دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 16 | فتاوی رضویہ جلد ۱۶

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۶

بمحمد ن المصطفی النبی الامی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ

مسئلہ۳۵۴:         ازقصبہ حسن پور ضلع مراد آباد مرسلہ منشی ہدایت اللہ صاحب     ۲۴صفر۱۳۲۷ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس امر میں کہ نواب غلام چشی خان صاحب رئیس قصبہ حسن پور ضلع مراد آباد موضع عیسٰی پور بطریق زکوٰۃریاست وموضع بچی کہیر ابطور خیرات حقیت اپنی کواول وقف کیا

 

سال ۱۲۸۴ھ میں اس حقیت موقوفہ کے بابت ایك وصیت نامہ سادہ تحریر کیا جس میں انتظام واہتمام تولیت جائداد موقوف اور مصارف خیر کی بابت شرائط درج کئے،چنانچہ تاحیارت اپنی خود واقف ہر دو مواضعات مذکورہ کے مہتمم رہے اور بعض فوت ان کے نواب محمد عبدالکریم خان صاحب مرحوم یکے از واقف مہتمم مقرر ہو ئے،وصیت نامہ میں واقف نے یہ شرط تحریر کی ہے اقرار یہ ہے کہ حین حیات اپنی آمدنی وپیداوار مواضعات مذکور جو لائق ہووے نسلًا بعد نسلٍ اور بطنًا بعد بطنٍ حسب دستور بطریقہ مستعملہ مجھ گنہگار کے صر ف کرتا ہے،۲۱/اکتوبر ۱۹۰۸ء کو مہتمم ثانی نے وفات پائی،اب دریافت طلب یہ مسئلہ ہے کہ فقرہ نسلًا بعد نسلٍ کے کیا معنی اور مطلب،اور نسل سے منشا واقف کا اپنی اولاد سے ہے یا مہتمم ثانی کی اولاد سے،اور شرعًا بعد فوت ہونے مہتمم ثانی کے اصل واقف کے اولاد میں سے مہتمم مقرر ہونا چاہئے یا مہتمم ثانی کی اولاد میں سے۔بینواتوجروا۔

الجواب:

صورت مستفسرہ میں جب تك واقف کی اولاد صلبی سے کوئی مرد لائق باقی رہے گا اولاد اولاد کو تولیت نہ پہنچے گی،جب ان میں کوئی نہ رہے گا اس وقت اولاد اولاد سے کوئی لائق متولی کیا جائے گا اور ان میں جب تك کوئی رہا تیسرے درجہ سے مقررر نہ کیا جائے گا وعلی ھذا القیاس نسلًا بعدنسلٍ اور بطنًا بعد بطنٍ کے یہی معنی ہیں اس میں واقف کی اپنی اولاد واولاد اولاد واولاد اولاد،اولاد سب داخل ہیں مگر بترتیب کہ سب سے مقدم اولاد پھر اولاد اولاد،اولاد اولاد اولاد الٰی آخر الدہر۔ اسعاف میں ہے:

لایکون للبطن الاسفل شیئ مابقی من البطن الاعلی احدوھکذا الحکم فی کل بطن حتی تنتہی البطون موتا[1]۔واﷲسبحانہ وتعالٰی  اعلم۔

بطن اسفل کو کچھ حق نہ ملے گا جب تك بطن اعلٰی میں سے کوئی ایك موجود ہے،اور یہی حکم تمام بطنوں کا ہے حتی کہ موت کے سبب بطون منتفی ہوجائیں۔واﷲسبحانہ وتعالٰی  اعلم (ت)

مسئلہ ۳۵۵تا۳۵۶:                          مرسلہ حاجی محمد حسین صاحب رئیس ازقصبہ حسن پور ضلع مراد آباد             ۱۸ربیع الاول ۱۳۲۷ھ

سوال اول:کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زیدنے ایك جائداد وقف کی اور دربارہ تولیت یہ شرط تحریر کی کہ بعد میرے میری اولاد سے ایك شخص از قسم ذکور جو لائق ہو

 

نسلًا بعد نسلٍ اور بطنًا بعد بطنٍ حسب دستور مجھ گنہگار کے صرف کرتا رہے،آیا اس عبارت مذکورہ سے واقف کا منشا کسی خاص اولاد کی نسبت یعنی بیٹیوں کی پوتوں کی نسبت ہے یا ا س میں کوئی خصوصیت نہیں ہے۔

سوال دوم:جائداد موقوفہ کے اشخاص ذیل متولی ہوسکتے ہیں یانہیں اور شرعًالفظ لائق کن اشخاص سے مراد ہے؟

(۱)جو باوصف استطاعت بائیس سال سے نہ حج کرتا ہو نہ زکوٰۃ اور نہ عشر دے۔

(۲)جو علانیہ فسق وفجور مبتلا ہو۔

(۳)کیا تارك جماعت لائق متولی ہوسکتا ہے۔

(۴)جو طمع نفسانی سے متولی ہونا چاہے اور جس کو بیحد کوشش تولیت کی ہو۔

(۵)جوسود جائز سمجھ کرلیتا ہو۔

(۶)جو شطرنج اور تاش بازی میں مصروف رہتا ہو وہ قابل تولیت ہے یانہیں؟بینواتوجروا۔

الجواب:

(۱)نہ اس میں ایسا خصوص ہے کہ بعضے طبقات اولاد کواصلًا شامل نہ ہو،نہ ایسا عموم کہ ہر طبقہ کی اولاد معًا مستحق ہو بلکہ وہ جمیع طبقات کو بشرط ترتیب عام ہے یعنی جب تك خاص اولاد صلبی واقف سے کوئی مردلائق تولیت باقی رہے گا پوتے اگرچہ لائق ہوں بلکہ الیق ہوں نہ پاسکیں گے لان الواقف انما شرط اللائق دون الالیق(واقف نے تولیت کےلئے لائق کی شرط لگائی ہے نہ کہ لائق ترین کی۔ت)اور جب اولاد صلبی سے کوئی مرد نہ ہو یاجتنے باقی ہوں ان میں کوئی لائق تولیت نہ ہو تو پوتوں میں جو لائق ہو اسے پہنچے گی اب ان میں کا جب تك کوئی لائق باقی رہے گا پرپوتوں کا استحقاق نہ ہوگا وعلی ھذاالقیاس الی انقراض النسل(اور اسی پر قیاس کرتے چلو یہاں تك کہ اس کی نسل ختم ہوجائے۔ت)اور نواسے بہر حال مستحق نہ ہوں گے جس نے نواسوں کو بھی شمول لکھ دیاخطا کی۔فتاوٰی امام قاضیخاں میں ہے:

ان قال علی ولدی وولد ولدی یصرف الی اولادہ ابدا ما تنا سلوا الاقرب والابعد فیہ سواء الا ان یذکر الا قرب

اگر واقف نے کہا کہ یہ چیز میری اولاد اور اولاد کی اولاد پر وقف ہے،تو یہ وقف اس کی اولاد کی طرف ہی پھیراجائےگا جب تك اس کی اولاد کا سلسلہ جاری رہے گا۔قریب وبعید والے

فالا قرب او یقول بطنا بعد بطن فیبدابما بدأبہ الواقف[2]  (ملخصًا)

اس میں برابر ہوں گے یا ا س نے یوں کہا یہ وقف ایك بطن کے بعد دوسر ے بطن کے لئے ہے تو اسی سے ابتداء کریں گے جس سے واقف نے ابتداء کی ہے(ملخصًا)۔(ت)

اسی میں ہے:

ولدی لایدخل فیہ ولدالبنت فی ظاھر الروایۃ وبہ اخذھلال والصحیح ظاہر الروایۃ[3] (ملخصًا)

واقف کے کلام میں لفظ"ولدی"میں بیٹی کی اولاد داخل نہیں ظاہر الروایۃ کے مطابق اسی کو ھلال نے لیا ہے اور صحیح ظاہرالروایۃہے(ملخصًا)۔(ت)

 



[1]     العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوٰی الحامدیۃ بحوالہ الاسعاف کتاب الوقف ارگ بازار قندھار افغانستان ۱/ ۱۵۳

[2]      فتاوٰی قاضیخان کتاب الوقف فصل فی الوقف علی الاولاد نولکشور لکھنؤ ۴/ ۷۲۹

[3]      فتاوٰی قاضیخان کتاب الوقف فصل فی الوقف علی الاولاد نولکشور لکھنؤ ۴/ ۲۹۔۷۲۸

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن