30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
Translation:- Aking cannot interfere a Waqf against a trustee Authorities in this case the higher officers or governors are not Muhammadan ones and therefor they do not know the schemes of shara as a Muhammadan trustee knows The trustees can discharge an Imam when the Imam leave Sunnia Doctrine or Commets an open sin against Shara or there may be found in him something Which may be the cause of abhorrence which decreases the number of people at prayer or he may be disobedint against the managing rules of affairs of the mosques. Or assesmble of persons at prayers or there may be somthing such in him. Otherwise he will not be discharged without fault. See Raddul Muhtar printed Constantinople volume 3 page 597.
قال فی البحر واستفید من عدم صحۃ عزل الناظر بلا جنحۃ عدمھا لصاحب وظیفۃ فی وقف بغیر جنحۃ وعدم اھلیۃ[1]۔
Translation:-It is said in Bahrur Raiq That as a Mutawali can not be dismissed without fault. From this it is manifest that any receiver of a salary of a Waqf can not be discharged until his fault be proved or he may be proved to be unfit for his duties.
امربرقمہ عبدہ احمد رضاالبریلوی عفی عنہ بمحمد ن
المصطفی النبی الامی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ
ترجمہ مسئلہ۳۵۳: از رنگون مورخہ ۱۹مئی ۱۹۰۸ء
بخدمت جناب مولوی حاجی احمد رضا خاں صاحب محلہ سوداگران بریلی،یوپی۔
مولانائے محترم ! ہم سب آپ کی خدمت میں چند مذہبی امورکے بارہ میں رائے عالی جاننے کےلئے یہ پیش کررہے ہیں اور مختصرًا واقعہ کی طرف توجہ مبذول کراتے ہیں۔یہاں ایك مسجد چولیان مونگ تلااسٹریٹ میں واقع ہے جس کے چنے ہوئے پانچ متولیان ہیں جومسجد کا انتظام اس قانون کے تحت انجام دے رہے ہیں جس کوعدالت العالیہ برمانے مرتب کیا ہے جس کے مطابق متولیوں کو یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ امام،مؤذن اور عملہ کو برخاست کرسکیں،اس قانون کے مطابق متولیان نے ایك مجلس شورٰی کے اندر سید مقبول امام مسجد کو ان کی بیضابطگی،برے چال چلن اور حکم عدولی کے باعث برخاست کردیا،اس برخاستگی کے بعدمتولیوں نے ایك مقدمہ استقراریہ اس امر کا عدالت العالیہ برما میں دائر کیا کہ امام کی برخاستگی مستقل کردی جائے،اب امام نے یہ باز پرس متولیوں کی مجلس قانون سے کی ہے،قانون کاناجائز فائدہ اٹھایا گیا ہے،ان لوگوں کو برخاست کرنے کا حق نہیں ہے۔اس مختصرواقعہ کو پیش کرتے ہوئے نہایت ادب سے التجا کرتے ہیں کہ آپ اس کے متعلق اپنا فتوٰی مرحمت فرمائیں،کیا متولیان کوامام کی برخاستگی کا حق حاصل ہے کہ جب وہ چاہیں برخاست کردیں۔یہ آج کل بہت بڑامسئلہ ممبران چولیان سنی محمڈن کمیونٹی کا بنا ہواہے،ہم لوگ بیحدشکر گزار ہوں گے اگرآپ اپنا فتوٰی ماہ جون کے اوائل ہفتہ میں روانہ فرمادیں فقط۔
آپ کا فرمانبردار خاکسار معتقد
قادر غنی صدر مدرس مسلم ایسوسی ایشن،مونگ تلااسٹریٹ۔
الجواب:
بریلی مورخہ۲۸/مئی۱۹۰۸ء
بخدمت جناب ایم قادر غنی صدر مدرس مسلم ایسو سی ایشن
محترم! آپ کے مراسلہ مورخہ ۱۹/مئی ۱۹۰۸کے مطابق میں اپنا فتوٰی برائے ملاحظہ ارسال کررہاہوں،متولیاں ایك امام کو برخاست کرسکتے ہیں جبکہ کوئی ایسا اختلاف اور وجہ معقول شرعی طور پر پائی جائے(لسان الحکام مطبوعہ مصرص۱۲۳)
ترجمہ:فتاوٰی قاضی خان میں ہے کہ جب امام یا مؤذن کے درمیان کوئی ایسی چیز عارض ہو جس کی وجہ سے وہ چھ ماہ تك مسجد سے غیر حاضر رہے اور ا س نے اپنا کوئی بدل نہ دیا ہو تو اس وقت متولی اس کو برطرف کرسکتا ہے اور دوسرا امام اس کی جگہ مقرر کرسکتا ہے(طحطاوی مطبوعہ مصراور شامی مطبوعہ قسطنطنیہ جلد۳ ص۶۳۹)
ترجمہ:"علامہ بیری زادہ کتاب مذکور میں فرماتےہیں کہ متولی ایك امام کو مسجد سے ایك ماہ کی غیرحاضری پر برطرف کرسکتا ہے"،متولی کو کوئی ضرورت امام کی برطرفی کےلئے عدالت یا کسی افسر بالایا گورنر سے اجازت لینے کی نہیں ہے کیونکہ متولی اپنے اختیار خصوصی سے ان معاملات میں خود اسلامی گورنر جیسا اختیار رکھتا ہے جبکہ متولیان خود ایك اسلامی گورنر کے مقرر کردہ ہوں(اشباہ والنظائر مطبوعہ لکھنؤص۱۷۹منقولہ از فتاوٰی امام رشید الدین)
ترجمہ:ایك قاضی وقف کے کسی معاملہ میں متولی کی موجودگی میں دخل نہیں دے سکتا جبکہ اسی قاضی نے اس کو متولی بنایا ہو۔(حموی شرح اشباہ مطبوعہ لکھنؤ ص۱۷۹منقولہ از فتاوٰی امام ظہیرالدین)
ترجمہ:ایك بادشاہ نے ایك قاضی مقرر کیا اور اس کے بعد قاضی نے وقف کا ایك متولی مقرر کیا،اب بادشاہ کوکوئی تعلق اس وقف سے نہ رہا اور نہ کوئی اختیار اس کو رد وبدل کا باقی رہا۔(لسان الحکام،منقولہ از فتاوی امام ثوری)
ترجمہ:ایك بادشاہ ایك متولی کے معاملہ میں دخیل نہیں ہوسکتاجبکہ حکام بالا یا گورنر جو کہ مسلمان نہیں اور جو اس قانون تولیت سے واقفیت بمقابلہ متولی نہیں رکھتے اس وقت متولی امام کو برخاست کرسکتا ہے جبکہ امام عقائد سنیہ کو ترك کردیتا ہے یا بر ملا شرع کی خلاف ورزی کرتا ہو یا کوئی ایسی چیز پائی جاتی ہو جس سے نماز جماعت میں کمی واقع ہویا کمیٹی کے احکام کی خلاف ورزی کرتا ہو جو مسجدسے متعلق ہو برخاست ہوسکتا ہے۔اس کے علاوہ بغیر کسی قصور کے برخاست نہیں کیاجاسکتا۔(ردالمحتار مطبوعہ قسطنطنیہ ج ۳ص۵۹۷)
ترجمہ:بحرالرائق میں ہے کہ ایك متولی بغیر امام کسی قصور کے برخاست نہیں کیا جاسکتا،اس سے ظاہرہوتا ہے کہ ایك وقف سے تنخواہ پانے والاشخص بغیر کسی قصور کے برخاست نہیں کیاجاسکتا یاجب تك یہ نہ ثابت ہو کہ وہ اپنی ڈیوٹی انجام دینے میں قاصر ہے الگ نہیں کیا جاسکتا۔
امر برقمہ عبدہ المذنب احمد رضاالبریلوی عفی عنہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع