دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 16 | فتاوی رضویہ جلد ۱۶

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۶

کوئی حق حاصل بلکہ فیض رسول خان بدستور متولی اور تقی حسین خان نرا اجنبی ہے اگرچہ وہ بددیانتی بھی نہ کرے اور بحال بددیانتی جیسا کہ سوال میں مذکور ہے خود واقف بھی اگر متولی ہوتا فورًا نکال دیا جاتا نہ کہ دوسرا شخص۔درمختار میں ہے:

اراد المتولی اقامۃ غیرہ مقامہ فی حیاتہ ان کان التفویض لہ بالشرط عاما صح والا لایصح[1] (ملخصًا)

متولی نے اپنی زندگی میں کسی اور کو اپنی جگہ متولی بنانا چاہا اگرتو اس کو واقف کی طرف شرط کے تحت عام تفویض تولیت کی اجازت حاصل ہے تو صحیح ورنہ نہیں۔(ملخصًا)۔(ت)

ردالمحتار میں ہے:

معنی العموم کما فی انفع الوسائل انہ ولاہ واقامہ مقام نفسہ،وجعل لہ ان یسندہ الی من شاء ففی ھذہ الصورۃ یجوز التفویض منہ فی حال الحیوۃ[2]۔

عموم کا معنی جیسا کہ انفع الوسائل میں ہے یہ ہےکہ واقف نے اس کو متولی بنایا اور اس کو اپنے قائم مقام کردیا اور اسے اختیار دیا کہ وقف کو جس کی طرف چاہے منسوب کردے تو اس صورت میں اس کو اپنی زندگی میں تفویض تولیت جائز ہے۔(ت)

اسی میں ہے:

الفراغ مع التقریر من القاضی عزل لاتفویض ویدل علیہ قولہ فی البحر اذاعزل نفسہ عندالقاضی فانہ ینصب غیرہ وبہ ظھران قولہم لایصح اقامۃ المتولی غیرہ مقامہ فی حیاتہ وصحتہ مقید بمااذالم یکن عند القاضی،ولایرد ان العزل یکفی فیہ مجرد علم القاضی لان الفراغ عزل خاص مشروط فانہ لم یرض بعزل نفسہ الا لتصیر الوظیفۃ لمن نزل لہ عنھا  [3]        اھ مختصرا۔

متولی کا فارغ ہونا جبکہ قاضی د وسرے کو مقرر کرے عزل ہے تفویض نہیں اسی پر دلالت کرتا ہے بحر میں اس کا قول کہ اگر متولی نے قاضی کے پاس خود کو معزول کرلیا تو قاضی کسی دوسرے کو مقرر کرے،اسی سے ظاہر ہوا کہ فقہاء کا یہ قول کہ متولی اپنی زندگی میں حالت صحت میں غیر کو اپنے قائم مقام نہیں کرسکتا مقید ہے اس شرط کے ساتھ کہ وہ قائم مقام کرنا قاضی کے پاس نہ ہو۔اس پر یہ اعتراض وارد نہیں ہوتا کہ عزل میں توصرف قاضی کو علم ہونا کافی ہے عدم ورودکی وجہ یہ ہے کہ فراغ ایك خاص مشروط عزل ہے کیونکہ متولی اپنی معزولی پر صرف اس صورت میں رضامند ہواکہ ولایت اسی کی طرف منتقل ہو جس کے لئے اس نے معزولی اختیار کی اھ اختصارًا(ت)

درمختا رمیں ہے:

وینزع وجوبًا بزازیۃ،لو الواقف درر،فغیرہ بالاولٰی غیر مامون[4]۔واﷲ تعالٰی  اعلم۔

خائن متولی سے وجوبًا ولایت لے لی جائےگی(بزازیہ)اگر وہ متولی خودواقف ہو(درر)تو خیانت کے سبب غیرواقف سے بدرجہ اولٰی ولایت لے لینا واجب ہوگا۔واﷲ تعالٰی  اعلم(ت)

مسئلہ۳۷۶:                            مسئولہ فیض محمد صاحب محلہ بہادر گنج شاہجہان پور                        ۳۰شوال۱۳۳۳ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مسجد کی تحویل کاروپیہ رشوت میں صرف کیا جائے اور اپنے تصرف میں لایا جائے تو آیا ایسی صورت میں تحویل رکھنے والا یا مشورت میں شریك ہونے والا شرعًا کس تعزیر کا مستوجب ہے؟ بینوا توجروا۔

الجواب:

کیا شرعی تعزیرات یہاں جاری ہیں،کیا کوئی دے سکتا ہے تحویل اس سے نکال لینی واجب ہے،اور جو اپنے صرف میں لایا یا خاص کار ضروری مسجدبحالت مجبوری محض کے سوا رشوت میں اٹھایا اس کا تاوان اس پر لازم ہے مسلمان اس سے توبہ لیں،نہ مانے تو اس سے میل جول چھوڑدیں ہاں اگر نہ اپنے صرف میں لایانہ اور کوئی تصرف بیجا کیا کسی معاملہ میں مسجد کو ضرر شدید پہنچاتھا اور بے کچھ دئے لئے کسی طرح نجات نہ تھی یوں صرف کیا تو مسجد کا اس پر کچھ الزام نہیں،واﷲ تعالٰی  اعلم۔

مسئلہ۳۷۷:           مسئولہ حاجی کریم نور محمد جنرل مرچنٹ اتوار ملوك ناگپور شہرناگپور                               ۹صفر المظفر ۱۳۳۴ھ

متولی مسجد کا کون شخص ہوسکتا ہے اور اس کے لئے کیا حقوق خدمات مسجد کے ہیں؟

الجواب:

متولی مسجد ایك قادر متدین ہونا چاہئے کہ ہوشیاری دیانتداری سے کام کرسکے اوقاف مسجد کا سب نظم ونسق اس کے سپردہوگا نیز مسجد کی نگہداشت غور پر داخت۔واﷲ تعالٰی  اعلم

مسئلہ۳۷۸:            ازسہسوان ضلع بدایوں عبداللطیف مدرس قرآن شریف                            ۱۲صفر المظفر۱۳۳۴ھ

محمود الاقران نعمان الزمان دامت برکاتہم السلام علیکم وعلٰی من لدیکم،متولی وقف کو مال وقف بطو رقرض اپنے تصرف میں لانا یا کسی مسلمان کو قرض دینا روا یا ناروا؟بینواتوجروا۔

الجواب:

متولی کو روا نہیں کہ مال وقف کسی کو قرض یا بطور قرض اپنے تصرف میں لائے۔

مسئلہ ۳۷۹ تا ۳۸۱:            از شہر آگرہ محلہ کھڑکی مسئولہ محمود حسن صاحب امام جامع مسجد سابق                          یکم شعبان ۱۳۳۴ھ

(۱)ایك شخص خانقاہ کی سجادگی حاصل کرکے اپنے بھائی کو ہبہ مشاع اس شرط پر کرے کہ موہوب لہ سجادہ نشین رہے اور واہب مسند نشیں اور آمد ہر قسم سرکاری ونذر وفتوح وغیرہ سب بالتنصیف تقسیم رہے اور یہ سلسلہ نسلًا بعد نسل چلا جائیگا مگر اس موہوب لہ سجادہ نشین کی اولاد اصل واہب کی اولاد کی منع مسند نشینی کے ساتھ نذر وفتوح وغیرہ کو بالتنصیف نہیں دیتی ہے کیا ایسی حالت میں

 

 



[1]       درمختار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۹

[2]       ردالمحتار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۱۲۔۴۱۱

[3]       ردالمحتار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۱۲۔۴۱۱

[4]       درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۳

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن