30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ردالمحتار میں ہے:
قال الامام العینی فی شرحہ علی صحیح البخاری یلحق بمانص علیہ فی الحدیث کل مالہ رائحۃ کریھۃ ماکولا او غیرہ،وکذٰلك الحق بعضہم من بفیہ بخراوبہ جرح لہ رائحۃ وکذلك القصاب والسماك والمجذوم والابرص اولٰی بالالحاق،وقال سحنون لااری الجمعۃ علیھماواحتج بالحدیث و الحق بالحدیث کل من اذی الناس بلسانہ وبہ افتی ابن عمر(رضی اﷲ تعالٰی عنہما)وھو
امام عینی نے اپنی شرح صحیح بخاری میں فرمایا کہ حدیث کے ساتھ ہر اس شیئ کو ملحق کیا جائے گا جس میں ناگوار بدبو ہو چاہے کھانے کی چیز یا کوئی اور،اسی طرح بعض نے ملحق کیا اس شخص کو بھی جس کے منہ سے بدبو آتی ہو یا اس کوایسا زخم ہو جس سے ناپسندیدہ بو آتی ہو،اسی طرح قصاب،مچھلی کا گوشت بیچنے والا اور جذام وبرص کا مریض۔تو الحاق کےلئے اولٰی ہے۔اور سحنون نے کہاکہ میں ان دونوں(مجذوم و ابرص)پر جمعہ فرض نہیں سمجھتا اور دلیل حدیث کو قرار دیا اور حدیث کے ساتھ زبان سے لوگوں کو ایذادینے والے ہر شخص کو ملحق کیا گیا ہے اور حضرت ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے اس پر ہی فتوٰی دیا اور
اصل فی نفی کل من یتأذی بہ [1] اھ بالاختصار۔
یہ اصل ہے ہر اس چیز کی نفی میں جس سے اذیت پہنچتی ہو اھ(اختصارا)۔(ت)
مگر مقبرہ اہلسنت میں کسی سنی مسلمان کو ممانعت نہیں ہوسکتی،
لعدم الوجہ وحصول الاذن من جھۃ الشرع۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
کیونکہ ممانعت کی کوئی وجہ نہیں اور شرع کی طرف سے اذن حاصل ہے۔(ت)واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۳۳۴: ازبانٹوہ ملك کاٹھیاوار مرسلہ مولوی محمد عبدالمطلب ۱۱ ربیع الاول شریف ۱۳۳۲ھ
چہ می فرمایند علمائے دین ومفتیان شرع متین اندریں مسئلہ(کیافرماتے ہیں علمائے دین اور شرع متین کے مفتیان کرام اس مسئلہ میں کہ۔ت)ایك مرد نے مقبرہ بنایایعنی گنبد پختہ سطح دار اوراس میں صندوقیں تیار کرائیں اور ایك مسجد نیز اس مقبرہ کے جوار میں بناء کی اوراب وہ چاہتا ہے کہ اس مقبرہ مذکورکو مسجد کے سطح کے ساتھ ملاکر برائے بانگ ونماز وقف کردیا جائے اور اب ایسے مقبرہ کی سطح پر نماز پڑھنا درست ہے کہ جس میں حالًا دو تین میت مدفون کی گئی ہیں اور آئندہ نیز ہوں گی اور اس کی سطح کو مسجد سے ملانا اور وقف کرنا برائے بانگ نماز شرعًا درست ہے یانہ؟بحوالہ کتب معتبرہ جواب سے مشکور وممنون فرمائیں۔
الجواب:
اگر زمین مقبرہ اس کی ملك ہے اور اب تك اس نے وقف نہ کی اگرچہ بعض اموات اس میں دفن ہوگئیں تو اگر صرف اس کی چھت کو وقف کرے گا اور زمین بدستور اپنی ملك رکھے گا تو وہ چھت وقف نہ ہوگی لکونہ وقف منقول قصدامن دون تعارف(کیونکہ یہ وقف منقول ہے قصدًا بغیر تعارف کے۔ت)اور اگر زمین کو بھی مسجد کے لئے وقف کردے گاتو چھت کا وقف بھی صحیح ہوجائے گا اور اگر زمین کو مقبرہ کیلئے وقف کرچکا ہے تو عمارت مقبرہ قبل از وقف بنائی ہے یابعد،اگر قبل از وقف بنائی ہے تو کچھ حرج نہیں،چھت کو اذان ونماز کے لئے وقف کردے ہوجائے گی
لحصول التابید بوقفیۃ الاخری وان کانت موقوفۃ علی جھۃ اخری علی ماھو الاصح ووقف البناء علی المقابر لایصح کما فی الخانیۃ والھندیۃ
کیونکہ دوسری مرتبہ وقف کرنے سے تابید ودوام حاصل ہوجائے گا اگرچہ وہ دوسری جہت پر موقوف تھی زیادہ صحیح قول کے مطابق اور عمارت کو قبرستان پر وقف کرنا صحیح نہیں جیسا کہ خانیہ وہندیہ
وغیرہما فھو علی مبلکہ ولہ وقفہ علی مایشاء۔
وغیرہ میں ہے چنانچہ وہ اس کی ملك میں ہے اور اس کو اختیار ہے جس پر چاہے وقف کرے(ت)
اوراگر بعد وقف بنائی ہے تو یہ عمارت خود ہی ناجائز ہے کہ مقابر موقوفہ میں عمارت بنانے کی اجازت نہیں تو اس پر اذان وغیرہ کےلئے بھی چھت بنانا بھی نہیں ہوسکتا لانہ یستحق الازالۃ لاالادامۃ(کیونکہ وہ مستحق ہے اس بات کی کہ اس کو زائل کیا جائے نہ کہ اس کو دوام بخشا جائے۔ت)اسی طرح وہ زمین مقبرہ اس کی ملك نہ تھی بلکہ وہ قبرستان وقف تھا جس میں اس نے عمارت بنالی جب بھی حکم عدم جواز ہے، واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ۳۳۵: مسئولہ سید مظفر علی صاحب مدرس مدرسہ کریمہ خانقاہ سلون ضلع رائے بریلی ۳۰ربیع الثانی ۱۳۳۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین وواقفان شرع متین اس مسئلہ میں،قبرستان کہ جس میں بہت سی قبریں مومنین ومومنات کی ہیں ستون سے مسقف کرکے کہ سب قبریں چھت کے نیچے رہیں اس چھت پر چلے پھرے اور بیٹھے اٹھے اور دوسرے حوائج انسانی ادا کرے تو عندالشرع جائز ہے یاناجائز؟بینواتوجروا۔
الجواب:
اگر وہ قبرستان وقف ہے جیسے کہ عام مقابر ہوتے ہیں تو زمین وقف میں اس کے خلاف تصرف کی اجازت نہیں ہوسکتی فی الھندیۃ لایجوز تغییرہ الوقف عن ھیأتہ[2] (ہندیہ میں ہے کہ وقف کو اس کی ہیأت سے متغیر کرنا جائزنہیں۔ت)اور اگر ملك غیر ہے تو اس میں بے اجازت مالك تصرف ناجائز ہے،
قال صَلَّی اللہُ تعالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ لیس لعرق ظالم حق[3]۔
رسول اللہ صَلَّی اللہُ تعالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا کہ عرق ظالم کا کوئی حق نہیں(ت)
اور اگر اس کی اپنی ملك ہے تو اس طرح مسقف کرنا کہ دیوار یا پایہ عین کسی قبر پر نصب ہو جائز نہیں کہ اس میں میت کی ایذاء ہے کما نطقت بہ احادیث اوردناھافی الامر باحترام المقابر(جیسا کہ متعدد حدیثیں اس پر ناطق ہیں جن کو ہم نے"الامر باحترام المقابر"میں ذکرکیا ہے۔ت)اور مسلمان کی ایذاحیًاہو یا میتًا ہرطرح حرام ہے،
قال صَلَّی اللہُ تعالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَیا صاحب القبر انزل من علی القبر لاتؤذی صاحب القبر ولایؤذیك [4] وفی حدیث عبداﷲ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہانی اکرہ اذی المسلم فی مماتہ کما اکرہ اذاہ فی حیاتہ[5]۔
[1] ردالمحتار کتاب الصلٰوۃ باب مایفسد الصلٰوۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۴۴۴
[2] فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الرابع عشر فی المتفرقات نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۹۰
[3] صحیح البخاری کتاب الحرث والمزارعۃ باب من احیاء ارضا ومواتا قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۱۴،سنن ابوداؤد کتاب الخراج باب احیاء التراث العربی بیروت آفتاب عالم پریس لاہور ۲ / ۸۱
[4] الترغیب والترھیب بحوالہ الطبرانی الترھیب من الجلو س علی القبر مصطفی البابی مصر ۴/ ۳۷۴،مرقاۃ المفاتیح بحوالہ الطبرانی باب فی دفن المیت الفصل الاول مکتبہ امدادیہ ملتان ۴/ ۶۹،مجمع الزوائد باب البناء علی القبور دارالکتاب بیروت ۳/ ۶۱
[5] مرقاۃ المفاتیح بحوالہ سعید بن منصور،باب فی دفن المیت الفصل الاول،مکتبۃ امدادیہ ملتان ۴/ ۶۹و۷۹
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع