :
شرطہ ان یکون قربۃ فی ذاتہ[5]۔
شرط یہ ہے کہ وہ اپنی ذات میں قربت ہو۔(ت)
فتاوٰی عالمگیری مطبع احمدی جلد سوم ص۱۱۴ :
بیان شرائط وقف منھا ان یکون قربۃ فی ذاتہ وعند المتصرف[6]۔
وقف کے شرائط کا بیان ایك شرط یہ ہے کہ فی نفسہٖ قربت ہو اور تصرف کرنے والے کے ہاں بھی قربت ہو(ت)
ردالمحتار جلد سوم ص۵۵۲:
فی النھر عن المحیط لو وقف علی الاغنیاء وحدھم لم یجز لانہ لیس بقربۃ امالو جعل اٰخرہ للفقراء فانہ یکون قربۃ فی الجملۃ[7]۔
نہر میں محیط سے منقول ہے اگر صرف اغنیاء کےلئے وقف ہو تو صحیح نہیں کیونکہ یہ قربت نہیں، اگرآخر میں فقراء کے لئے کردیا تو فی الجملہ قربت ہوجائے گا۔(ت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع