30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ۳۳۹: ازشہر محلہ بہاری پور مسئولہ غلام ربانی صاحب ۴شعبان المعظم ۱۳۳۷ھ
چہ می فرمایند علمائے دین دریں مسئلہ(کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں۔ت)کہ قبرستان کی آمدنی کا روپیہ مسجد میں صرف کرنا چاہئے یانہیں اور قبرستان کی مالك مسجد ہوسکتی ہے یانہیں؟ہماری شریعت مطہرہ کیا حکم دیتی ہے؟
تفصیل آمدنی:(۱)میت کی چادروں کی قیمت(۲)چادر کے ہمراہ مالك میت نقد دیتا ہے۔(۳)قبرستان میں جو درخت ہیں ان کی لکڑی کی قیمت۔
تفصیل خرچ:مسجد کے کسی حصہ کی تعمیر میں فرش،لوٹے،روغن،رسی،یا رمضان المبارك کے اخراجات میں یہ روپیہ لانا۔
الجواب:
نہ مسجدقبرستان کی مالك ہوسکتی ہے نہ قبرستان کسی مال کا مالك ہوتا ہے۔سائل نے بیان کیا کہ اہل میت اہل محلہ میں کسی کو چادریں اور کچھ نقد دیتے ہیں اور دینے والوں کو معلوم ہے کہ یہ مسجد کے لئے لیتے ہیں،اور درخت بہت قدیم ہے بونے والے کا پتانہیں،جو لکڑی سوکھ جاتی ہے گر پڑتی ہے مسجد کے سقائے وغیرہ میں صرف کی جاتی ہے،اس صورت میں ان سب چیزوں سے مسجد کے وہ سب صرف جائز ہیں کوئی حرج نہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۳۴۰: ازمئوناتھ بھنجن ضلع اعظم گڑھ محلہ الہ داد پورہ مسئولہ صابر حسین صاحب ۴رمضان ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین کہ قبرستان کا مسلمانوں کے کیاحکم ہے اور کیا کرنا چاہئے؟کوئی شخص اس پر کوئی کام دیدہ دانستہ دنیاوی کرے مثلًاتجارت،اور اصرار کرے کہ ہم قبرستان ہی پر کاروبار کرینگے دوسری جگہ نہیں کرینگے،یہ کسی کو برا معلوم ہویا بھلا،اور ساتھ اس کے ہنود کو ملاکر زور دے کہ اس کو کھیت بنائیں اور کسی مصرف میں لے لیں اور مسلمانوں کو بے قبضہ کردیں اور وہاں کے اشجار پربھی قبضہ کرلیں اور یہی کوشش کررہے ہوں اور بصورت انکار قبر کو عندالتحقیقات کھدوادیں وغیرہ وغیرہ تو اس شخص کے ایمان کا کیا حال ہے اور ایسے شخص کی ناحق پر تائید کرنا کیا ہے اور کس جر م کا مرتکب ہوگا۔بینواتوجروا۔
الجواب:
مسلمانوں کاعام قبرستان وقف ہوتا ہے اور اس میں سوائے دفن کے اور تصرف کی اجازت نہیں اسے تجارت گاہ بنانا یا اس پر کھیت کرنا سب حرام ہے۔فتاوٰی عالمگیریہ میں ہے:
لایجوز تغییر الوقف عن ھیأتہ[1]۔
وقف کی ہیئت کو تبدیل کرنا جائز نہیں۔(ت)
اشباہ وغیرہامیں ہے:
شرط الواقف کنص الشارع فی وجوب العمل بہ[2]۔
واقف کی شرط وجوب عمل میں شارع علیہ الصلٰوۃ والسلام کی نص کی مثل ہے(ت)
اور مسلمان کی قبر کو کھودنا تو نہایت سخت شدید جرم ہے،اسلامی سلطنت ہو تو ایسا شخص سخت تعزیر کا مستحق ہے یہاں تك کہ سلطان اسلام کی اگر رائے ہوتو جو ایسی حرکات کا مرتکب ہواکرتا ہوا سے سزائے قتل دے سکتا ہے،جو شخص ناحق پر اس کی تائید کرتے ہیں سب اسی کی طرح مرتکب جرم ومستحق سزا ہیں۔
قال اﷲ تعالٰی ” وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ۪ "[3]
اللہ تعالٰی نے فرمایا:گناہ اور ظلم پر تعاون مت کرو۔(ت)
حدیث میں ہے نبی صَلَّی اللہُ تعالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَفرماتے ہیں:
من مشی مع ظالم لیعینہ وھو یعلم انہ ظالم فقد خلع من عنقہ ربقۃ الاسلام [4]۔
جو دانستہ کسی ظالم کی امداد کو چلے اس نے اپنی گردن سے اسلام کی رسی نکال دی۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۳۴۱تا۳۴۴: مسئولہ احمد نبی خاں صاحب از مراد آباد ۲۲صفر۱۳۳۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین مبین سوالات مفصلہ میں:
(۱)جزوجائداداراضی موقوفہ کاروپیہ معاوضہ سرکار انگریزی سے متولی جائداد کو ملا،اس روپیہ کو متولی کو کیا کرنا چاہئے؟ آیا جائداد خرید کرکے شامل جائداد موقوفہ کرنا چاہئے یا کسی مصارف خاص میں یا عام مصارف جائز میں اس رقم کا صرف کرنا جائز ہے؟
(۲)متولی فوت ہوگیا اور اس نے اپنے زمانہ حیات میں اس روپیہ معاوضہ مذکور سے کوئی جائداد خریدکرکے شامل جائداد موقوفہ نہیں کی اور روپیہ معاوضہ مذکور کا کوئی مصرف جائز بھی کسی قسم کااس کی حیات میں ظاہر نہیں ہوا اور اکثر اوقات متولی متوفی اور اس کے مختار عام اور سربراہ کاریہ ظاہرکرتے رہے کہ ہنوز کوئی جائداد متصل موقوفہ کے دستیاب نہیں ہوئی ہے کوشش کی جاتی ہے جس وقت کوئی جائداد فروخت ہوئی خرید کرکے شامل وقف کی جائے گی۔
(۳)متولی متوفی نے اپنی جائداد مملوکہ ومقبوضہ چھوڑی ہے جس پر اس کے وارثان قابض ودخیل ہیں۔
(۴)متولی حال کا بحالت موجودہ کیا فرض ہے،آیا وارثان متولی متوفی سے روپیہ مذکور طلب کرنے اور اس کی جائداد متروکہ سے وصول کرنے کا عندالشرع مستحق ہے یانہیں؟بینواتوجروا۔
الجواب:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع