30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صورت مستفسرہ میں متولی سابق پر اس زر معاوضہ کا تاوان لازم ہے جو اس کی جائداد متروکہ سے وصول کیا جائے گا متولی حال پر لازم ہے کہ اسے وصول کرے اور اس میں سستی کو راہ نہ دے بعد وصول جب کہ وہ روپیہ خود عین اراضی موقوفہ کا بدل ہے کسی مصرف میں صرف نہیں ہوسکتا بلکہ لازم ہے کہ اس سے ویسی ہی جائداد خرید کی جائے کہ جائداد رفتہ کی جگہ وقف ہو۔در مختاروعقود الدریہ میں ہے:
الناظر لو مات مجھلا لمال البدل ضمنہ کما فی الاشباہ ای لثمن الارض المستبدلۃ[1]۔
ناظر اگر مرجائے مال بدل مجہول چھوڑ کر تو تبدیل شدہ زمین کے ثمن کاضامن ہوگا جیسا کہ اشباہ میں ہے۔(ت)
نیزدرمختار وردالمحتار میں ہے:
(لایجوز استبدال العامر الافی اربع)الاولٰی لوشرطہ الواقف،
زمین وقف کا بدلنا جائز نہیں سوائے چار صورتوں کے،پہلی صورت یہ کہ واقف نے اگر استبدال
الثانیۃ غصبہ غاصب واجری علیہ الماء حتی صار بحرافیضمن القیمۃ ویشتری المتولی بھا ارضا دلا، الثالثۃ ان یجحدہ الغاصب ولابینہ ای اراد دفع القیمۃ فللمتولی اخذھا لیشتری بھا بدلاالخ [2]واﷲ تعالٰی اعلم۔
کی شرط کی ہو۔دوسری صورت یہ ہے کہ غاصب نے اس کو غصب کیا اور اس پر اتنا پانی بہایاکہ وہ دریا بن گئی تو متولی اس سے ضمان لے کر اس کے بدلے میں دوسری زمین خریدے۔ تیسری صورت یہ کہ زمین وقف کا غاصب انکاری ہے اور متولی کے پاس گواہ نہیں اور غاصب قیمت دینا چاہتا ہے تو غاصب سے قیمت لےکر اس کے عوض متولی دوسری زمین خریدلے الخ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
مسئلہ۳۴۵: مسئولہ مجیداللہ صاحب بتوسط عطا احمد صاحب مولوی محلہ بدایوں ۲۸جمادی الاولٰی ۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی ایك جائداد بلا تخصیص مقام ہر جگہ کے مسلمانوں کی تعلیم کےلئے وقف کی اور ایك خاص قصبہ مدرسہ بنانے کےلئے نامزد کردیا کہ اس قصبہ میں تعلیم گاہ بنائی جائے لیکن کوئی خاص اراضی تعمیر مدرسہ کےلئے وقف نہیں کی گئی اب کسی مجبوری ونیز اس وجہ سے کہ جو قصبہ مدرسہ بنانے کےلئے وقف نامہ میں معین کیا گیاتھا عام مسلمانوں کی تعلیم میں وہاں سہولت نہیں ہے دوسری جگہ اسی غرض تعلیمی کےلئے وہ مدرسہ بنانا چاہتا ہے جہاں عام مسلمانوں کےلئے سہولت ہو،پس یہ تبدیلی مقام شرعًا جائزہے یانہیں،یعنی اگر اس تبدیل شدہ جدید مقام پر مدرسہ بناکر جائداد موقوفہ کی آمدنی اس پر خرچ کی جائے تو جائز ہے یانہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب:
واقف کو ایسی تغییر جائز ہے جبکہ مصلحت وقف اس میں نہیں اس کے خلاف میں ہے۔ردالمحتار میں ہے:
فی فتاوٰی مؤید زادہ اذالم یکونوا اصلح اوفی امرھم تھاون فیجوز للواقف الرجوع عن ھذاالشرط اھ و ھکذا نقلہ عنھا فی شرحہ علی الملتقی ثم نقل عن الخلاصۃ لایجوز الرجوع عن الوقف اذاکان مسجلا ولکن یجوز الرجوع عن الموقوف علیہ وتغییرہ وان کان مشروطا کالمؤذن والامام و المعلم ان لم یکونوااصلح اوتھا ونوافی امرھم فیجوز للواقف مخالفۃ الشرط [3] اھ واﷲ تعالٰی اعلم۔
فتاوٰی مؤیدزادہ میں ہے کہ اگر موقوف علیہ زیادہ صلاحیت والے لوگ نہ ہوں یا وہ اپنے معاملے میں غفلت کرتے ہوں تو واقف کو اس شرط سے رجوع کرلینا جائز ہے اھ اسی طرح ماتن نے فتاوٰی موید زادہ سے ملتقی پر اپنی شرح میں نقل کیا،پھر خلاصہ سے یوں نقل کیا کہ وقف جب رجسٹرڈ ہوتو اس سے رجوع جائز نہیں لیکن موقوف علیہ سے رجوع اور ا سکو تبدیل کرنا جائز ہے اگرچہ مشروط ہو جیسے مؤذن،امام اور معلم،اگر وہ وقف کی زیادہ صلاحیت نہ رکھتے ہوں یا وہ اپنے معاملات میں غفلت اور سستی کا ارتکاب کرتے ہوں تو واقف کے لئے شرط کی مخالفت کرنا جائز ہے اھ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
مسئلہ۳۴۶تا۳۴۷: ازشیخ پور مرسلہ شیخ امین الدین حیدررئیس ۲۹جمادی اولٰی ۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں:
(۱)وقف نامہ ہمرشتہ کے کسی شرط کو واقفان بذریعہ تتمہ دستاویز تبدیل یا ترمیم کرسکتے ہیں یا نہیں؟
(۲)اگر واقفان کسی مصلحت سے مدرسہ کا مقام رقبہ شیخ پور سے کسی دوسرے موضع یا شہر کے رقبہ میں تبدیل کردیں اور مصرف وغرض وقف فوت نہ ہوتو وقف میں نقصان نہ واقع ہوگا۔
الجواب:
(۱)وقف نامہ میں واقفوں نے اگر شرط کردی ہوتی کہ ہم کو تبدیل شرائط کا اختیار ہے تو اختیار ہوتا،اب کہ یہ شرط نہ کی بلاضرورت صحیحہ واجازت شرعیہ کسی تبدیل وترمیم کا اختیار نہیں۔ردالمحتار میں حموی سے ہے:
الوقف اذالزم لزم مافی ضمنہ من الشروط[4]۔
وقف جب لازم ہوتا ہے تو اس کے ضمن میں پائی جانے والی تمام شرطیں لازم ہوجاتی ہیں(ت)
(۲)اگر شیخ پور میں ہونا اغراض وقف کےلئے مفید نہ ہوا اوردوسری جگہ مصلحت شرعی ہوتو واقفوں کو اس تبدیل کی اجازت ہے،عالمگیریہ میں ہے:
اشتراط الاستبدال بارض من البصرۃ لیس لہ ان یستبدل من غیرہا،وینبغی ان کانت احسن ان یجوز،لانہ خلاف الٰی خیرکذافی فتح القدیر[5]۔
[1] العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوٰی الحامدیۃ کتاب الوقف الباب الثالث ارگ بازار قندھار افغانستان ۱/ ۲۱۸
[2] ردالمحتار کتاب الوقف مطلب لایستبدل العامر الافی اربع داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۸۹
[3] ردالمحتار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۴۳۱
[4] ردالمحتار کتاب الوقف فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۴۲۰
[5] فتاوٰی ہندیہ کتاب الوقف الباب الرابع عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۰۰
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع