دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 16 | فتاوی رضویہ جلد ۱۶

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۶

تعمیر منہدم ذمہ مسجد ہونے کے کیا معنی،توبعد تنقیح تام اس مختل عبارت کامحصل یہ نکلاکہ مقرین نے یہ تمام جائداد فی الحال وقف کی اور مصارف میں یہ شرط لگائی کہ تاحیات مشہدی بیگم کے تصرف میں رہیں بشرطیکہ وہ بہ عفت بسر کرے اور دوسرانکاح نہ کرے اس وقت تك آمدنی اس کے لئے ہے اور شکست ریخت کی مرمت اس کے ذمہ ہے منہدم کی تعمیر مسجد خود کرے،تو اگرچہ جائدادفی الحال وقف ہے مگرآمدنی سے حق مشہدی بیگم بشرط مذکور متعلق ہے اگر یہ شرط مفقود ہو یعنی مشہدی بیگم نکاح کرلے یا عفت سے بسر نہ کرے تو اس وقت یہ جائداد ذات و منافع دونوں کے لحاظ سے خالص مسجد پر وقف متصور ہوگی یعنی آمدنی سے بھی مشہدی بیگم کوکوئی تعلق نہ رہے گا،یہ اس اقرار نامہ کا محصل منقح ہے،

وتصحیح الکلام اولٰی من اھمالہ مھما امکن [1] کما نصوا لہ علیہ فی الاشباہ وغیرہا۔

کلام کو حتی الامکان صحیح بنانا اس کو مہمل بنانے سے اولٰی ہے، جیساکہ اشباہ وغیرہ میں مشائخ نے اس پر نص فرمائی ہے(ت)

لہذا جائداد مذکور تمام وکمال مسجد بی بی جی صاحبہ پر وقف صحیح تمام نافذ ہوگئی مشہدی بیگم تا حیات وپابندی شرط مذکور صرف آمدنی کی مستحق ہے اور شرط مذکورکی پابندی نہ کرے تو آمدنی بھی خالص صرف مسجد کی ہوگی مشہدی بیگم کو اس سے تعلق نہ رہے گا،ماہوار کہ عبدالشکور خان وحاجی عبدالرحمٰن خان نے مقررکیا وہ ایك وعدہ ہے جس کا نباہنا ان کو مناسب ہے مگر مشہدی بیگم اس پر مجبور نہیں کرسکتی اگرچہ وہ شرط مذکور کی پابند بھی رہے مکان سے لادعوٰی صحیح نہیں لان الابراء عن الاعیان باطلۃ(کیونکہ اعیان سے برائت باطل ہے۔ت)اگر وہ داخل وقف نہ تھا تو حسب شرائط فرائض بعد ادائے مہر وغیرہ اس کا چہارم مشہدی بیگم کا اور تین حصے عبدالشکور خاں کے۔واﷲ تعالٰی  اعلم۔

مسئلہ۳۳۲:ہدایت یارخاں از شاہ پور جہلم رسالہ چھاؤنی نمبر۵ڈاکخانہ چك نمبر۳۸رسالہ براہ ملك پنجاب ۹جمادی الثانی ۱۳۳۴ھ

بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم،یافتاح،بخدمت فضیلت پناہ،عالی دستگاہ،جناب فیض مآب پیر صاحب،دام اﷲ تعالٰی  فیضکم، السلام علیکم ورحمۃ اللہ  علیکم،واضح رائے عالی ہو کہ ایك مسجد شریف ایك آبادی میں تھی،اب وہ لوگ وہاں سے چلے گئے اور وہ مسجد جنگل میں رہ گئی اس مسجد قدیم کا اسباب اٹھاکر دوسری مسجد جو بنائی جائے درست ہے یا نہیں؟بینواتوجروا۔خداتعالٰی  سایہ رحمت تا دیر برسر ماغریباں قائم رکھے،آمین ثم آمین!

الجواب:

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ  وبرکاتہ،۔اگر اس مسجد کے آباد رکھنے،حفاظت کرنے کا کوئی طریقہ نہ ہو اور یوں جنگل میں چھوڑ دی جائے گی تو چور اور متغلب لوگ اس کا مال لے جائیں گے تو جائز ہے کہ اس کا اسباب وہاں سے اٹھاکر دوسری جگہ مسجد بنائیں اور یہ کام ہوشیار اور دیانتدار مسلمانوں کی نگرانی میں ہو وھو اعلم فقط۔

مسئلہ ۳۳۳:            ۱۳ذی القعدہ ۱۳۲۲ھ

کیافرماتے علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جب میت کے واسطے دفن کرنے کے لے جاؤ،اور دفن کرو تو اجازت متولی قبرستان کی واسطے دفن کرنے میت کے لینا ضرورہے اور عمرو کہتا ہے کہ قبرستان اور مسجد وقف ہیں وہ کسی کی ملکیت نہیں ہوتے ہیں اجازت لینے کی کچھ ضرورت نہیں،اگر قبرستان میں اجازت کی ضرورت ہوگی تو مسجد میں بھی بلااجازت نماز پڑھنا درست نہ ہوگا،متولی صرف مسجد کے جھاڑو وغیرہ دینے کو ہوتا ہے ایسے ہی تکیہ میں واسطے صفائی کے ہوتا ہے جس کو تکیہ دار کے نام سے پکارتے ہیں تکیہ اور مسجدعام مسلمانوں پر وقف ہے جس کا دل چاہے جس مسجد میں نمازپڑھے اور جس قبرستان میں چاہے اپنا مردہ دفن کرے۔بینواتوجروا۔

الجواب:

زید غلط کہتا ہے،اس کا قول شرع شریف پرمحض افتراء ہے،مقبرہ عام مسلمانوں کے لئے وقف ہوتا ہے،ہر مسلمان کو اس میں دفن کاحق پہنچتا ہے،مقبرہ کا متولی کوئی چیز نہیں،نہ اس کی اجازت کی حاجت نہ ممانعت کی پرواہ ہے۔ عالمگیری میں ہے:

لافرق فی الانتفاع فی مثل ھذہ الاشیاء بین الغنی و الفقیر حتی جازللکل النزول فی الخان والرباط و الشرب من السقایۃ والدفن فی المقبرۃ کذافی التبیین[2]۔

ان اشیاء سے انتفاع حاصل کرنے غنی وفقیر کے درمیان کوئی فرق نہیں یہاں تك کہ ہر شخص کو سرائے اور خانقاہ میں نزول کاحق ہے اسی طرح ہرشخص وقف سبیل سے پانی پی سکتا ہے اور قبرستان میں مردہ دفن کرسکتا ہے۔یونہی تبیین میں ہے (ت)

اسی میں ہے:

لوبنی مسجدًا لاھل محلۃ وقال جعلت

اگر کسی نے ایك محلہ والوں کےلئے مسجد بنائی اور

ھذاالمسجد لاھل ھذاالمحلۃ خاصۃ،کان لغیراھل تلك المحلۃ ان یصلی فیہ ھکذا فی الذخیرۃ[3]۔

کہہ دیا کہ میں نے یہ مسجد خاص اس محلہ والوں کےلئے بنائی ہے تو اس محلہ والوں کے غیر کوبھی اس میں نماز پرھنے کا اختیار ہے،اسی طرح ذخیرہ میں ہے۔(ت)

بلکہ مقبرہ کا عموم مسجد کے عموم سے بھی بہت زیادہ ہے بہت لوگ ہیں جنہیں مسجد سے روکنے کا حکم ہے مثلًا جذامی اور ابرص جس کا برص شائع ہو یا جس کے منہ یا بدن یا لباس میں بدبو ہو یا جس کے آنے سے فتنہ اٹھے جیسے غیر مقلد وہابی یا رافضی وغیرہم،درمختار میں ہے:

اٰکل نحوثوم یمنع منہ(ای من المسجد)وکذاکل موذ ولو بلسانہ[4]۔

تھوم کھانے والے کو مسجد سے روکا جائے گا اسی طرح ہر موذی کو روکا جائے گا اگرچہ وہ زبان سے ایذاپہنچاتا ہو۔(ت)

 



[1]      الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ التاسعۃ ادارۃ القرآن الکریم ۱/ ۱۶۸

[2]      فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الثانی عشر فی الرباطات نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۶۶

[3]      فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقف الباب الحادی عشرفی المسجد نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۵۸۔۴۵۷

[4]      درمختار کتاب الصلٰوۃ باب مایفسد الصلٰوۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۹۴

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن