30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
زید ایك انجمن اسلامیہ کا سکرٹری ہے اور پیشہ وکالت کرتا ہے اور لوگوں کو سود کی ڈگریاں دلواتا ہے اور خلاف حق مقدمات میں کوشش کرنے سے نہیں بچتا اور اکثر اوقات عقائد سرسید احمد خان کا مداح رہتا ہے ایسا شخص آیا منتظم امور اہل اسلام یعنی سکریٹری انجمن اسلامیہ رہ سکتا ہے یانہیں؟اور جو اہل اسلام اس کو اپنا سکریٹری بنائیں ان کا کیاحکم؟
الجواب:
امور بالا سے تو یہ شخص فاسق فاجر ہوتا مگر عقائد کفریہ کافر کا مداح خود کافر ومرتد ہے اور کافر کسی طرح مسلمانوں کے کسی کام کا والی نہیں ہوسکتا۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ فرماتا ہے:
" وَ لَنْ یَّجْعَلَ اللّٰهُ لِلْكٰفِرِیْنَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ سَبِیْلًا۠(۱۴۱)"[1]۔
اور ہر گز اﷲ تعالٰی کافروں کو مومنوں پر کوئی راہ نہیں دے گا۔(ت)
ان سے استعانت ناجائز ہے،رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَفرماتے ہیں:انالانستعین بمشرک[2] (بیشك ہم کسی مشرك سے مدد طلب نہیں کرتے۔ت)جو ایسے کی سپردگی میں مسلمانوں کا کام دے اس نے اللہ ورسول اور سب مسلمانوں کی خیانت کی۔حدیث میں ہے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَفرماتے ہیں:
من استعمل علی عصابۃ رجلا وفیہم من ھوارضی منہ ﷲ فقد خان اﷲ ورسولہ والمؤمنین[3]۔واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
جس نے کسی شخص کو ایسی جماعت مسلمین پر عامل بنایا جس جماعت میں اس سے زیادہ پسندید کوئی شخص موجودہے تو اس نے اللہ تعالٰی ،اس کے رسول صَلَّی عَلَیْہِ
وَسَلَّمَ اورتمام مومنوں سے خیانت کی۔واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم(ت)
مسئلہ۳۵۸: مرسلہ احمد نبی خان از مراد آباد ۲۶شعبان ۱۳۳۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك اہل اسلام عادل اور ثقہ نے بلاتحریر وقف نامہ کے ایك جائداد جس کو عرصہ زائد ایك سوسال کا ہوا،بدون مصارف کے وقف کیا اگرچہ وقف واقف کا کوئی گواہ زندہ نہیں ہے مگر بعد وفات واقف کے تمام مرد عورت عادل وصالح اہل خاندان واقف کے وقتًا فوقتًا متولی ہوتے رہے کبھی کوئی شخص غیر خاندان کا متولی نہیں ہوا اور باعتبار اس عملدرآمد کے منشائے واقف بھی ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ سوائے اہل خاندان صالح اور عادل کے اور کوئی متولی نہ کیا جائے،اب ایك مسماۃ متولیہ اہل خاندان کی نسبت بیان کیا جاتا ہے کہ اس نے ایك شخص غیر خاندان کے نام ایك وصیت نامہ لکھ دیا ہے کہ بعد میرے وہ متولی کیا جائے اہل خاندان واقف جن میں اکثر مرد صالح اور عادل ہیں یہ دعوٰی کرتے ہیں کہ یہ شخص جس کو متولی ہونا بیان کیا جاتا ہے فاسق اورغیر خاندان واقف سے ہے،اس کو بمقابلہ اہل خاندان صالح کے حق تولیت حسب وصیت حاصل ہے یانہیں؟
الجواب:
جس وقف کے شرائط واقف معلوم نہ ہوں اور طول مدت کے سبب گواہان مشاہدہ نہ رہے ہوں اس میں عملدرآمد قدیم پر کارروائی کی جائے۔فتاوٰی خیریہ میں ہے:
قد صرح فی الذخیرۃ بانہ اذااشتبھت مصارف الوقف ینظر الی المعہود من حالہ فیما سبق من الزمان، فیبنی علی ذٰلك لان الظاہر انھم کانوا یفعلون ذٰلك علی موافقۃ شرط الواقف وھوالمظنون بحال المسلمین فیعمل علی ذلک[4]۔
تحقیق ذخیرہ میں تصریح کی گئی ہے کہ اگر مصارف وقف میں اشتباہ ہو تو زمانہ قدیم سے اس وقف میں جاری معلوم کو دیکھا جائے گا اور اسی پر بناء کی جائے گی کیونکہ ظاہر یہی ہے کہ متولیان سابقہ شرط واقف کے مطابق ہی ایساکرتے ہوں گے اور مسلمانوں کے حال کے بارے میں یہی گمان غالب ہے لہذا اسی پر عمل کیا جائیگا۔(ت)
اسی میں کتاب الوقف للخصاف سے ہے:
اذاوجد شرط الواقف فلاسبیل الی مخالفتہ،واذافقد عمل بالاستفاضۃ والاستیمارات العامۃ المستمرۃ من تقادم الزمان[5]۔
جب واقف کی شرط موجود ہوتو اس کی مخالفت کی کوئی راہ نہیں اور اگر شرط واقف مفقود ہو تو قدیم زمانوں سے متولیوں کا جو عملدرآمد اور معمول اس وقف کے بارے میں مشہور ومعروف چلاآرہا ہے اسی پر عمل کیاجائےگا۔(ت)
علاوہ بریں خود حکم شرع ہے کہ جب تك اقربائے واقف میں کوئی شخص لائق تولیت ہو بیگانہ آدمی متولی نہ کیا جائے،درمختار میں ہے:
مادام احد یصلح للتولیۃ من اقارب الواقف لایجعل المتولی من الاجانب،لانہ اشفق ومن قصدہ نسبۃ الوقف الیھم[6]۔
جب تك واقف کے قریبی رشتہ داروں میں کوئی صالح تولیت موجود ہو اجنبیوں میں سے کسی کو متولی نہیں بنایا جائے گا کیونکہ یہ وقف کے معاملہ میں زیادہ شفیق واقع ہوگا اور اس کا مقصد یہ ہوگا کہ وقف کی نسبت اس کے خاندان کی طرف قائم رہے۔(ت)
پھر اس شخص غیر کا فاسق ہونا سب پر طرہ ہے فسق کے بعد تو خود واقف اگر متولی ہوتو وہ بھی معزول کردیا جائے گا نہ کہ اجنبی فاسق کو متولی کیاجائے۔درمختار میں ہے:
ینزع وجوبا ولوالواقف فغیرہ بالاولی غیرمامون او عاجز او ظھربہ فسق کشرب خمرونحوہ،فتح[7]۔
[1] القرآن الکریم۴/ ۱۴۱
[2] سنن ابی داؤد کتاب الجہاد آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۱۹،سنن ابن ماجہ ابواب الجہاد الاستعانۃ بالمشرکین ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۰۸،المصنف لابن ابی شیبہ حدیث۱۵۰۰۹ کتا ب الجہاد ادارۃ القرآن کراچی ۱۲/ ۳۹۵
[3] المستدرک للحاکم کتاب الاحکام الامارۃ اماتہ دارالفکربیروت ۴/ ۹۳۔۹۲
[4] فتاوی خیریہ کتاب الوقف دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۲۳۔۱۲۲
[5] فتاوٰی خیریہ کتاب الوقف دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۱۲۳
[6] درمختار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۹
[7] درمختار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۳
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع