دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 16 | فتاوی رضویہ جلد ۱۶

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۶

عندھما الوقف لازم بغیر ھذہ التکلفات،والناس لم یأخذوابقول ابی حنیفۃ رحمہ اﷲ فی ھذا للاثار المشہورۃ عن رسول اﷲ صَلَّی اللہُ تعالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَو الصحابۃ، وتعامل الناس باتخاذ الرباطات و الخانات اولھا وقف

صاحبین کے نزدیك وقف ان تکلفات کے بغیر لازم ہوجاتا ہے اور لوگوں نے اس مسئلہ میں امام ابوحنیفہ کے قول کو نہیں اپنایاکیونکہ متعدد آثار رسول اللہ  صَلَّی اللہُ تعالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَاور صحابہ کرام رضوان اﷲ تعالٰی  علیہم سے اور لوگوں کا تعامل خانقاہیں اور سرائیں بنانے کے بارے میں منقول ہے

الخلیل صلوات اﷲ وسلامہ علیہ[1]۔

ان میں سے پہلا وقف حضرت خلیل علیہ الصلوات والسلام کا ہے۔(ت)

اور جب اس زمین میں زمینداروں کا اصلًا کوئی حق نہیں تو اس کی لکڑی اور گھاس پر ان کو کیا دعوٰی پہنچ سکتا ہے،زمین خالص خدا کی ملك ہے گھاس بھی،اور لکڑی کے مالك پیڑوں کے بونے والے ہیں جو انہوں نے فقیر پر تصدق کردئے،بہرحال زمینداروں کا ان میں کچھ دعوٰی نہیں۔فتاوٰی قاضیخان میں ہے:

مقبرۃ فیھا اشجاران علم غارسھا کانت للغارس اھ [2] مختصرًا۔

ایك قبرستان میں کچھ درخت ہیں اگر ان کا بونے والا معلوم ہے تو اسی کے ہیں اھ مختصرًا(ت)

قبرستان میں جو گھاس اگتی ہے جب تك سبز ہے اسے کاٹنے کی اجازت نہیں۔جب سوکھ جائے تو کاٹ کر جانوروں کےلئے بھیج سکتے ہیں مگر جانوروں کا قبرستان میں چرانا کسی طرح جائز نہیں مطلقًا حرام ہے قبروں کی بے ادبی ہے،مذہب اسلام کی توہین ہے،کھلی مذہبی دست اندازی ہے،ردالمحتار میں بحرالرائق اور درر الحکام اورغنیہ اورامداد الفتاح اورفتاوٰی قاضیخان سے ہے:

یکرہ قطع النبات الرطب من المقبرۃ دون الیابس[3]۔

قبرستان سے تر گھاس کاٹنا مکروہ ہے خشك کاٹنا مکروہ نہیں۔ (ت)

فتاوٰی عالمگیری میں ہے:

لوکان فیہا حشیش یحش ویرسل الٰی الدواب ولا ترسل الدواب فیہا کذافی البحرالرائق[4]۔

اگر قبرستان میں گھاس ہوتو کاٹ کر چو پاؤں کی طرف ڈالی جائے نہ کہ چوپاؤں کو اس کی طرف چھوڑاجائے،جیسا کہ البحر الرائق میں ہے(ت)

زمینداروں سے معاہدہ افتادہ زمین کی بابت ہوا تھا جب وہاں قبریں ہوگئیں زمین افتادہ کب رہی،اور اگر کوئی غلط وباطل وخلاف شرع حق تلفی اموات مسلمین کا معاہدہ کسی نے اپنی جہالت سے خواہ دیدہ ودانستہ کرلیا تو وہ معاہدہ مردود ہے اس پر عملدرآمد ہر گز نہ ہوگا نہ اس کے فسخ کی ضرورت ہے،فسخ تو جب کیا جائے کہ وہ معاہدہ سمجھا بھی جائے وہ معاہدہ ہی نہیں ایك بیہودہ و بے معنی تحریر ہے۔ ہمارے نبی صَلَّی اللہُ تعالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَفرماتے ہیں:

مابال اناس یشترطون شروطالیست فی کتاب اﷲ، من اشترط شرطا لیس فی کتاب اﷲ فلیس لہ (وفی روایۃ فھو باطل) وان شرط مائۃ مرۃ شرط اﷲ احق و اوثق[5]،رواہ الشیخان عن ام المومنین رضی اﷲ تعالٰی  عنہا۔واﷲتعالٰی  اعلم۔

ان لوگوں کا کیا حال ہے جو ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو اﷲ تعالٰی  کی کتاب میں نہیں،جس نے ایسی شرط لگائی جو کتاب اللہ  میں نہیں،تو وہ اس کےلئے نہ ہوگی،اور ایك روایت میں ہے کہ وہ باطل ہے،اگر سوبارشرط لگائے اﷲ تعالٰی  کی شرط زیادہ حق والی اور زیادہ پختگی والی ہے۔اس کو شیخین نے ام المومنین(سیدہ عائشہ صدیقہ)رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت کیا۔واﷲ تعالٰی  اعلم(ت)

مسئلہ۳۳۸:            ازقصبہ جائس ضلع رائے بریلی محلہ غور یاں کلاں مرسلہ محمد حسن صاحب      ۸جمادی الاولٰی ۱۳۳۶ھ

اہالیان جائس کا دستور قدیم رہا ہے کہ اپنے مقابر میں مساجد بھی بنادیا کرتے تھے جس پر مسافران و خود اہالیان قصبہ وقف بے وقف نماز ادا کیا کرتے تھے زمانہ کے دستبرد سے بعض ایسی مسجدیں تودہ خشت بن کر رہ گئیں اور بعض اب بھی موجود ہیں ایسے تود ہائے خاك وخشت کو فضیلت مسجد حاصل ہے یانہیں اور وہ مسجد کے حکم میں ہے یا نہیں ؟ اگرنہیں ہے تو آیا وہاں اینٹوں کو فروخت کرکے اپنے صرف میں لانایا اس قطعہ زمین میں اپنا مسکن بنانا یا مزروعہ کرکے کاشت میں لانادرست ہے یانہیں؟اور اگر کسی نے ایسا کیا ہے تو اس کے لئے کیا حکم ہے؟

الجواب:

مقبرہ اگر وقف ہے اور مقابر عامہ غالبًا وقف ہی ہوتے ہیں تو جو مسجد واقف نے قبل وقف بنائی کہ اتنے حصہ کو مسجد اور باقی کو مقبرہ کیا وہ ابد الآباد تك مسجد ہے اگرچہ ویران ہوجائے ھو الصحیح وبہ یفتی(یہی درست ہے اور اسی پر فتوٰی ہے۔ت)اس حالت میں تو اس کا آباد کرناواجب اور اس میں آداب مسجد لازم،اور اسے زراعت وغیرہ سے اپنے تصرف میں لانا حرام،اوراگر زمین مقبرہ کےلئے وقف ہوچکی تھی،اس کے بعد اس کے کسی حصہ کو مسجد کیا اگرچہ خود واقف نے تو وہ مسجد نہیں ہوسکتا،نہ آداب مسجد کا مستحق،مگر ذاتی تصرف زراعت وغیرہ اس میں بھی حرام کہ وہ مقبرہ کےلئے وقف ہے اور مقبرہ تصرفات سے آزاد،اور اگر وہ مقبرہ وقف نہیں جیسے دیہات میں مالکان دیہہ کی اجازت سے لوگ دفن ہوتے ہیں بے اسکے کوئی قطعہ مقابرکے لئے معین کرکے وقف کیا جائے اس میں اگر مالك نے مسجد بنائی یا دوسرے نے،اور مالك نے اسے جائز کیا تو وہ مسجد ہوگئی،اور اس کا وہی حکم ہے جو پہلے گزرا کہ اس کا ادب لازم،اور اس میں تصرف حرام،بشرطیکہ وہ زمین خالی میں بنائی گئی ہو،نہ قبور پر کہ قبروں کی زمین صالح مسجد یت نہیں اور اگر غیر مالك نے بنائی اور مالك نے جائز نہ کیا تو وہ مسجد نہیں،مالك کو اس میں تصرف کا اختیار ہے۔واﷲ تعالٰی  اعلم۔

 



[1]      فتاوٰی امام قاضی خاں  کتاب الوقف نولکشور لکھنؤ ۴/ ۷۰۹

[2]      فتاوٰی امام قاضی خاں  کتاب الوقف  فصل فی الاشجار نولکشور لکھنؤ ۴/ ۷۲۴

[3]      ردالمحتار کتاب الصلٰوۃ باب صلٰوۃ الجنائز داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۶۰۶

[4]      فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الثانی  نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۷۱

[5]        صحیح البخاری کتاب الشروط باب الشروط فی الولاء قدیمی کتب خانہ پشاور ۱/ ۳۷۷،صحیح مسلم کتاب العتق باب بیان ان الولاء لمن اعتق قدیمی کتب خانہ پشاور  ۱/ ۴۹۴

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن