دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 16 | فتاوی رضویہ جلد ۱۶

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۶

(۶)دو مدرسوں کے متولی کو ایك وقف کا مال دوسرے میں صرف کرنا بطور قرض روایا ناروا؟ اور واقف دونوں وقف کے جدا جدا ہیں۔

(۷)زمین مشترك کا روپیہ ایك شریك وصول کرتا ہے قبل تقسیم اپنے صرف میں لانایاکسی مسلمان کو اس میں سے قرض دینا جائز یانہ؟

(۸)تعمیر مدرسہ کے واسطے بمشورہ مسلمین قرض لینا روایا ناروا ؟حنفی کی معتمدات سے جواب عنایت ہو مع حوالہ کتاب۔بینوا توجروا۔

 

الجواب:

(۱)اگر متولی نے کوئی بے احتیاطی نہ کی تو اس پر تاوان نہیں لانہ کالوصی امین فالقول قولہ بیمین         (کیونکہ وہ(متولی)وصی کی طرح امین ہے تو قسم کے ساتھ اس کی بات مان لی جائے گی۔ت)اور اگر بے احتیاطی کی مثلًا صندوق کھلا چھوڑدیا غیر محفوظ جگہ رکھا تو اس پرتاوان ہے لان الامین بالتعدی ضمین(کیونکہ تعدی کی وجہ سے امین پر ضمان لازم ہوتا ہے۔ت)

(۲)روانہیں مگر جہاں اجازت واقف یا تعامل قدیم ہو لانہ یحمل علی المعھود من عند الواقف(کیونکہ یہ خود واقف کی طرف سے معہود پر محمول ہوگا۔ت)

(۳)حرام حرام لانہ تعدی علی الوقف والقیم اقیم حافظ لامتلف(کیونکہ یہ وقف پر تعدی ہے حالانکہ متولی کو بطور محافظ مقرر کیا جاتا ہے نہ کہ ضائع کرنے والا۔ت)

(۴)نہ،لانہ صرف فی غیر المصرف(کیونکہ یہ غیر مصرف میں صرف کرنا ہوا۔ت)

(۵)شر ط واقف کا اتباع کیا جائے گا اگر منع کردیا ناجائز ہے،اور اگر یہ شرط کردی کہ کتاب جو عاریۃ لے جانا چاہے اتنا مال اس کے عوض گویا بطور گروی رکھا جائے تو یونہی کیا جائے گا بے اس کی اجازت نہیں اور اگر بلاشرط عاریۃً کی اجازت قوم یا اشخاص خاص کو دی تو انہیں کےلئے اجازت ہوگی اور عام تو عام لقولھم شرط الواقف کنص الشارع [1] والمسألۃ فی الاشباہ والنھر والدرالمختار وردالمحتار وھذاحاصل ماتقرر(بسبب فقہاء کے اس قول کے کہ شرط واقف وجوب عمل میں شارع عَلَيْهِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی نص کی طرح ہے اور یہ مسئلہ اشباہ،نہر،درمختاراور ردالمحتار میں ہے جو کچھ اس پر وہاں تقریر کی گئی یہ اس کا خلاصہ ہے۔ت)(۶)ناجائز ہے،

لان الاقراض تبرع والتبرع اتلاف فی الحال والناظر للنظر لاللاتلاف ومسألۃ اختلاف الواقف اوالجھۃ مذکورۃ فی التنویر والدرودائرۃ فی الاسفار الغر۔

قرض دینا تبرع ہے اور تبرع فی الحال تلف کرنا ہے جبکہ متولی تو حفاظت کے لئے ہوتا ہے نہ کہ تلف کرنے کےلئے اور واقف وجہت وقف کے اختلاف کا مسئلہ تنویر،در اور جلیل القدر ضخیم کتابوں میں مذکور ہے۔(ت)

(۷)اپنے حق تك صرف کرسکتا ہے۔

(۸)متولی کو وقف پر قرض لینے کی دو شرط سے اجازت ہے ایك یہ کہ امر ضروری ومصالح لابدی وقف کے لئے باذن قاضی شرع قرض لے اگر وہاں قاضی نہ ہو خود لے سکتا ہے،د وسرا یہ کہ وہ حاجت سوائے قرض اور کسی سہل طریقہ سے پوری نہ ہوتی ہو مثلًا وقف کا کوئی ٹکڑا اجارہ پر دے کر کام نکال لینا۔درمختا رمیں ہے:

لاتجوز الاستدانۃ علی الوقف الااذااحتیج الیھا لمصلحۃ الوقف کتعمیر وشراء بذر فیجوز بشرطین، الاول اذن القاضی فلو یبعد منہ یستدین بنفسہ، الثانی ان لاتتیسر اجارۃ العین والصرف من اجرتھا و الاستدانۃ القرض والشراء نسیئۃ [2]۔

وقف پر قرض لینا متولی کو جائز نہیں مگر اس وقت جائز ہے جبکہ اس کی حاجت ہو جیسے وقف کی مرمت یا زمین وقف میں کاشت کے لئے بیج خریدنا،تو اس صورت میں دو شرطوں کے ساتھ جائز ہے شرط اول یہ ہے کہ اذن قاضی سے قرض لے اگر قاضی دور ہو تو متولی از خود قرض لے سکتا ہے،شرط ثانی یہ ہے کہ عین وقف کو اجارہ پر دینا اور اس کی اجرت سے خرچ کرنا ممکن نہ ہو۔استدانت سے مراد قرض لینا اور شراء سے مرد ادھار پر خریدنا ہے۔(ت)

ردالمحتار میں ہے:

المختار انہ اذالم یکن من الاستدانۃ بد تجوز بامرالقاضی ان لم یکن بعیداعنہ،امامالہ منہ بد کالصرف علی المستحقین فلا کما فی القنیۃ الاالامام و الخطیب والمؤذن فیما یظھر لقولہ فی جامع الفصولین لضرورۃ مصالح المسجد اھ والا الحصیر والزیت بناء علی القول بانھما من المصالح وھو الراجح،ھذاخلاصۃ ما اطال فی البحر [3] اھ واﷲ تعالٰی اعلم۔

مختار یہ ہے کہ اگر قرض کرلینے سے چھٹکارا نہ ہو تو قاضی کی اجازت سے جائز ہے جبکہ قاضی دور نہ ہو لیکن اگر اس سے چھٹکارا ہوسکتا ہے تو جائز نہیں جیسے مستحقین پر خرچ کرنے کے لئے قرض لینا جیسا کہ قنیہ میں ہے۔مگر امام،خطیب اور مؤذن پر خرچ کرنے کے لئے قرض لینا جائز ہے جیسا کہ جامع الفصولین کے قول سے ظاہرہے کیونکہ اس میں مسجد کی مصلحت ہے اھ اور اسی طرح مسجد کے لئے چٹائی اور تیل وغیرہ کےلئےقرض لینا بھی جائزاس قول کی بناء پر کہ یہ مصالح مسجد میں سے ہیں اور یہی راجح ہے،یہ بحر کی طویل بحث کا خلاصہ ہے اھ واﷲ اعلم(ت)

مسئلہ ۳۷۵:                            مسئولہ فیض رسول خاں ساکن چاند پور

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ولی حسین خاں نے عرصہ اکتیس سال سے تحریر تولیت نامہ حقیت موضع پر تیت پور پر گنہ نواب گنج محلہ باغ کے قابض کرکے متولی مقرر کردیا،بعدہ پندرہ برس کے ولی حسین خان فوت ہوئے اس کے بعد کو بھی متولی بدستور پندرہ سال تك اور کام تولیت کا انجام دیتا ہے اور اب تك قابل انجام وہی کام تولیت کے ہے۔اب تقی حسین خاں پسر ولی حسین خاں نے جبر ناجائز دے کر متولی سے دستبرداری لکھائی اور جائداد موقوفہ سے ایك باغ رد کراکر اپنے ملازم سے مشتری باغ ظاہر کرایااور آمدنی خیر کو مصارف ناجائز میں صرف کرنا شروع کیا۔جواب بالا میں متولی سابق برخاست ہوسکتا ہے اور تقی حسین خاں قابل تولیت کے ہوسکتا ہے اور تصرف ناجائز آمدنی خیر میں عنداللہ  وعندالرسول کے کیا احکام ہیں؟

الجواب:

دستاویز دست برداری ملاحظہ ہوئی وہ دست برداری مطلق نہیں بلکہ بحق تقی حسین خاں ہے اور پیش قاضی بقبول قاضی نہیں بلکہ بطور خود ہے اور مرض الموت متولی میں نہیں بلکہ اس نے اپنی صحت میں کی ہے اور دستاویز وقف ملا حظہ ہوئی،اس میں واقف سے متولی کوکوئی اختیار اپنے عزل اور دوسرے کے نصب کا نہیں دیا۔پس دست برداری مذکور محض مردود و باطل ہے اس سے نہ فیض رسول خاں کی تولیت زائل نہ تقی حسین خاں کو اصلًا



[1]                          درمختار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف اجارتہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۹۰،الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ الاولٰی ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۱۴۳ وکتاب التعریف ۱/ ۳۰۵

[2]        درمختار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۹۱

[3]       ردالمحتار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ داراحیاء التراث العربی بیروت۳/ ۴۱۹

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن